سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ بین الاقوامی قانون اور پاکستان کے اصولی موقف کی توثیق ہے، ظہور احمد بلیدی

منگل 1 ستمبر 2026 13:29

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 ستمبر2026ء) صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق مستقل عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ بین الاقوامی قانون اور پاکستان کے اصولی مقف کی اہم توثیق ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کو اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مثر قرار نہیں دے سکتا، معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت تمام فریقین کے لیے پابند ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے سے قانون کی بالادستی اور پاکستان کے آبی حقوق کے اصول کو تقویت ملی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ پاکستان کے لیے ایک اہم قانونی و سفارتی کامیابی ہے اور یہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری اور عالمی قوانین کا احترام ناگزیر ہے۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون اور دستیاب قانونی و سفارتی فورمز پر اپنا اصولی مقف مثر انداز میں پیش کرتا رہے گا۔