میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کی انکوائری کمیٹی کی پیرودھائی اڈہ میںغیر قانونی چندہ وصولی پرکارروائی کی سفارش

منگل 15 ستمبر 2026 20:53

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 15 ستمبر2026ء) میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کی انکوائری کمیٹی نے جنرل بس سٹینڈ پیرودھائی میں ٹرانسپورٹروں و بس مالکان سے مبینہ طور پر غیر قانونی چندہ وصولی، بس بے ایڈجسٹمنٹ اور تجدید کے معاملات پر متعلقہ حکام کی جانب سے ریکارڈ کی جانچ اور قواعد کے مطابق کاروائی کی سفارش کر دی ہے اس سلسلے میں تیار کی گئی دفتری دستاویزات میں ٹرانسپورٹ یونین کے ذریعے مبینہ طور پر وصول کی جانے والی رقوم، بس بے تجدید کی درخواستوں اور متعلقہ انتظامی امور پر متعدد نکات کی نشاندہی کی گئی ہے جنرل بس سٹینڈ کے تاجروں و ٹرانسپورٹروں کے مطابق پاکستان ٹرانسپورٹ ویلفیئر اونرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جنرل بس سٹینڈ کی حدود میں ٹرانسپورٹروں سے غیر قانونی طور پر 50 روپے فی بس یومیہ فنڈز(بھتہ) وصول کئے جانے کی شکایات سامنے آئی تھیں جس پر اسسٹنٹ منیجر جنرل بس سٹینڈ کی جانب سے گزشتہ سال 24 نومبر کو نوٹس جاری کیا گیا، جس میں یونین سے وصول کی جانے والی رقوم کی قانونی بنیاد، متعلقہ اجازت نامہ اور گزشتہ 6 ماہ کا مکمل ریکارڈ طلب کیا گیا تھا جبکہ یہاں روزانہ چلنے والی بسوں کی تعداد تقریبا 700 ہے اطلاعات کے مطابق یونین کو ہدایت کی گئی تھی کہ اگر وصولی کے لئے کوئی قانونی جواز یا مجاز اتھارٹی کی منظوری موجود ہے تو وہ پیش کی جائے، بصورت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت ضروری کاروائی عمل میں لائی جائے گی بعد ازاں اس معاملے پر انکوائری بھی کی گئی، جس میں غیرمجاز وصولی روکنے اور جنرل بس سٹینڈ میں مسافروں کے سفری ریکارڈ اور ویڈیو ریکارڈنگ کی خدمات کو باقاعدہ انتظامی نگرانی میں جاری رکھنے کی سفارش کی گئی تھی انکوائری رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ جنرل بس سٹینڈ میں قائم ٹریول آئی/ویڈیو ریکارڈنگ آفس اور اس سے متعلقہ سامان و ریکارڈ کو میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کے انتظامی کنٹرول میں لیا جائے اس کے علاوہ ان خدمات کو شفاف ٹینڈر کے ذریعے آٹ سورس کرنے اور کسی بھی فیس یا چندہ وصولی کو مجاز منظوری سے مشروط کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے کمیٹی نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ پاکستان ٹرانسپورٹ ویلفیئر اونرز ایسوسی ایشن سے گزشتہ تقریبا 8 ماہ کے دوران وصول کئے گئے فنڈز یا چندہ کا مکمل ریکارڈ، رسید بکس، رجسٹر، واچرز، لیجرز اور بنک اسٹیٹمنٹس طلب کئے جائیں، تاکہ متعلقہ ریکارڈ کی جانچ کے بعد واجب الادا رقم کا تعین کیا جا سکے لیکن اس معاملہ کو بھی تقریبا ایک سال ہونے کو ہے لیکن ادارہ کی جانب سے کوئی کاروائی عمل میں نہ لائی گئی ہے ذرائع کے مطابق دوسری جانب بس بے ایڈجسٹمنٹ اور تجدید کے معاملات پر تیار کی گئی رپورٹ میں متعدد انتظامی اور قانونی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں رپورٹ کے مطابق بعض درخواستوں میں پہلے سے الاٹ شدہ بس بے کے بجائے دھوکہ سے دیگر بس بے کی تجدید طلب کی گئی جبکہ بعض معاملات میں منسوخ شدہ بس بے یا آف روڈ گاڑیوں سے متعلق دستاویزات بھی شامل تھیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض ڈی کلاس بسوں کو سی کلاس جنرل بس اسٹینڈ میں ایڈجسٹ کئے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جن کے حوالے سے متعلقہ قواعد کے تحت جانچ کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اسی طرح بعض معاملات میں اصل مالکان یا آپریٹرز کے بجائے دیگر افراد کے نام پر ایڈجسٹمنٹ حاصل کرنے اور کمیشن کی بنیاد پر گاڑیاں چلائے جانے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ٹرانسپورٹ یونین کے ذریعے اجتماعی طور پر جمع کرائی گئی بس بے تجدید کی درخواست منظور نہ کی جائے، بلکہ متعلقہ ٹرانسپورٹرز یا مالکان سے انفرادی درخواستیں براہ راست طلب کی جائیں، تاکہ ہر کیس کو میرٹ، دستیاب ریکارڈ اور متعلقہ بائی لاز کے مطابق شفاف طریقے سے نمٹایا جا سکے دوسری جانب عوامی و کاروباری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جنرل بس سٹینڈ میں مبینہ غیرمجاز چندہ وصولی اور بس بے ایڈجسٹمنٹ 2023 کے معاملات کی مکمل چھان بین کی جائے، اور اگر کسی فرد یا تنظیم کی جانب سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔