فلپائن، سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں میں مبینہ کرپشن، صدر کے کزن پر مقدمہ

DW ڈی ڈبلیو پیر 7 ستمبر 2026 17:00

فلپائن، سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں میں مبینہ کرپشن، صدر کے کزن پر مقدمہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 07 ستمبر 2026ء) رکن پارلیمان فرڈینینڈ مارٹن گومیز روموالدیز ، فلپائنی صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر کے کزن اور ماضی میں ان کے اہم سیاسی اتحادی رہ چکے ہیں۔ ان سمیت دیگر ملزمان کے خلاف انسداد بدعنوانی کی خصوصی عدالت سندیگن بایان میں بڑے پیمانے پر سرکاری رقوم لوٹنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

فلپائن کے محتسب جیزس کرسپن ریمولا کے مطابق زیرِ تفتیش رقم تقریباً 7.4 ارب فلپائنی پیسو، یعنی 118 ملین ڈالر بنتی ہے۔ حکام کا الزام ہے کہ یہ رقم مختلف لین دین کے ذریعے منتقل اور استعمال کی گئی۔ روموالدیز اس سے پہلے اپنے خلاف ایسے الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

یہ معاملہ فلپائن میں سیلاب سے تحفظکے تقریباً 10 ہزار منصوبوں کی وسیع تحقیقات کا حصہ ہے۔

(جاری ہے)

یہ منصوبے 2022 کے وسط میں صدر مارکوس کے اقتدار سنبھالنے کے بعد شروع کیے جانے تھے لیکن تحقیقات میں متعدد منصوبے یا تو ناقص معیار کے تھے یا ضرورت سے زیادہ مہنگے۔ ان میں بعض ایسے بھی تھے جو سرے سے تعمیر ہی نہیں ہوئے۔

فلپائن کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی انتہائی حساس ہے کیونکہ یہ ملک دنیا میں سمندری طوفانوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

ہر سال اوسطاً تقریباً 20 ٹائیفون فلپائن سے ٹکراتے ہیں، جن کے نتیجے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔

روموالدیز کے علاوہ سابق رکن پارلیمان زالڈی بھی اس اسکینڈل کے اہم ملزمان میں شامل ہیں۔ وہ ماضی میں ایوانِ نمائندگان کی بجٹ کمیٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں اور حکام کے مطابق یورپ فرار ہونے کے بعد اب انہیں مفرور سمجھا جاتا ہے۔

اس معاملے میں ایک موجودہ سینیٹر، ایک سابق سینیٹر، سابق سرکاری انجینیئرز، پبلک ورکس کے اہلکاروں اور بڑی تعمیراتی کمپنیوں کے مالکان سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے اور انہیں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا ہے۔

محتسب ریمولا کے مطابق مبینہ طور پر چرائی گئی رقم اتنی زیادہ تھی کہ اسے چھپانے کے لیے متعدد مکانات خریدے گئے۔

انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کو ایک ملین ڈالر کا عطیہ بھی اسی رقم کو چھپانے کی کوششوں کا حصہ تھا۔

ریمولا کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات ابھی صرف آغاز ہیں۔ روموالدیز اور دیگر افراد کے خلاف مزید مقدمات دائر کیے جائیں گے، جن میں سرکاری دولت کی لوٹ مار کے علاوہ منی لانڈرنگ کے الزامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر اس مبینہ کرپشن کی وسعت کو ''خوفناک‘‘ قرار دے چکے ہیں اور انہوں نے تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کیا ہے۔ ایک صدارتی ترجمان کے مطابق مارکوس پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تحقیقات میں اپنے رشتہ داروں کو بھی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔