لاکھوں نوجوانوں کو پہلی ملازمت کے حصول میں مشکل، عالمی ادارہ محنت

یو این جمعہ 14 اگست 2026 04:15

لاکھوں نوجوانوں کو پہلی ملازمت کے حصول میں مشکل، عالمی ادارہ محنت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 اگست 2026ء) عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے بتایا ہے کہ کووڈ وبا ختم ہونے کے بعد دنیا میں بیروزگاری کی شرح بتدریج کم ہو گئی تھی جو اب دوبارہ بڑھنے لگی ہے اور لاکھوں نوجوانوں کو اپنی پہلی ملازمت کے حصول میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔

'آئی ایل او' کی جاری کردہ نئی رپورٹ کے مطابق، 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 2023 میں دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی جو گزشتہ سال بڑھ کر 12.4 فیصد ہو گئی۔

اس طرح آج دنیا بھر میں تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں۔

Tweet URL

ایسے نوجوانوں کا عالمی تناسب بھی بڑھ گیا ہے جو نہ تو برسرروزگار ہیں، نہ ہی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام میں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

یہ شرح 2023 میں 19.7 فیصد تھی جو 2025 میں بڑھ کر 20 فیصد ہوگئی۔ یوں دنیا بھر میں ایسے نوجوانوں کی تعداد 25 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

'آئی ایل او' کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ایف ہونگ بو نے کہا ہے کہ جو نسل باعزت روزگار حاصل نہ کرسکے، وہ اعتماد کے ساتھ اپنا مستقبل تعمیر نہیں کرسکتی۔ جب نوجوانوں کو معیاری روزگار کے مواقع سے محروم کردیا جاتا ہے تو ممالک اپنی صلاحیت، پیداواری قوت اور سماجی ہم آہنگی سے محروم ہوجاتے ہیں۔

نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار پیدا کرنا محض سماجی ضرورت نہیں بلکہ کسی بھی ملک کی جانب سے کی جانے والی بہترین سرمایہ کاری ہے۔

بیروزگاری کی علاقائی صورت حال

دنیا کے 11 بڑے خطوں سے آٹھ میں 2023 سے 2025 کے درمیان نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بڑھ گئی یا جوں کی توں رہی۔ مجموعی طور پر 105 ممالک میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا جبکہ صرف 58 ممالک ایسے تھے جہاں اس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

عرب ممالک اور شمالی افریقہ کے نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح سبب سے زیادہ رہی جو بالترتیب 26.2 فیصد اور 22.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

2023 سے 2025 کے دوران نوجوانوں کی بے روزگاری میں سب سے نمایاں اضافہ شمالی امریکا میں ہوا جہاں یہ شرح 8.3 فیصد سے بڑھ کر 9.8 فیصد ہو گئی۔

شمالی، جنوبی اور مغربی یورپ میں بھی بے روزگاری کسی قدر بڑھی اور ان تینوں خطوں میں مجموعی شرح اب بھی 15 فیصد کے بلند درجے پر ہے۔

روزگار کی غیر یقینی منڈی

رپورٹ کے مطابق، زیادہ آمدنی والے ممالک میں ایسی ملازمتیں کم ہوتی جارہی ہیں جو روایتی طور پر نوجوانوں کے لیے عملی زندگی میں داخل ہونے کا ذریعہ تھیں۔

صحرائے اعظم کے جنوب میں واقع افریقی ممالک (ذیلی صحارا افریقہ) میں تیزی سے بڑھتی آبادی کے مقابلے میں روزگار کے مواقع ناکافی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں بہت سے کارکن غیر رسمی یا غیر مستحکم روزگار سے وابستہ ہیں جہاں عام طور پر انہیں مناسب سماجی تحفظ اور بنیادی سہولیات میسر نہیں ہوتیں۔

رپورٹ کے مطابق کم اور کم متوسط آمدنی والے ممالک میں 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 90 فیصد نوجوان غیر رسمی شعبے میں کام کرتے ہیں۔ ذیلی صحارا افریقہ میں یہ مسئلہ خاص طور پر سنگین ہے۔

نئی ٹیکنالوجی سے وابستہ مسائل

'آئی ایل او'نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مشکل ہوتے حالات کی کئی وجوہات بتائی ہیں۔ ان میں عالمی معاشی نمو کی سست رفتار، جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، مصنوعی ذہانت کے نچلی سطح کی ملازمتوں پر ممکنہ اثرات، اعلیٰ مہارت رکھنے والوں کے لیے نئی ملازمتوں کی کمی اور تجربے کا تضاد شامل ہیں۔

تجربے کے تضاد سے مراد یہ ہے کہ آجر ابتدائی سطح کی ملازمتوں کے لیے بھی امیدواروں سے معقول تجربہ طلب کرتے ہیں حالانکہ نئے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تجربہ حاصل کرنے کے لیے پہلے موقع کی ضرورت ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 15 سے 29 سال کی عمر کے افراد کی ملازمتوں میں سے 6.1 فیصد ایسی پیشہ وارانہ سرگرمیوں سے متعلق ہیں جو مصنوعی ذہانت سے ہونے والی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہوسکتی ہیں۔

ان میں زیادہ تر دفتری اور انتظامی نوعیت کی ملازمتیں شامل ہیں۔

'آئی ایل او' میں روزگار، مہارت اور پائیدار کاروباری اداروں کے شعبے کی ڈائریکٹر سکتی داس گپتا نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت سمیت تکنیکی ترقی کو نوجوانوں کے خلاف نہیں بلکہ ان کے مفاد میں کام کرنا چاہیے۔

بیروزگاری سے نمٹنےکا لائحہ عمل

'آئی ایل او' نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے نمٹنے کے لیے اس رپورٹ میں متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

ایسے اقدامات میں مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسی سازی میں انسانی مفادات کو مرکزی اہمیت دینا، معیاری تعلیم میں سرمایہ کاری، روزگار کی خدمات کو مضبوط بنانا، سماجی تحفظ کا دائرہ وسیع کرنا اور نوجوانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ باعزت اور معیاری روزگار کے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔