طالبان رجیم کی خواتین پر پابندیاں افغان معیشت کے لیے تباہ کن ثابت،خواتین تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں سے خارج

جمعرات 20 اگست 2026 22:36

کابل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 اگست2026ء) افغان طالبان کی جانب سے خواتین کو تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں سے خارج کرنے کے منفی معاشی اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے طالبان رجیم میں افغانستان کی ابتر معاشی صورتحال پر نئی رپورٹ جاری کر دی ہے۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد افغان معیشت میں شدید سکڑاؤ آیا جبکہ لیبر مارکیٹ کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم میں افغانستان کی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ 16.5 فیصد سے کم ہوکر صرف 5 فیصد رہ گیا۔ افغانستان دنیا میں خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت کی دوسری سب سے کم شرح رکھتا ہے۔رپورٹ کے مطابق خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں نے افغان خواتین اور مردوں کے درمیان روزگار کا فرق مزید بڑھا دیا ہے۔

(جاری ہے)

افغان طالبان رجیم میں روزگار اور آبادی کا تناسب 2020 کے 36.7 فیصد سے کم ہوکر 2026 میں تقریباً 32.5 فیصد رہ گیا۔

افغانستان میں تعلیم، روزگار اور تربیت سے محروم خواتین کی شرح 2020 کے 76 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 84 فیصد تک پہنچ گئی۔آئی ایل او کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان رجیم کی پابندیوں اور آمرانہ اقدامات نے زوال پذیر افغان معیشت کو مزید تباہ کر دیا ہے۔