چین کی روبوٹکس صنعت کی آمدنی 165.5 ارب یوآن تک پہنچ گئی

رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی ترسیل 40 ہزار یونٹس سے تجاوز کر گئی

اتوار 23 اگست 2026 14:25

بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اگست2026ء) چین کی ہیومنائیڈ روبوٹ صنعت نے عالمی سطح پر نمایاں برتری حاصل کر لی ہے۔ جاری ورلڈ روبوٹ کانفرنس میں جاری کی گئی ہیومنائیڈ روبوٹ انڈسٹری ڈویلپمنٹ رپورٹ2026 کے مطابق2026 کی پہلی ششماہی کے دوران چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی ترسیل 40 ہزار یونٹس سے تجاوز کر گئی، جو عالمی مجموعی ترسیل کا 97 فیصد ہے۔

چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق اسی عرصے کے دوران چین کی بڑی روبوٹکس کمپنیوں کی صنعتی آمدنی 165.5 ارب یوآن تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 24.5 فیصد زیادہ ہے، اور اس شعبے کی تیز رفتار تجارتی ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق 19 سے 23 اگست تک بیجنگ ای ٹاؤن میں منعقد ہونے والی ورلڈ روبوٹ کانفرنس میں چین اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے 373 نمائش کنندگان شریک ہیں، جہاں 60 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر 3 ہزار سے زیادہ مصنوعات پیش کی جا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

تقریب کے موقع پر انٹرنیشنل فیڈریشن فار دی پروموشن آف میکنزم اینڈ مشین سائنس (آئی ایف ٹو ایم ایم)کے صدر پروفیسر آندریس کیچکس میتھی نے چائنا اکنامک نیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں چین کی روبوٹکس کے شعبے میں پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین کی روبوٹ ٹیکنالوجی میں جدت کا حجم انتہائی وسیع ہے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ چین میں مضبوط قیادت کی رہنمائی میں بڑی بڑی ٹیمیں روبوٹکس کے میدان میں مصروف عمل ہیں اور مستقبل قریب میں مجسم ذہانت کو عملی اور تجارتی سطح پر پختگی تک پہنچانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے اپنے کلیدی خطاب میں پروفیسر کیچکس میتھی نے روبوٹکس کی تقریباً چھ دہائیوں پر محیط صنعتی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روبوٹکس نے کام کے ماحول کو بہتر بنانے، بھاری اور مشکل کاموں سے انسانوں کو نجات دلانے، معیار میں بہتری اور جراحی کو زیادہ درست بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور حیاتیاتی ساخت سے متاثر ڈیزائن کی بنیاد پر روبوٹکس کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں ہیومنائیڈ روبوٹس کو مینوفیکچرنگ، بزرگوں کی نگہداشت، ہنگامی امدادی کارروائیوں اور عوامی خدمات سمیت مختلف شعبوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

پروفیسر کیچکس میتھی کی تحقیق متعدد شعبوں پر مشتمل ہے، جن میں ملٹی باڈی ڈائنامکس، بائیو مکینکس، بھاری صنعتی روبوٹکس اور ورچوئل ریئلٹی شامل ہیں۔ انہوں نے مستقبل کی چند اہم اور امید افزا پیش رفتوں میں فالج کے شکار افراد کے لیے چلنے پھرنے میں مدد دینے والے آلات، ذہین آرتھوپیڈک معاونات، کام کرنے والے ایکسوسکیلیٹنز، خودمختار تعمیراتی روبوٹس اور مختلف اشیا کو پکڑنے والے جدید آلات کو شامل کیا۔

ان کے مطابق ایسے جدید گرفت کرنے والے آلات ہوائی اڈوں پر سامان کی نقل و حمل سے لے کر انتہائی چھوٹے ہیروں کو سنبھالنے جیسے نازک کاموں تک استعمال کیے جا سکیں گے تاہم انہوں نے روبوٹکس کے شعبے کو درپیش عالمی چیلنجز کی بھی نشاندہی کی، جن میں متحرک توازن برقرار رکھنا، پیچیدہ حالات سے مطابقت، ماڈلز اور الگورتھمز کی مسلسل بہتری اور حقیقی دنیا سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا ذخیرہ شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حفاظتی ضوابط، اخلاقی فریم ورک اور صنعتی معیارات کی عدم تکمیل بھی اہم مسائل ہیں۔رپورٹ کے مطابق پروفیسر کیچکس میتھی نے تکنیکی معیارات کو مزید بہتر بنانے، بین الاقوامی اور بین الشعبہ جاتی تعاون کو فروغ دینے اور ہنرمند افراد کی تربیت کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح روبوٹکس کے فوائد دنیا کے ہر گوشے تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے چینی سائنس دانوں کو بین الاقوامی میکنزم اور مشین ڈیزائن کے شعبے کا مضبوط ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایف ٹو ایم ایم کے اہم تحقیقی جریدی Mechanism and Machine Theoryمیں شائع ہونے والی کلیدی تحقیقی اشاعتوں میں چین کا حصہ اب 50 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے، جبکہ جریدے کے سب سے زیادہ تحقیقی کام شائع کرنے والے پانچ نمایاں مصنفین میں سے پانچ کا تعلق چین سے ہے۔

رپورٹ کے مطابق مستقبل کے حوالے سے پروفیسر کیچکس میتھی نے چین کے ساتھ تعاون جاری رکھنے میں دلچسپی ظاہر کی، جس میں ہمبولٹ فیلوشپس، مصنوعی ذہانت کی مدد سے میکنزم ڈیزائن، حرکت اور قوت کی ترسیل کو بہتر بنانا، انٹیلیجنٹ جوڑوں اور ہائبرڈ ایکچیویٹرز کو ہیومنائیڈ روبوٹک نظاموں میں شامل کرنا اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے اعلیٰ درستگی والی مشین ٹولز کا استعمال شامل ہے۔