ٹنڈوالہیار اسپتال میں مبینہ ہراسگی، میرپورخاص میں ڈاکٹرز کی ہڑتال

ڈپٹی کمشنر کے مبینہ نامناسب رویے کی مذمت، رویہ تبدیل نہ ہوا تو احتجاج پورے سندھ تک پھیلانے کی دھمکی

جمعہ 11 ستمبر 2026 20:21

میرپورخاص (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2026ء) ٹنڈوالہیار سول اسپتال میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے ساتھ مبینہ ہراسگی کے واقعے کے خلاف ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر سول اسپتال میرپورخاص میں ڈاکٹرز اور طبی عملے نے ٹوکن ہڑتال کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ٹنڈوالہیار سول اسپتال کی ایم ایس ڈاکٹر مریم سمیت دیگر پیرا میڈیکل اسٹاف سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

احتجاجی مظاہرے کی قیادت ڈاکٹر لکیش کتھری، ضیاء اللہ پنھور، شاہنواز کانیوں اور دیگر نے کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر لکیش کتھری، ڈاکٹر ساجن، ضیاء اللہ پنھور، شاہنواز کانیوں، ممتاز خاصخیلی اور دیگر رہنماؤں نے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ڈپٹی کمشنر ٹنڈوالہیار نے شام کے وقت سول اسپتال پہنچ کر ڈاکٹرز اور طبی عملے کو مبینہ طور پر ہراساں کیا اور ان کا رویہ غیر مناسب تھا۔

(جاری ہے)

رہنماؤں نے ڈپٹی کمشنر کے مبینہ رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی افسران کو طبی اداروں میں مداخلت اور عملے کے ساتھ نامناسب رویے کے بجائے اپنے متعلقہ شعبوں پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے وزیر اور سیکریٹری صحت اس معاملے کا نوٹس لیں اور ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف کو تحفظ فراہم کیا جائے۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ڈپٹی کمشنر ٹنڈوالہیار نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو احتجاج کا دائرہ سندھ بھر تک وسیع کردیا جائے گا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹنڈوالہیار سول ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ عنوان :