نوجوانوں کو آن لائن ہراسانی اور متعصب الگورتھم سے خطرہ

یو این جمعہ 14 اگست 2026 03:15

نوجوانوں کو آن لائن ہراسانی اور متعصب الگورتھم سے خطرہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 اگست 2026ء) اقوام متحدہ خبردار کیا ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 15 سے 24 سال عمر کے نوجوانوں کو گمراہ کن معلومات، آن لائن ہراسانی، الگورتھم کے تعصبات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بدنیتی پر مبنی استعمال سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔

12 اگست کو منائے جانے والے نوجوانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے جاری کیے گئے ایک پالیسی بیان میں اقوام متحدہ نے رکن ممالک، ٹیکنالوجی کی کمپنیوں، مشتہرین، ذرائع ابلاغ اور محققین پر زور دیا ہے کہ وہ آن لائن دنیا میں نوجوانوں کے تحفظ اور متعلقہ فیصلوں میں ان کی شمولیت کو ترجیح دیں تاکہ ان نقصانات کو روکا جا سکے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے گزشتہ ماہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو ایسی غیر آزمودہ دوا سے تشبیہ دی تھی جس کے استعمال سے قبل اس کے اثرات کا مکمل علم نہ ہو۔

(جاری ہے)

انہوں نے جولائی میں مصنوعی ذہانت کے انتظام سے متعلق پہلے عالمی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بچے کو غیر منظم مصنوعی ذہانت کی تجربہ گاہ نہیں بننا چاہیے۔ جب کسی بچے کو نقصان پہنچے تو جواب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایسا الگورتھم کے سبب ہوا۔

'آن لائن نقصانات اتفاقی نہیں'

بیان میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کو درپیش آن لائن نقصانات محض اتفاقی نہیں بلکہ ایسے کاروباری نمونوں (ماڈلز) کا نتیجہ ہیں جو صارفین کی توجہ اور ذاتی معلومات سے منافع کماتے ہیں۔

اس میں ٹیکنالوجی کے ڈیزائن سے متعلق ایسے فیصلوں کا بھی حصہ ہے جو صارفین کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھنے اور ان کے اخراجات بڑھانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ بچے خاص طور پر ان حربوں کے سامنے زیادہ غیر محفوظ ہیں کیونکہ اس عمر میں ان کی عادات، شناخت اور تعلقات پختہ اور دانشمندانہ نہیں ہوتے۔

اقوام متحدہ نے اشتہارات کے ایسے طریقوں کی نشاندہی بھی کی ہے جو بتدریج مزید پوشیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور جن کے ذریعے بچوں کو متاثر کر کے ان کے آن لائن اخراجات بڑھائے جاتے ہیں۔

اطلاعاتی دیانت اور نوجوان

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ بچے اور نوجوان اس مسئلے کے صرف ممکنہ متاثرین نہیں ہیں۔ ان کا شمار تخلیق کاروں، سماجی کارکنوں اور منظم جدوجہد کرنے والوں میں بھی ہوتا ہے۔ نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی ایسی تحریکیں بھی موجود ہیں جو شہری زندگی کی نئی تشکیل کر رہی ہیں جبکہ نوجوان صحافی اور مواد تخلیق کرنے والے افراد عوامی مباحثے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

نوجوانوں کی تحریکوں کو طاقت دینے والے یہی آن لائن پلیٹ فارم ان کے منتظمین کو آن لائن ہراسانی اور نگرانی کے خطرے سے بھی دوچار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں عموماً نوجوان خواتین، اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور سماجی کارکن شامل ہوتے ہیں۔

بیان میں زور دیا گیا ہے کہ اطلاعاتی دیانت سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے ہونے والی تحقیق اور پالیسی سازی میں نوجوانوں کی آرا اور تجربات کو لازمی طور سے شامل کیا جانا چاہیے۔

اطلاعاتی دیانت سے متعلق اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطح مشیر شارلٹ سکاڈن نے کہا ہے کہ معلوماتی بحران سب سے زیادہ بچوں اور نوجوانوں کو متاثر کر رہا ہے اور اسے حل کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں میں بھی وہی نمایاں ہیں۔ ان کا تحفظ اور انہیں فیصلہ سازی میں شامل کرنا ایک دوسرے کے متضاد مقاصد نہیں ہیں۔

محدود ہوتا موقع

بیان کے مطابق، اگرچہ حکومتیں اور سماجی کارکن بچوں کی آن لائن حفاظت کو پالیسی مباحثے میں تیزی سے اہمیت دے رہے ہیں تاہم مصنوعی ذہانت کے روزمرہ زندگی میں تیزی سے عام ہونے کے باعث بچوں اور نوجوانوں کے حقوق کو اس ٹیکنالوجی کے ضابطوں میں شامل کرنے کا موقع تیزی سے محدود ہوتا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ مصنوعی ذہانت کے عالمی ضابطوں کی تشکیل کے لیے کی جانے والی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان میں اس ٹیکنالوجی سے متعلق عالمی مکالمہ اور مصنوعی ذہانت پر آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل بھی شامل ہیں جو اس ٹیکنالوجی سے درپیش مواقع اور خطرات کا سائنسی جائزہ لینے والا ادارہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور معلوماتی ماحول میں مسلسل آنے والی تبدیلیوں کے تناظر میں اب اصولوں اور وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔