امریکی سپریم کورٹ نے وائٹ ہاؤس میں بال روم کی تعمیر عارضی طور پر جاری رکھنے کی اجازت دے دی

ہفتہ 22 اگست 2026 10:02

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 اگست2026ء) امریکی سپریم کورٹ نے وائٹ ہاؤس میں نئے بال روم کی تعمیر عارضی طور پر جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔شنہوا کے مطابق چیف جسٹس جان رابرٹس نے نچلی عدالتوں کے ان فیصلوں پر عارضی حکم امتناع جاری کردیا جن کے تحت تعمیراتی کام روکنے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے منصوبے کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے بتایا کہ 40 کروڑ ڈالر مالیت کے نجی فنڈز سے تعمیر کیے جانے والے منصوبے کا 14 اگست تک 65 فیصد کام مکمل ہوچکا تھا۔ تعمیراتی کام کے لیے 250 افراد پر مشتمل عملہ ہفتے کے ساتوں دن روزانہ 20 گھنٹے کام کر رہا ہے۔یہ پیش رفت اس فیصلے کے دو ہفتے بعد سامنے آئی ہے جس میں واشنگٹن کی وفاقی اپیل عدالت نے قرار دیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں نئے بال روم کی تعمیر غیر قانونی طور پر کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

عدالت نے نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مطلوبہ مشاورت اور کانگریس کی اجازت حاصل کیے بغیر اکتوبر 2025 میں وائٹ ہاؤس کی مشرقی عمارت کو منہدم کرکے 90 ہزار مربع فٹ رقبے پر بال روم کی تعمیر شروع کی۔منصوبے کو وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے متعدد ارکان کی حمایت حاصل ہے، تاہم بعض ریپبلکن ارکان نے بھی اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔