برکس کانفرنس: یو این چیف کا منصفانہ ملٹی پولر عالمی نظام پر زور

یو این پیر 14 ستمبر 2026 09:30

برکس کانفرنس: یو این چیف کا منصفانہ ملٹی پولر عالمی نظام پر زور

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 ستمبر 2026ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے اور عالمی اداروں کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہو گا۔

سیکرٹری جنرل نے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 1945 کے بعد دنیا میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، اس لیے عالمی اداروں کو بھی ان تبدیلیوں کا عکاس ہونا چاہیے۔

آج کے معاشی، آبادیاتی اور جغرافیائی سیاسی حقائق 1945 جیسے نہیں ہیں۔

Tweet URL

انہوں نے سلامتی کونسل اور بریٹن وڈز نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا تیزی سے کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے اور کثیر قطبیت عالمی نظام اور اداروں میں توازن اور مساوات پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ترقی پذیر ممالک کو عالمی برادری کی جانب سے بڑے پیمانے پر تعاون درکار ہے۔ کثیر ملکی ترقیاتی بینک زیادہ بڑا، بہتر اور زیادہ جرات مندانہ کردار ادا کریں، رعایتی مالی معاونت بڑھائیں اور قرضوں میں سہولت فراہم کرنے کے موثر طریقہ کار وضع کریں۔

مصنوعی ذہانت کے خطرات

انتونیو گوتیرش نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات سے بھی خبردار کیا۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ترقی کی رفتار کو غیر معمولی حد تک تیز کر سکتی ہے، لیکن فی الوقت اس کے فوائد چند مخصوص کمپنیوں اور ممالک تک ہی محدود ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی ترقی کی کئی دہائیوں کو چند برسوں میں سمیٹ سکتی ہے لیکن اس عمل کو بے لگام چھوڑ دیا گیا تو مصنوعی ذہانت کی خلیج آمدنی، مواقع، سلامتی اور خودمختاری سمیت ہر دوسری خلیج کو مزید وسیع کر دے گی۔

سنگین موسمیاتی بحران

سیکرٹری جنرل نے موسمیاتی بحران کی بڑھتی ہوئی شدت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جھلسا دینے والی گرمی، پگھلتے گلیشیئر، جنگلوں کی بھڑکتی آگ اور تباہ کن سیلاب آنے والے خطرات کی جھلک ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بحر الکاہل میں جاری انتہائی طاقتور ایل نینو موسمی کیفیت حالات کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔

انہوں نے عالمی حدت میں اضافے کے 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد عبور کرنے کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی تیز کرنے، میتھین گیس کے اخراج میں کمی لانے، قدرتی ماحول کے تحفظ اور ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والی اہم معدنیات کے استخراج، استعمال اور انتظام کا ایسا نظام ہونا چاہیے جس سے معدنیات پیدا کرنے والے ممالک اور مقامی آبادیوں کو روزگار اور معاشی فوائد حاصل ہوں۔

دنیا کو امن کی ضرورت

انتونیو گوتیرش نے غزہ، مشرق وسطیٰ، یوکرین اور سوڈان میں جاری جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو امن کی ضرورت ہے۔ تمام ممالک اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کا احترام کریں۔ اس میں ہر ملک کی برابر خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں کا احترام بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے دنیا کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے، تمام ممالک کو مضبوط کثیرالفریقی نظام کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا جو اجتماعی مفاد کے لیے کام کرے اور اقوام متحدہ جس کا مرکز ہو۔

نئی دہلی اعلامیہ

'مضبوطی، جدت، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر' حالیہ برکس اجلاس کا بنیادی موضوع تھا۔

اس موقع پر برکس رہنماؤں نے نئی دہلی اعلامیہ کی منظوری دی جس میں کثیر الفریقی نظام کو مضبوط بنانے، عالمی اداروں میں اصلاحات لانے اور ترقی پذیر ممالک کے کردار اور نمائندگی میں اضافے کا عزم کیا گیا ہے۔

اعلامیہ میں عالمی تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے فروغ، موسمیاتی اثرات کے مقابل پائیداری اور ترقیاتی تعاون کو آگے بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔