باہمی تعاون اور تنازعات کے پُرامن حل پر مبنی ’’شنگھائی جذبے‘‘ سے سیکھنا چاہیے،وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ

منگل 1 ستمبر 2026 22:09

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 01 ستمبر2026ء) وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے امن، معاشی تعاون، مکالمے اور ترقی پر مزید توجہ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری اور خطے میں اپنے کردار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے باہمی تعاون اور تنازعات کے پُرامن حل پر مبنی ’’شنگھائی جذبے‘‘ سے سیکھنا چاہیے۔

پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ایس سی او کے چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان کا کردار ملک کے علاقائی اور عالمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی رابطوں، معاشی تعاون اور علاقائی یکجہتی کے فروغ کا اہم موقع فراہم کر سکتا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس)، اسلام آباد اور چائنا میڈیا گروپ (سی ایم جی) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ مشترکہ سیمینار ’’ایس سی او کے 25 سال: شنگھائی جذبہ اور اسلام آباد کے ساتھ ایک نیا سفر‘‘ میں بطور مہمانِ خصوصی کیا۔

(جاری ہے)

سیمینار میں سفارت کاروں، پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم، ذرائع ابلاغ کے نمائندگان اور مختلف شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔ سیمینار میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 25 سالہ سفر، علاقائی امور میں اس کے بدلتے ہوئے کردار اور پاکستان کی جانب سے تنظیم کی صدارت سنبھالنے کے حوالے سے ذمہ داریوں اور امکانات کا جائزہ لیا گیا۔اپنے استقبالیہ کلمات میں صدر انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز، سفیر جوہر سلیم نے ایس سی او کے ارتقائی سفر پر روشنی ڈالی اور ’’شنگھائی جذبے‘‘ کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے باہمی اعتماد، باہمی مفاد، مساوات، مشاورت اور اختلافات کے پُرامن حل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کرغزستان کے بعد پاکستان کی جانب سے ایس سی او کی صدارت سنبھالنے کی اہمیت اور بشکیک میں جاری ایس سی او سرگرمیوں کو بھی اجاگر کیا۔پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے اپنے کلیدی خطاب میں موجودہ ایس سی او سربراہی اجلاس کو عالمی سطح پر بڑی تبدیلیوں کے دور میں ہونے والی اہم پیش رفت قرار دیا، جہاں بین الاقوامی تعلقات میں نئی حقیقتیں ابھر رہی ہیں۔

انہوں نے ایشیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت، چین کے ابھرتے ہوئے کردار اور گوادر کے وسطی ایشیائی ممالک سے رابطوں کی تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالی۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ایس سی او کے چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان کا کردار ملک کے علاقائی اور عالمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی رابطوں، معاشی تعاون اور علاقائی یکجہتی کے فروغ کا اہم موقع فراہم کر سکتا ہے۔

انہوں نے چین کی غیر معمولی آبادی اور معاشی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین عالمی آبادی اور عالمی معاشی پیداوار میں ایک نمایاں حصہ رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو دنیا کے کامیاب تجربات سے سیکھتے ہوئے اپنی مخصوص ضروریات اور حالات کے مطابق حل تلاش کرنے چاہئیں۔وفاقی وزیر نے اپنے حالیہ دورہ برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں انہوں نے پاکستان کی قیادت اور سفارتی روابط کے حوالے سے مثبت رائے کا مشاہدہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے اس امر کی اہمیت مزید اجاگر ہوتی ہے کہ پاکستان خود کو امن، استحکام، معاشی ترقی اور تعمیری بین الاقوامی تعلقات کے لیے پُرعزم ملک کے طور پر پیش کرے۔بعد ازاں پاکستان کی سابق سفیر سفیر نائلہ چوہان اور ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (پالیسی)، سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی)، ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے بھی علاقائی تعاون، ایس سی او اور پاکستان کے بدلتے ہوئے کردار کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سیمینار میں ایس سی او کے مستقبل کے سفر، پاکستان کی صدارت اور موجودہ علاقائی و عالمی چیلنجز کے تناظر میں شنگھائی جذبے کی اہمیت پر تفصیلی اور تعمیری تبادلہ? خیال کیا گیا۔نشست کا اختتام باہمی احترام، مکالمے، تعاون اور اختلافات کے پُرامن حل پر مبنی شنگھائی جذبے سے سیکھنے کے مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا، جبکہ علاقائی روابط، معاشی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے پاکستان کے عزم کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔