وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18 ہزار 832 ارب روپے کا اضافہ

ماہ میں مقامی قرضہ 16 ہزار 766 ارب اور بیرونی قرضہ 2 ہزار 66 ارب روپے بڑھ گیا، دستاویز

پیر 17 اگست 2026 11:39

وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18 ہزار 832 ارب روپے کا اضافہ
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 اگست2026ء) وفاقی حکومت کے قرضوں میں ابتدائی 28 ماہ کے دوران 18 ہزار 832 ارب روپے کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد جون 2026 تک وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ بڑھ کر 83 ہزار 642 ارب روپے تک پہنچ گیا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات کے مطابق مارچ 2024 سے جون 2026 کے دوران وفاقی حکومت کے مقامی قرضے میں 16 ہزار 766 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضے میں 2 ہزار 66 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

اس طرح 28 ماہ کے دوران حکومتی قرضوں میں اوسطاً روزانہ 22 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔دستاویزات کے مطابق نگران حکومت کے آخری مہینے فروری 2024 تک وفاقی حکومت کے مجموعی قرضے 64 ہزار 810 ارب روپے تھے، تاہم گزشتہ 28 ماہ کے دوران قرضوں میں ہونے والے اضافے کے بعد جون 2026 تک یہ رقم بڑھ کر 83 ہزار 642 ارب روپے ہوگئی۔

(جاری ہے)

اعداد و شمار کے مطابق فروری 2024 میں مرکزی حکومت کا مقامی قرضہ 42 ہزار 675 ارب روپے تھا، جو جون 2026 تک بڑھ کر 59 ہزار 441 ارب روپے ہوگیا۔

اس طرح مذکورہ عرصے کے دوران مقامی قرضے میں 16 ہزار 766 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔اسی طرح فروری 2024 میں وفاقی حکومت کا بیرونی قرضہ 22 ہزار 134 ارب روپے تھا، جو جون 2026 تک بڑھ کر 24 ہزار 201 ارب روپے ہوگیا۔ اس عرصے میں بیرونی قرضے میں 2 ہزار 66 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔دستاویزات کے مطابق مقامی اور بیرونی قرضوں میں اضافے کے باعث وفاقی حکومت کے مجموعی قرضے میں 28 ماہ کے دوران تقریباً 29 فیصد اضافہ ہوا۔

قرضوں میں مسلسل اضافے کے باعث ملکی مالیات پر قرضوں کی ادائیگی اور اس سے متعلق اخراجات کا دباؤ بھی برقرار ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق حکومتی قرضوں میں مسلسل اضافے کے رجحان کو قابو کرنے کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، آمدن میں اضافے، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور قرضوں کے مؤثر انتظام کی ضرورت ہے تاکہ ملکی معیشت پر قرضوں کا بوجھ مزید نہ بڑھے۔