یہ نوجوانوں کو کاکروچ کہہ رہے ہیں، یہ کاکروچ نہیں اقبال کے شاہین ہیں

اگر نوجوان باہر نکلے تو ان کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوگا، جب پنجاب نکلا تھا تو عمران خان وزیراعظم بنے تھے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی گفتگو

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 13 اگست 2026 19:47

یہ نوجوانوں کو کاکروچ کہہ رہے ہیں، یہ کاکروچ نہیں اقبال کے شاہین ہیں
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 13 اگست 2026ء ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل خان آفریدی کا کہنا ہے کہ یہ نوجوانوں کو کاکروچ کہہ رہے ہیں، یہ کاکروچ نہیں اقبال کے شاہین ہیں، اگر نوجوان باہر نکلے تو ان کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ انہوں نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے رویے نوجوانوں میں نفرت بڑھا رہے ہیں، نوجوانوں کا جوش و جزبہ اقبال کے شاہین والا ہے، یہ انہیں کاکروچ کہہ رہے ہیں، یہ کاکروچ نہیں اقبال کے شاہین ہیں، نوجوان نکلے تو ان کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوگا۔

پنجاب نکلا تھا اس لیے ہماری اسمبلیوں میں اکثریت ہے، پنجاب نکلا تھا اس لیے عمران خان وزیراعظم بنے، جس طرح چودہ اور پندرہ مارچ کو لاہور میں ان غنڈوں نے عمران خان کے گھر پر حملہ کیا تھا تو وہ لاہور پنجاب کے لوگ تھے جنہوں نے نکل کر عمران خان کی حفاظت کی تھی۔

(جاری ہے)

عمران خان رہائی موومنٹ میں جو ممبرشپ ہوئی ہے سب سے زیادہ پنجاب سے ہوئی، میری درخواست ہے تمام پاکستانیوں سے کہ ہمارا فوکس ستائیس ستمبر ہونا چاہئے آپ اس دن نکلیں گے تو آپ کی تاریخ اور تقدیر دونوں بدلیں گے۔

اگر کوئی آپ کو بدظن کرنا چاہ رہا ہے تو اس پر دیہان نہیں دینا ، ہمارا فوکس صرف اور صرف لانگ مارچ ہونا چاہئے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے کہا کہ 27 ستمبر کو 20 لاکھ سے زائد لوگ لے کر نکلیں گے، یہ اِن کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکا ہے، 27 ستمبر سے پہلے آخری بار اڈیالہ جیل آیا ہوں کہ میری عمران خان سے ملاقات کروا دیں لیکن آج بھی اِن کا موڈ نہیں لگ رہا، ایسا نہیں لگتا کہ آج بھی عمران خان سے ملاقات کرائی جائے گی، ملاقات نہیں کرائی گئی تو رات کو کارکنوں کو باہر آنے کی کال دیتے ہیں اور ہر چوک کو ڈی چوک بنانے کی اپیل کریں گے، پاکستان اور پی ٹی آئی کے جھنڈے ساتھ رکھیں، رات 10 بجے پاکستان کا ہر چوک ڈی چوک ہوگا، انہوں نے کارکنوں کو تیار رہنے کی ہدایت بھی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ 27 ستمبر سے قبل آج آخری مرتبہ اڈیالہ جیل آئے ہیں، آئندہ وہ اسی وقت اڈیالہ جیل آئیں گے جب انہیں باضابطہ طور پر ضمانت یا یقین دہانی دی جائے گی اور فون کرکے بتایا جائے گا کہ عمران خان سے ان کی ملاقات کرائی جا رہی ہے، ورنہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ عوامی اجتماع کے دوران اس وقت عوام کا سمندر ہوگا اور عوام اپنا فیصلہ سنا دیں گے، موجودہ نظام کو لانے والے اور اسے تباہ کرنے والے ایک ہی ہیں، متعلقہ لوگ اپنی انا اور بغض کی وجہ سے پورے ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔