خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی خصوصی دودھ چیکنگ مہم مکمل، صوبہ بھر میں 53 ہزار 478 لیٹر غیر معیاری دودھ تلف

1205 نمونوں کی جانچ، 938 معیاری جبکہ 267 غیر معیاری قرار، 4.76 ملین روپے جرمانے عائد، 143 دودھ بردار گاڑیوں کی رجسٹریشن

منگل 18 اگست 2026 22:51

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اگست2026ء) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا ہے کہ غیر معیاری دودھ کی فروخت کی روک تھام اور عوام کو محفوظ و معیاری دودھ کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس مقصد کے لیے صوبہ بھر میں دودھ کی نگرانی اور چیکنگ کا عمل مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دودھ بردار گاڑیوں کی رجسٹریشن کے ذریعے دودھ کے سورس اور سپلائی چین کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ دودھ کہاں سے آتا اور کہاں سپلائی ہوتا ہے۔

ترجمان فوڈ اتھارٹی نے خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی ایک ماہ کی خصوصی دودھ چیکنگ و ٹیسٹنگ مہم رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ صوبہ بھر میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے دودھ بردار گاڑیوں، ڈیری فارمز، ہول سیل سپلائرز اور دودھ کی دکانوں کی چیکنگ کی اور بین الصوبائی داخلی راستوں اور بین الاضلاعی شاہراہوں پر ناکہ بندیوں کے دوران بھی دودھ کی جانچ کی گئی۔

(جاری ہے)

ترجمان نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی مہم کے دوران موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے ذریعے صوبہ بھر میں دودھ کے مجموعی طور پر 1205 نمونے چیک کیے گئے، جن میں سے 938 نمونے معیاری جبکہ 267 نمونے غیر معیاری قرار پائے۔ یوں مجموعی طور پر 78 فیصد دودھ کے نمونے معیار کے مطابق پائے گئے۔رپورٹ کے مطابق پشاور میں 314، ڈی آئی خان میں 153، ایبٹ آباد میں 111 اور سوات میں 81 دودھ کے نمونے چیک کیے گئے۔

مردان میں 76، چارسدہ 62، نوشہرہ 57، کرک 55، بنوں 54، صوابی 53، ہری پور 41، مانسہرہ 34، ملاکنڈ 27، لوئر دیر 26 جبکہ بونیر میں 23 نمونے چیک کیے گئے۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ غیر معیاری دودھ کے نمونوں میں پانی، کاسٹک سوڈا، مختلف کیمیکلز، فارملین اور کم چکنائی سمیت مختلف اقسام کی ملاوٹ کی نشاندہی ہوئی۔ مہم کے دوران 53 ہزار 478 لیٹر غیر معیاری اور ناقص دودھ تلف کیا گیا جبکہ دودھ کے معیار کی خلاف ورزیوں پر متعلقہ کاروباری افراد کو 4.76 ملین روپے جرمانے عائد کیے گئے اور امپروومنٹ نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔

خصوصی مہم کے دوران 143 دودھ بردار گاڑیوں کی رجسٹریشن بھی کی گئی۔ معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا کہ رجسٹریشن کا مقصد دودھ کے سورس اور سپلائی چین کا ریکارڈ مرتب کرنا ہے، جس سے دودھ کی نقل و حرکت اور سپلائی کے نظام کی مؤثر نگرانی ممکن ہوگی۔انہوں نے کہا کہ عوام کو محفوظ اور معیاری دودھ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر میں نگرانی، ٹیسٹنگ اور کارروائیوں کا سلسلہ مزید مؤثر بنایا جائے گا اور ملاوٹ و غیر معیاری دودھ کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عملدرآمد جاری رہے گا۔