یورپ پہنچنے والے تارکین وطن میں 39 فیصد کمی، آئی ایم او
یو این
جمعہ 18 ستمبر 2026
02:15
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 18 ستمبر 2026ء) عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ رواں سال یورپ پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم وسطی بحیرہ روم کے راستوں پر مہاجرین کی ہلاکتوں کا سلسلہ بدستور بڑھ رہا ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق، رواں سال تقریباً 60 ہزار تارکین وطن اور پناہ گزین سمندری راستے سے یورپ پہنچے ہیں۔
یہ تعداد گزشتہ سال اسی عرصہ کے دوران یورپ آنے والے 98,040 افراد کے مقابلے میں 39 فیصد کم ہے۔ سمندری راستے سے یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران کم از کم 2,292 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 1,999 تھی۔ 'آئی او ایم' کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار بیک وقت دو کہانیاں بیان کرتے ہیں۔
(جاری ہے)
اٹلی اور یونان آنے والوں میں کمی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ، یورپ آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں ترین کمی وسطی بحیرہ روم کے راستے اٹلی پہنچنے والوں میں ریکارڈ کی گئی جن کی تعداد 48,231 سے کم ہو کر 21,393 رہ گئی۔
تاہم اس راستے پر ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جو 844 سے بڑھ کر 996 ہو گئی۔20,428 افراد یونان پہنچے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 25,427 تھی۔ مشرقی بحیرہ روم کے راستے سے یونان جانے والوں ہلاکتیں 284 سے بڑھ کر 417 ہو گئیں۔
سپین پہنچنے والے لوگوں کی تعداد 16,794 رہی جو بحراوقیانوس اور مغربی بحیرہ روم کے راستوں سے آئے۔ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 22,855 تھی۔
تاہم اس راستے پر ہلاکتوں کی تعداد بدستور بلند رہی جہاں 879 افراد پانی کی نذر ہو گئے۔ادارے کے مطابق، بہت سے بحری جہازوں کے ڈوبنے اور لوگوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔ اس لیے ہلاکتوں کی حقیقی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
محفوظ اور باقاعدہ ہجرت
تارکین
وطن کو سمندر میں روکنے کا سلسلہ بھی بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ 'آئی او ایم' کی جانب سے لیبیا کے ساحلی محافظوں کے فراہم کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ جنوری سے ستمبر کے وسط تک 17,067 تارکین وطن کو سمندر میں روک کر لیبیا واپس بھیج دیا گیا۔ایمی پوپ نے کہا ہے کہ ایسے ہر عدد کے پیچھے ایک انسان، ایک خاندان اور ایک برادری موجود ہے۔ یورپ کی جانب آمد میں کمی کے باوجود ہلاکتوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تارکین وطن مزید خطرناک راستے اختیار کر رہے ہیں۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مسلسل بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے جو انسانی جانیں بچائے، نقل مکانی کرنے والے افراد کا تحفظ کرے، انسانی سمگلنگ اور استحصال کا مقابلہ کرے اور محفوظ اور باقاعدہ ہجرت کے راستے وسیع کرنے میں مدد دے۔'آئی او ایم' تارکین وطن کے آبائی ممالک، عبوری منازل اور ان کی منزل مقصود بننے والے ممالک میں حکومتوں، شراکتی اداروں اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے سے نمٹ رہا ہے۔
موثر تحفظ، رضاکارانہ واپسی اور معاشرے میں بحالی کے لیے معاونت، باقاعدہ ہجرت کے راستوں میں توسیع اور ان پر خطرات میں کمی لانا اس کوشش کا مرکز ہے۔
مزید اہم خبریں
-
یو این چیف کا اظہار نفرت کے نئے پلیٹ فارموں کو قابو میں لانے پر زور
-
ایران میں امریکی جنگی جرائم کے ارتکاب کا معقول ثبوت موجود، تحقیقاتی مشن
-
یورپ پہنچنے والے تارکین وطن میں 39 فیصد کمی، آئی ایم او
-
شام میں استحکام عوامی مسائل کے حل کا ذریعہ ہونا چاہیے، یو این نمائندہ
-
وزیراعلیٰ اپنے جہاز پر لندن کیوں گئیں؟ مریم نواز کو چاہیئے کہ اپنے بیانات میں تضاد پر خود ہی غور کریں، حامد میر
-
کراچی: سرجانی ٹاؤن میں ماں اور 3 بچوں کا قاتل مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
-
باپ نے گھریلو جھگڑے سے تنگ آکر اپنے 3 بچوں کو منگلا نہر میں پھینک دیا
-
جاپان میں 100 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی
-
17 تاریخ ہوگئی لیکن راولپنڈی کے تینوں بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ڈیل ویجز ملازمین کو تنخواہ نہیں ملی
-
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ کی اسلام آباد میں سفارتی کور کے ارکان سے الوداعی ملاقات
-
سلامتی کونسل میں روس اور چین نے ایران پر پابندیوں کی امریکی قرارداد کا مسودہ ویٹو کردیا
-
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش ہوگئیں،وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے الوداعی ملاقات
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.