ٌپی اے سی کا انڈس ہائی وے سپینہ موڑ منصوبہ قواعد کے برخلاف دینے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم

منگل 8 ستمبر 2026 21:12

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 ستمبر2026ء) پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے انڈس ہائی وے سپینہ موڑ منصوبہ قواعد کے برخلاف دینے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے ۔ کمیٹی نے این ایچ اے کے بڑھتے ہوئے خسارے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے پالیسی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔منگل کو کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن شاہدہ اخترعلی کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاس میں منعقد ہوا ۔

اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاہ سیکرٹری مواصلات ۔اڈیٹر جنرل آف پاکستان ۔اور دیگر اداروں کے افسران نے شرکت کی ۔اجلاس میں وزارت مواصلات کے مالی سال 2024/25 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس کو آڈٹ حکام نے بتایا کہ این ایچ اے مسلسل خسارے میں جارہا ہے اور گزشتہ مالی سال کے دوران 318 ارب روپے کا خسارہ ہے۔

(جاری ہے)

رکن کمیٹی نے کہا کہ ادارے کو خسارے سے نکالنیکے لیے اقدامات اٹھانا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ادارے کے اثاثوں کے دوبارہ تعین سے خسارے میں کمی واقع ہوئی ہے ۔

رکن کمیٹی نے کہا کہ جو منصوبے خسارے والے ہوتے ہیں اس کو حکومت اپنے فنڈز سے پورا کرے۔۔چیرپرسن کمیٹی نے کہا ادارے میں شفافیت ضروری ہے۔پیپرا قوانین پر عملدرآمد اور اچھا کام نہ کرنے والے اداروں کو فارغ کرنا ہے۔اسی سے ادارے کی کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے ۔اس موقع پر سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ بلوچستان سے ہمیں کسی قسم کے محصولات نہیں ملتے ہیں مگر 3.7ٹریلین کا پورٹ فولیو ہے۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ این ایچ اے نے 2017 میں جگلوٹ سکردو روڈ کا ٹھیکہ دیا مگر یہ منصوبہ 2024تک بھی مکمل نہ ہوسکا اور ابھی بتایا گیا کہ یہ منصوبہ دسمبر2026 تک مکمل ہوگا۔اس موقع پر سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ اس منصوبے پر 86 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اس موقع پر کمیٹی نے معاملے کو موخر کرتے ہوئے مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ کوئی بھی منصوبہ اپنی مدت کے اندر مکمل نہیں ہوتا ہے۔

جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ اجلاس کو وزارت منصوبہ بندی کے حکام نے بتایا کہ اس سڑک کو جلدی میں بنانے کی وجہ سے بہت زیادہ بلاسٹنگ کی گئی جس کی وجہ سے اب لینڈ سلائیڈنگ کئی جگہوں سے شروع ہوگئی ہے۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ انڈس ہائی وے کوہاٹ سے کرک تک سڑک دورویہ سڑک کی تعمیر کا کام ایک جے وی کمپنی کو دیا گیا اور اس دوران سپینہ موڑ کے علاقے میں ایک دوسرا منصوبہ بھی اسی کمپنی کو این ایچ اے بورڈ نے دیا ۔

اس موقع پر سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ 128کلو میٹر کا منصوبہ تھا اور خیبرپختونخوا اسمبلی کی ایک قرارداد کے تحت سپینہ موڑ منصوبے کو این ایچ اے بورڈ نے اسی کمپنی کو دینے کا فیصلہ کیا ہے اس معاملے پر ایکنیک نے انکوائری کی اور کنسلٹنٹ پر جرمانہ عائد کیا گیا ۔اس موقع پر اڈیٹر جنرل پاکستان نے کہا کہ اس منصوبے میں این ایچ اے ایگزیکٹو بورڈ کو بھی مس گائیڈ کیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی دوبارہ انکوائری یونی چاہیے۔اس موقع پر کمیٹی نے معاملے کی دوبارہ انکوائری کرنے کی ہدایت کی۔اڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ چترال سے کلاش روڈ کی تعمیر کے دو پیکیجز میں زیادہ چیزیں شامل کی گئیں اور اس کا ریوائز پی سی ون بھی آڈٹ کو نہیں دکھایا گیا ۔جس پر ممبر این ایچ اے نے بتایا کہ اس منصوبے کے ڈیزائین میں کچھ نقائص تھے جس پر کنسلٹنٹ کو بلیک لسٹ کردیا گیا۔

کمیٹی نے معاملے کو مخر کردیا۔اڈٹ حکام نے بتایا کہ ٹال پلازہ سے 1.9ارب روپے وصول نہیں ہوئے ہیں۔جس پر کمیٹی نے وصولی تیز کرنے کی ہدایت کی۔سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ این 5 پر 34 ٹال پلازہ ہیں جن میں بعض ٹال پلازہ پر بہت زیادہ رش ہوتا ہے ان پر بھی ایم ٹیگ سسٹم نصب کریں گے۔انہوں نے کہا کہ موٹرویز پر شئیرنگ فارمولہ کے تحت ٹال ٹیکس جمع ہوتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ٹال پلازوں کو بیرئیر فری کرنے کی کوشش کررہے ہیں آڈٹ حکام نے بتایا کہ این ایچ اے نے شکار پور سے راجن پور تک سڑک کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا گیا اس منصوبے میں 2ارب روپے کا موبلائزئشن ایڈوانس دیا گیا۔اڈٹ حکام نے بتایا کہ یہ منصوبہ ایشیئن ڈیویلپمنٹ بنک کے قرضے سے شروع کیا گیا ہے ۔جس پر جنرل منیجر نے بتایا کہ قانون کے مطابق تمام متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کے بعد ہی منصوبے پر کام ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ابھی کافی زیادہ معاوضہ ادا کرچکے ہیں۔رکن کمیٹی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ٹھیکیدارکو 2ارب روپے سے زائد دے دیے اور 22مہینوں تک لیٹر جاری نہیں کیا گیا ۔ اس موقع پر کمیٹی نے معاملہ واپس ڈی اے سی کو بھجوا دیا ۔۔۔۔۔