لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 ستمبر2026ء) چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو، فیڈرل بورڈ آف ریونیو فضاء بتول نے چھوٹے دکانداروں اور ریٹیلرز پر زور دیا ہے کہ وہ ایس آر او 1166(I)/2026 کے تحت متعارف کرائے گئے فکسڈ ٹیکس سکیم سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رضاکارانہ اسکیم چھوٹے کاروباروں کو آسان ٹیکس طریقہ
کار، ایک صفحے پر مشتمل ریٹرن اور ٹرن اوور کے ایک فیصد کے حساب سے ٹیکس کی سہولت فراہم کرتی ہے، تاہم کم از کم ٹیکس 25 ہزار روپے ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کا مقصد چھوٹے کاروباروں کے لیے ٹیکس نظام کو آسان، شفاف اور کم بوجھل بناتے ہوئے زیادہ سے زیادہ کاروباروں کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانا ہے۔وہ لاہور
چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں چھوٹے دکانداروں کے لیے ایس آر او 1166(I)/2026 کے تحت متعارف کرائے گئے خصوصی طریقہ
کار کے بارے میں کاروباری برادری کو بریفنگ دے رہی تھیں۔
(جاری ہے)
لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے فضا بتول اور ایف بی آر ٹیم کا چیمبر آمد پر خیرمقدم کیا۔اس موقع پر سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، کمشنر ان لینڈ ریونیو آمنہ کمال اور ایڈیشنل کمشنر سارہ خان بھی موجود تھیں۔ سابق صدر
لاہور چیمبر طاہر جاوید ملک جبکہ ایگزیکٹو کمیٹی ممبران آصف خان، عامر علی، آمنہ رندھاوا، رانا نثار، فردوس نثار اور رانا شعبان اختر نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ چھوٹے تاجروں کے لیے آسان اور مقررہ ٹیکس نظام کا اجرا
لاہور چیمبر کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ
لاہور چیمبر ہمیشہ چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے آسان، شفاف اور قابلِ عمل ٹیکس نظام کا مطالبہ کرتا رہا ہے تاکہ وہ پیچیدہ طریقہ
کار کے بغیر اپنی ٹیکس ذمہ داریاں پوری کرسکیں۔انہوں نے اسکیم کو رضاکارانہ قرار دیے جانے کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاروباری افراد چاہیں تو نئے نظام کے بجائے معمول کے ٹیکس نظام کے تحت ریٹرن جمع کرا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک صفحے پر مشتمل ریٹرن سے وقت اور ٹیکس فائلنگ کے اخراجات میں کمی آئے گی اور چھوٹے کاروباروں کے لیے ریٹرن جمع کرانا آسان ہوگا۔فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ ڈیجیٹل
ٹیکنالوجی کا استعمال اور اس اسکیم کے لیے ایف بی آر کی ایپ کا اجرا مثبت اقدامات ہیں، جن سے ٹیکس نظام پر عمل درآمد مزید آسان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آسان نظام سے زیادہ سے زیادہ چھوٹے
کاروبار دستاویزی معیشت کا حصہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت سالانہ 20 کروڑ روپے تک ٹرن اوور رکھنے والے اہل چھوٹے تاجر ٹرن اوور کے ایک فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کریں گے، تاہم کم از کم ٹیکس 25 ہزار روپے ہوگا۔ اس کے ساتھ انہیں پی او ایس، ڈیجیٹل انوائسنگ اور معمول کے آڈٹ کی شرائط سے بھی
استثنیٰ حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام کا مقصد کاروباری افراد کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہونا چاہیے تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں۔
اس سے نہ صرف ٹیکس بیس وسیع ہوگا بلکہ ان ٹیکس دہندگان کے لیے بھی مساوی مواقع پیدا ہوں گے جو پہلے ہی اپنی ٹیکس ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں
۔لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات کا عمل جاری رہنا چاہیے اور ٹیکس نظام کو مزید آسان، شفاف اور
کاروبار دوست بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں۔ ان اصلاحات سے کاروباری لاگت کم، سرمایہ کاری میں اضافہ اور
معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو فضا بتول نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت اہل کاروباروں کو معمول کے آڈٹ، پوائنٹ آف سیل (POS) انٹیگریشن اور ڈیجیٹل انوائسنگ کی لازمی شرائط سے
استثنیٰ حاصل ہوگا۔ رجسٹرڈ دکانداروں کو ایک گرین پلیٹ بھی فراہم کی جائے گی تاکہ فیلڈ انسپیکشن کے دوران ان کی شناخت ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ اسکیم مکمل طور پر رضاکارانہ ہے اور تاجر معمول کے ٹیکس نظام کے تحت ریٹرن جمع کرانے یا نئے آسان نظام کو اختیار کرنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرسکتے ہیں۔
فضا بتول نے کہا کہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ضروری ہے تاکہ تمام کاروباروں کے لیے یکساں مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے کاروباری برادری کی ملکی معیشت میں خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مزید کاروباروں کو بتدریج دستاویزی نظام اور ٹیکس نیٹ میں شامل ہونا چاہیے۔چیف کمشنر نے کہا کہ
لاہور چیمبر ٹیکس محکمے اور کاروباری برادری کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کاروباری افراد کو یقین دلایا کہ ایف بی آر انہیں مکمل تعاون فراہم کرے گا اور حقیقی مسائل کے حل کے لیے محکمہ کے دفاتر کے دروازے کھلے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر نے شکایات کے اندراج کے لیے ہیلپ لائن اور واٹس ایپ سہولت بھی قائم کی ہے جبکہ ٹیکس دہندگان کے مسائل سننے اور حل کرنے کے لیے اوپن
کورٹ کا طریقہ
کار بھی شروع کیا جائے گا۔
فضا بتول نے کہا کہ کاروباری افراد کی عزت اور وقار کا خیال رکھنا ضروری ہے اور ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ چھوٹے دکانداروں کے لیے متعارف کرائی گئی اسکیم میں خصوصی حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔ گرین پلیٹ رکھنے والے رجسٹرڈ
کاروبار کے احاطے میں فیلڈ ٹیمیں عام طور پر داخل نہیں ہوں گی، تاہم کسی بڑے تضاد یا بے ضابطگی کی صورت میں کارروائی کی جاسکتی ہے اور ایسی صورتحال میں چیمبر سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ خصوصی طریقہ
کار کاروباری برادری اور ریٹیلرز کے دیرینہ مطالبے پر متعارف کرایا گیا ہے تاکہ چھوٹے تاجروں کے لیے مقررہ اور آسان ٹیکس نظام دستیاب ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اسکیم رضاکارانہ ہے اور تاجروں کو معمول کے ٹیکس ریٹرن نظام کے متبادل کے طور پر آسان طریقہ فراہم کرتی ہے۔اسکیم کی نمایاں خصوصیات بیان کرتے ہوئے چیف کمشنر نے کہا کہ اس کا بنیادی اصول ’’ایک صفحہ، ایک ریٹرن، ایک فیصد‘‘ ہے اور اہل تاجروں سے کم سے کم معلومات حاصل کی جائیں گی۔
ٹیکس ٹرن اوور کے ایک فیصد کے حساب سے ہوگا جبکہ کم از کم ٹیکس کی رقم 25 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔فضا بتول نے موجودہ ٹیکس دہندگان اور کاروباری تنظیموں پر زور دیا کہ وہ ایسے تاجروں میں اس اسکیم کے بارے میں آگاہی پیدا کریں جو اس وقت ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرا رہے۔ انہوں نے تاجروں کو ترغیب دی کہ وہ اپنی آمدن ظاہر کریں اور اس آسان ٹیکس نظام کے ذریعے ٹیکس نظام کا حصہ بنیں۔