Live Updates

ایران میں امریکی جنگی جرائم کے ارتکاب کا معقول ثبوت موجود، تحقیقاتی مشن

یو این جمعہ 18 ستمبر 2026 02:15

ایران میں امریکی جنگی جرائم کے ارتکاب کا معقول ثبوت موجود، تحقیقاتی ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 18 ستمبر 2026ء) ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال جاننے کے لیے اقوام متحدہ کے مقرر کردہ غیرجانبدار تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ یہ یقین کرنے کی معقول بنیاد موجود ہے کہ امریکہ نے ایران میں سکول اور ایک رہائشی علاقے پر حملوں کی صورت میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔

تفتیش کاروں نے سوموار کو جاری کی جانے والی اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ایرانی حکومت نے گزشتہ اور رواں سال احتجاجی مظاہروں میں شریک افراد کو قتل کیا، حراست میں لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا جو کہ انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔

Tweet URL

ایران میں شہری بیک وقت دو طرفہ تشدد کی زد میں آ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

ایک جانب حکومت کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لیے پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کی افواج ان پر مہلک فضائی حملے کر رہی ہیں۔

شہری اہداف پر حملے

رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے دو واضح طور پر قابل شناخت شہری اہداف پر اندھا دھند حملے کیے جن میں ایک میناب میں واقع پرائمری سکول اور دوسرا لامرد میں کھیلوں کا مرکز اور رہائشی علاقہ شامل ہیں۔

سکول پر حملے میں 123 بچوں سمیت 157 افراد ہلاک ہوئے جبکہ دوسرے حملے میں 22 شہری ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

مشن کو ملنے والے شواہد اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ حملے امریکہ نے کیے اور ان میں استعمال ہونے والے میزائل انتہائی غیرواضح نوعیت کے تھے جنہیں کسی مخصوص عسکری ہدف کی جانب متعین نہیں کیا جا سکتا تھا۔

ماہرین نے ایران اور امریکہ دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کریں۔

اس میں یہ ضمانت بھی شامل ہو سکتی ہے کہ مبینہ جرائم دوبارہ نہیں دہرائے جائیں گے جبکہ متاثرہ افراد کو معاوضہ یا دیگر مناسب تلافی بھی فراہم کی جائے۔

مظاہرین پر مظالم

تفتیش کاروں کے مطابق، دسمبر 2025 میں ایرانی حکومت کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے ابتدا میں بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کے خلاف ردعمل تھے لیکن بعد میں سیاسی تبدیلی کے مطالبات میں تبدیل ہو گئے۔

یہ احتجاج تیزی سے ایران کے تمام 31 صوبوں اور 200 سے زیادہ شہروں تک پھیل گئے اور اب بھی جاری ہیں۔

حکومت نے احتجاج کے جواب میں انٹرنیٹ اور موبائل مواصلاتی نظام بند کر دیا جس کے باعث شہریوں کے لیے طبی امداد طلب کرنا بھی مشکل ہو گیا۔ دوسری جانب، سکیورٹی فورسز نے مظاہرین اور راہ گیروں کے خلاف مہلک گولہ بارود استعمال کیا۔ تفتیش کاروں کے مطابق اس کارروائی میں مبینہ طور پر کم از کم 221 بچے بھی ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق، سکیورٹی فورسز نے طبی مراکز کو بھی نشانہ بنایا، زخمی مظاہرین کو مارا پیٹا اور گرفتار کیا جبکہ طبی کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ اس صورتحال نے دیگر طبی کارکنوں کو بھی زخمی افراد کا علاج کرنے سے روکا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بعض واقعات میں حکومتی اہلکاروں نے متاثرین کی لاشیں حوالے کرنے کے عوض رقم کا مطالبہ بھی کیا۔

انصاف اور امن کا مطالبہ

ایران کی حکومت کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 3,038 افراد ہلاک اور 25,000 زخمی ہوئے۔ تاہم مشن کے مطابق، یہ یقین کرنےکی معقول وجوہات موجود ہیں کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی حقیقی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ مارچ سے اگست کے دوران کم از کم 29 افراد کو احتجاجی مظاہروں سے تعلق کے الزام میں سرسری مقدمات کے بعد پھانسی دی گئی۔

تفتیش کاروں نے اقوام متحدہ کے اس مطالبے کو بھی دہرایا ہے کہ تمام جنگی فریق لڑائی کا فوری طور پر خاتمہ کرتے ہوئے مستقل امن کی جانب پیش رفت کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ فریقین کو یقینی بنانا چاہیے کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پامالیوں کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات ہوں اور ذمہ دار افراد سے قانون کے مطابق جواب طلبی کی جائے۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات