ترکیہ میں بچوں کو طویل سزائیں دینے کے قانون کی منظوری پر تشویش

یو این جمعہ 14 اگست 2026 04:15

ترکیہ میں بچوں کو طویل سزائیں دینے کے قانون کی منظوری پر تشویش

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 اگست 2026ء) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ترکیہ کی پارلیمان میں منظور کی گئی ایک قانونی ترمیم کی مذمت کی ہے جس کے تحت سنگین جرائم میں سزا پانے والے نوعمر افراد کو عمر قید کی سزا دی جا سکے گی۔

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ نظام انصاف میں خاص طور پر نابالغوں کے حوالے سے جواب دہی کے ساتھ اصلاح و بحالی کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے اور ہر بچے کی انفرادی ضروریات کے مطابق معاونت اور معاشرے میں اس کی دوبارہ شمولیت کے مواقع فراہم کیے جانا چائیں۔

Tweet URL

انہوں نے واضح کیا ہے کہ ترک بچوں کے لیے طویل المدتی حراست کی اجازت دینے والی کوئی بھی قانونی شق اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال کی روح اور تقاضوں سے واضح طور پر متصادم ہو گی۔

(جاری ہے)

ہفتے کو منظور کی گئی ترمیم کے ذریعے ترکیہ میں بچوں کے تحفظ کے قانون میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کے تحت 15 سے 18 سال کی عمر کے مجرموں کے لیے سزاؤں میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ دانستہ قتل یا سنگین نوعیت کے جسمانی نقصان کے الزامات پر کم عمر ملزموں کی سزا میں رعایت ختم کرنے کا اختیار بھی ججوں کو دے دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، کم عمر مجرموں کو ایسے بند اداروں میں رکھنا لازم قرار دیا گیا ہے جو ان کی تعلیم و تربیت اور بحالی پر توجہ دینے والے مراکز کے بجائے حراستی نوعیت کے ہوں گے۔

اصلاح، بحالی اور انضمام

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ اگرچہ قانونی ترامیم کے بعض مثبت پہلو بھی ہیں جن میں بچوں کے تحفظ اور تعلیمی خدمات کے درمیان بہتر رابطہ یقینی بنانا اور بچوں کو آتشیں اسلحہ تک رسائی روکنا بھی شامل ہے لیکن دیگر تجاویز انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں۔

قانون میں کم عمر مجرموں کو لازمی طور پر حراست میں رکھنے کی شق انتہائی تشویشناک اور انہیں تعلیمی اور تربیتی بنیادوں پر قائم اداروں میں رکھنے کے طریقہ کار سے واضح انحراف ہے۔

دوبارہ جرم کے امکانات کو کم کرنے کے لیے قیدیوں کی اصلاح، بحالی اور معاشرے میں ان کے دوبارہ انضمام پر توجہ دینا ضروری ہے جس سے ہر فرد کے لیے زیادہ محفوظ معاشرہ تشکیل دینے میں مدد ملتی ہے۔

عالمی قانون کی پاسداری کا مطالبہ

اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال (1989) کی دفعہ 37 کے تحت کسی بچے کی گرفتاری، حراست یا قید کو صرف آخری چارے کے طور پر اور مناسب ترین مختصر مدت کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

ترکیہ نے 1990ء میں اس کنونشن پر دستخط کیے اور 1994ء میں اس کی توثیق کی تھی۔ اگرچہ اس نے کنونشن کی متعدد دفعات کی تشریح کے حوالے سے باضابطہ بیانات دیے تھے تاہم دفعہ 37 کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

وولکر ترک نے ترکیہ پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے اور قانون میں ایسی ترمیم کی جائے جس سے اس کی تمام دفعات کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے تحت ملک کی ذمہ داریوں، بالخصوص بچوں کے حقوق سے متعلق ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔