گلشن اقبال میں نومولود کو عمارت سے پھینکنے کا واقعہ، پولیس کو اہم شواہد مل گئے

بدھ 12 اگست 2026 16:11

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 اگست2026ء) شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال بلاک 13، ڈی ٹو میں نومولود بچی کو رہائشی عمارت کی بالائی منزل سے پھینکے جانے کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ بچی کو عمارت سے نیچے پھینکے جانے کے وقت وہ زندہ تھی۔پولیس ذرائع کے مطابق نومولود بچی کی عمر تقریباً 3 سے 4 دن معلوم ہوتی ہے جبکہ ابتدائی شواہد سے امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اسے رائل آئیکون اپارٹمنٹ کی بالائی منزل سے عمارت کے ڈکٹ ایریا میں پھینکا گیا۔

پولیس کو عمارت کی مختلف منزلوں پر خون کے چھینٹے اور دیگر نشانات بھی ملے ہیں، جنہیں تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ نومولود کی پیدائش چھپانے کی نیت سے اسے عمارت کے ڈکٹ میں پھینکا گیا۔

(جاری ہے)

واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور جائے وقوعہ کا معائنہ کرکے شواہد اکٹھے کیے۔

پولیس کے مطابق گلشن اقبال تھانے میں واقعے کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں متعلقہ قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں جبکہ واقعے میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔پولیس نے نومولود بچی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا، جہاں طبی معائنے کے علاوہ ڈی این اے اور سیرولوجی ٹیسٹ کے لیے نمونے بھی حاصل کرکے محفوظ کرلیے گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹس سے واقعے کی مزید کڑیاں جوڑنے میں مدد ملے گی۔دوسری جانب پولیس نے عمارت کے رہائشیوں اور دیگر متعلقہ افراد سے بھی معلومات حاصل کرنا شروع کردی ہیں، جبکہ عمارت میں نصب ممکنہ نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لیے جانے کا امکان ہے تاکہ نومولود کو عمارت کی کس منزل سے اور کس نے ڈکٹ میں پھینکا، اس کا تعین کیا جاسکے۔

پولیس حکام کے مطابق نومولود کی لاش قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد تدفین کے لیے ایدھی ہوم سہراب گوٹھ منتقل کردی گئی ہے، جبکہ لیڈی میڈیکو لیگل افسر سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔حکام نے کہا کہ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد یہ تعین کرنے میں مزید مدد ملے گی کہ نومولود کی موت عمارت سے پھینکے جانے کے نتیجے میں ہوئی یا اس سے قبل کوئی اور واقعہ پیش آیا تھا۔ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔