یو این چیف کا اظہار نفرت کے نئے پلیٹ فارموں کو قابو میں لانے پر زور

یو این جمعہ 18 ستمبر 2026 02:15

یو این چیف کا اظہار نفرت کے نئے پلیٹ فارموں کو قابو میں لانے پر زور

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 18 ستمبر 2026ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سول سوسائٹی پر زور دیا ہے کہ وہ اظہار نفرت کا خاتمہ کرنے کے لیے مشترکہ اور موثر اقدامات کریں کیونکہ تیزی سے پھیلتے زہریلے پیغامات معاشروں کی گہرائیوں تک اثر انداز ہو رہے ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ سے متعلق عالمی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اظہار نفرت سے تشدد کو ہوا ملتی ہے، تنازعات بڑھتے ہیں اور نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور نسلی صفایا جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب آسان ہو جاتا ہے۔

دنیا ایسے حالات پہلے بھی دیکھ چکی ہے اور اور آج بھی دیکھ رہی ہے۔

(جاری ہے)

اسے مزید جاری رہنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

Tweet URL

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور میں دنیا بھر کے لوگوں سے وعدہ لیا گیا ہے کہ وہ برداشت کا مظاہرہ کریں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھے ہمسایوں کی طرح امن سے رہیں گے۔

اقوام متحدہ اس عہد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھرپور کوششیں کرتا آیا ہے لیکن نفرت کا اظہار ہمیشہ اس تصور کی راہ میں رکاوٹ رہا ہے۔ آج یہ اظہار نئی اشکال اختیار کر رہا ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم، الگورتھم اور مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجی کو نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے۔

مشترکہ انسانیت کا امتحان

سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا کہ نفرت انگیز بیانیے کی بڑھتی ہوئی رسائی مشترکہ انسانیت کا امتحان لے رہی ہے۔

اس کے نتیجے میں باہمی اعتماد کمزور ہو رہا ہے، معاشرے تقسیم ہو رہے ہیں اور لوگوں کو انسان نہ سمجھنے کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نفرت انگیز بیانیہ قبولیت، ہمدردی، باہمی فہم اور تنوع کے احترام کی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ نسل پرستی، خواتین سے نفرت اور اجنبیوں کی مخالفت جیسے رجحانات کو سراہا جا رہا ہے۔

اسی طرح یہود دشمنی، مسلمانوں کے خلاف نفرت، اقلیتی برادریوں کے خلاف امتیازی رویے اور دیگر مذہبی و نسلی گروہوں سے نفرت کو بھی معمول کا حصہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اجتماعی اقدامات کی ضرورت

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اجتماعی طور پر آواز بلند کرنا ہو گی اور نفرت کو مسترد کرنا ہو گا۔ یہی نہیں بلکہ آن لائن اور آف لائن، دونوں جگہ نفرت انگیز اظہار کو روکنے کے لیے کوششیں دوگنا کرنا ہوں گی۔

نفرت انگیز بیانیے پر قابو پانے کا مطلب آزادی اظہار کو ختم کرنا نہیں، تاہم اظہار کی آزادی کو کسی نقصان کا سبب بننے یا اسے مزید بڑھانے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ عالمی برادری پہلے ہی جانتی ہے کہ نفرت انگیز بیانیوں سے ہونے والے نقصانات کو کس طرح روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے دو اہم اقدامات کا حوالہ دیا جن میں نفرت کے اظہار کے خلاف حکمت عملی اور مذہبی مقامات کے تحفظ کا لائحہ عمل شامل ہیں۔

آخر میں انہوں نے عالمی برادری کے نام پیغام میں کہا کہ باہمی مفاہمت اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا اور خوف، نفرت و تشدد کا خاتمہ کر کے اقوام متحدہ کے منشور کی مطابقت سے متحد، پرامن اور مستحکم معاشرے تشکیل دینا ہوں گے۔