غزہ: اسرائیل کی کھینچی ’زرد لائن‘ فلسطینیوں پر ہوئی تنگ

یو این پیر 14 ستمبر 2026 09:30

غزہ: اسرائیل کی کھینچی ’زرد لائن‘ فلسطینیوں پر ہوئی تنگ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 ستمبر 2026ء) غزہ شہر کے مشرقی علاقے الطفہ میں اولا اشطیوی اور ان کے بچے اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے کے سامنے بیٹھے ہیں۔ یہاں سے چند ہی میٹر کے فاصلے پر اسرائیل نے سیمنٹ کے کئی بلاک نصب کر رکھے ہیں جو غزہ کے درمیان کھینچی زرد لکیر کہلاتے ہیں۔

یہ لکیر اکتوبر 2025 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا اعلان ہونے کے بعد قائم کی گئی تھی۔

اس لکیر نے غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے: فلسطینی آبادی کی اکثریت لکیر کے مغربی حصے تک محدود ہے جبکہ مشرقی حصہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

ابتدا میں مغربی حصہ غزہ کے 47 فیصد علاقے پر محیط تھا تاہم اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، اسرائیلی فوج اس لکیر کو مغرب کی جانب پھیلا کر فلسطینیوں کا علاقہ مزید محدود کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

اس وقت فلسطینی غزہ کے 40 فیصد سے بھی کم رقبے میں مقیم ہیں۔ اسرائیلی افواج کی جانب سے لکیر کو مغرب کی طرف بڑھانے کے نتیجے میں اس کے قریب آباد خاندانوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

لکیر کے قریبی علاقے زیتون کی رہائشی ابتسام ملیکہ کے لیے اس صورتحال کا مطلب بار بار بے گھر ہونا، واپس آنا اور ایک مرتبہ پھر نقل مکانی کرنا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ہر دو تین ماہ کے بعد انہیں اپنا گھر اور سامان وہیں چھوڑ جانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ ان کا خاندان جنگ میں اپنے کئی بچے کھو چکا ہے اور یہ سب کچھ اب ان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔

UN News اولا اشطیوی اور ان کے خاندان کے لیے زرد لکیر کے قریب رہتے ہوئے روزمرہ زندگی انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔

ناقابل برداشت زندگی

اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ کی تمام 21 لاکھ آبادی زرد لکیر کے مغربی حصے میں مقیم ہے۔ ان میں بہت سے لوگ زرد رنگ کے بلاکس کے قریب آباد ہیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان علاقوں، بالخصوص غزہ شہر کے مشرقی حصے میں واقع الطفہ اور زیتون میں اس لیے مقیم ہیں کہ ان کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں۔

الطفہ کی رہائشی صفہ مشتہٰی کہتی ہیں 'ہم کہاں جائیں؟' یہ وہ سوال ہے جو ان جیسے لوگ تین سال سے خود سے پوچھ رہے ہیں۔ ان کے لیے زرد لکیر کے قریب رہنا بھی قابل قبول تھا لیکن اب یہ زندگی ان کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔

شدید انسانی ضروریات

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بے گھر افراد کے لیے نسبتاً محفوظ مقامات پر خیمہ بستیاں قائم کرنا بھی مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے کیونکہ مناسب زمین کا بڑا حصہ زرد لکیر کے مشرق، جنوب اور شمال میں واقع ممنوعہ یا محدود علاقوں کے اندر واقع ہے۔

اوچا کے مطابق، غزہ کی تقریباً 19 لاکھ 80 ہزار یا 94 فیصد آبادی رہائش اور دیگر غیر غذائی ضروریات سے متعلق امداد کے محتاج ہے۔ 84 فیصد خاندان انتہائی دشوار حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں بہت سے لوگ ایسے عارضی ٹھکانوں یا خیموں میں مقیم ہیں جو موسم کی سختیوں سے تحفظ فراہم نہیں کرتے۔

اولا اشطیوی کے لیے زرد لکیر کے قریب رہتے ہوئے روزمرہ زندگی انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔

انہوں نے یو این نیوز کو بتایا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ کیا کریں اور کہاں جائیں۔ ان کے پاس نہ خیمہ ہے اور نہ ہی مالی وسائل ہیں۔

زیتون کے رہائشی احمد ارحیم نے بتایا کہ فائرنگ اور ڈرون کی آوازوں کے باعث لوگوں کے لیے رات کو سونا دشوار ہو گیا ہے۔ بچے خوف زدہ رہتے ہیں اور بستر گیلا کر دیتے ہیں۔ بہت سے رہائشی پہلے ہی علاقے سے جا چکے ہیں۔

جو لوگ باقی ہیں وہ مسلسل بے گھر ہوتے رہتے ہیں۔

UN News غزہ میں اسرائیل کی کھینچی زرد لکیر کے گرد تباہ حال عمارتوں کا ملبہ دیکھا جا سکتا ہے۔

خونریزی روکنے کا مطالبہ

فلسطینی حکام کے مطابق، 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کے بعد اب تک 1,334 افراد ہلاک اور 4,429 زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ غزہ میں خونریزی بند ہونی چاہیے۔

دفتر کے مطابق، اگست کے اواخر میں صرف پانچ یوم کے دوران ہی اسرائیلی حملوں میں 24 فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں چار بچے اور ایک خاتون بھی شامل تھیں۔ ان میں سے 21 افراد فضائی حملوں میں مارے گئے۔