وزیراعظم کی اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کو ستارہ خدمت دینے کی منظوری

وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو اوایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت، تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ فوری پبلک کرنے کی بھی ہدایت کردی گئی، وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 29 اگست 2026 20:40

وزیراعظم کی اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کو ستارہ ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 29 اگست 2026ء ) وزیراعظم شہبازشریف نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کو ستارہ خدمت دینے کی منظوری دے دی ہے۔ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو اوایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت، وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ فوری پبلک کرنے کی بھی ہدایت کردی۔

اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر لاہور میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔ وزیراعظم نے کمیٹی کی نشاندہی پر 8 لوگوں کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف فوری کارروائی کی منظوری دے دی ۔
وزیراعظم نے محکمانہ کے ساتھ ساتھ فوجداری قوانین کے تحت بلا امتیاز فوجداری کارروائی کی ہدایت کی۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے سکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف کارروائی کی بھی منظوری دے دی۔ وزیراعظم نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کیلیے ستارہِ خدمت دینے کی منظوری دی۔ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت بھی کی گئی۔
وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان، سی ای او این آئی ایچ کو پمز کا ایکٹنگ ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت بھی کی۔

جن لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے ان کی جگہ نئے لوگوں کی فوری اور یکمشت تعیناتی کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ فوری پبلک کرنے کی ہدایت کردی، تحقیقاتی رپورٹ کچھ ہی دیر میں وزارتِ قومی صحت کی ویب سائٹ پر آویزاں کر دی جائے گی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ واقعے کے ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ معصوم بچوں کی موت ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم افسردہ ہے۔ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین کے ساتھ ہیں۔ واقعے کے ذمہ داران کو مثالی سزا دلوائی جائے۔