کینیڈا کے عوام کی بھاری اکثریت نے امریکی حکومت کے ساتھ تجارتی مذاکرات ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کی حمایت کر دی

پیر 24 اگست 2026 16:34

اوٹاوا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 اگست2026ء) کینیڈا کے عوام کی بہت بڑی اکثریت نےامریکی حکومت کے ساتھ تجارتی مذاکرات ختم کرنے کے اپنی حکومت کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ شنہوا کے مطابق 22 اور 23 اگست کو اینگس ریڈ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق 76 فیصد افراد نے وفاقی حکومت کے موقف کی حمایت کی، جبکہ تمام صوبوں میں اس فیصلے کو اکثریتی حمایت حاصل ہوئی،حتیٰ کہ حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت کنزرویٹو پارٹی کے حامیوں میں بھی 53 فیصد نے کہا کہ خراب معاہدہ قبول کرنے کے بجائے مذاکرات سے دستبردار ہونا درست فیصلہ تھا۔

کینیڈین شہریوں نے 8 ستمبر سے امریکا کے عائد کردہ محصولات کے جواب میں مساوی شرح کے جوابی ٹیرف عائد کرنے کے حکومتی منصوبے کی بھی حمایت کی۔

(جاری ہے)

62 فیصد افراد نے موجودہ حالات میں جوابی ٹیرف کے منصوبے کو ’’مناسب‘‘ قرار دیا۔سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 64 فیصد کینیڈین سمجھتے ہیں کہ امریکا پر معاشی انحصار کم کرنے کے نتیجے میں بالآخر کینیڈا مزید مضبوط ہو کر ابھرے گا، جبکہ 26 فیصد کو خدشہ ہے کہ اس تجارتی تنازع کے باعث کینیڈا کے اہم ترین تجارتی شراکت دار کے ساتھ طویل مدتی تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تاہم، سروے میں تجارتی تنازع کے باعث روزگار کے حوالے سے عوامی تشویش بھی سامنے آئی ہے۔ تقریباً 13 فیصد کینیڈین کارکنوں نے اپنی ملازمت سے محروم ہونے پر بہت زیادہ تشویش کا اظہار کیا، جبکہ مزید 25 فیصد نے مختلف سطح کی بے چینی ظاہر کی۔اس سے قبل صنعتی ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ کسی معاہدے کے بغیر صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں کینیڈا کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی ) میں 0.4 فیصد کمی اور تقریباً 90 ہزار ملازمتوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔