شام میں استحکام عوامی مسائل کے حل کا ذریعہ ہونا چاہیے، یو این نمائندہ
یو این
جمعہ 18 ستمبر 2026
02:15
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 18 ستمبر 2026ء) شام کے لیے اقوام متحدہ کے نائب خصوصی نمائندے کلاڈیو کورڈون نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ ملک نے بہتری اور استحکام کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے جسے شامی عوام کو درپیش بڑے مسائل کے حل کا ذریعہ بننا چاہیے۔
انہوں نے کونسل کو شام کے حالات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں عوام کے سامنے جوابدہ اداروں کو مضبوط بنانے، سیاسی عمل میں عوامی شمولیت کا دائرہ وسیع کرنے، شہری آزادیوں کے تحفظ اور انصاف کے عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اس مقصد کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کو بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں کے ساتھ شامی مہاجرین کی محفوظ، باوقار اور رضاکارانہ واپسی کے لیے مسلسل سیاسی اور عملی تعاون فراہم کرنا ہو گا۔
(جاری ہے)
شام کو ایسا ملک ہونا چاہیے جہاں نمائندہ ادارے موجود ہوں، ماضی اور حال کے اقدامات پر جواب دہی ہو اور عوام کی روزمرہ زندگی میں حقیقی بہتری آئے۔
عوامی اسمبلی اور نیا آئین
انہوں نے شامی عوامی اسمبلی کی جانب سے 26 مستقل کمیٹیوں کی تشکیل کے اعلان کا تذکرہ بھی کیا اور کونسل کو اسمبلی کے سپیکر عبدالحمید العواق سے اپنی ملاقات اور مستقبل میں پارلیمانی و صدارتی انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے شامی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ شام میں کسی بھی آئینی عمل کا جامع، شفاف اور عوامی شمولیت پر مبنی ہونا ایک حقیقی سماجی معاہدے اور مستقبل کی ریاست کے بارے میں مشترکہ تصور تشکیل دینے کے ضمن میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اقتصادی انضمام کی جانب اٹھائے گئے اقدامات کو اہم قرار دیتے ہوئے امداد دینے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کو فروغ دینے میں سہولت فراہم کریں کیونکہ بالآخر شامی شہری معاشی بحالی کو اپنی روزمرہ زندگی کی حقیقتوں سے ہی پرکھیں گے۔
شمال مشرق اور السویدا میں تشدد
نائب خصوصی نمائندے نے ملک کے شمال مشرقی علاقے میں پرتشدد حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے السویدا کی صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے یکم ستمبر کے واقعات کا حوالہ دیا جب شیخ حکمت الہجری سے وابستہ نیشنل گارڈ اور داخلی سکیورٹی فورسز کے درمیان دوبارہ جھڑپیں ہوئیں جن میں کئی افراد زخمی ہوئے۔
کورڈونے نے کہا کہ السویدا کا مسئلہ اور وہاں کی دروز برادری کا مستقبل بالآخر خود شامیوں کو ہی طے کرنا ہو گا۔ یہ کام متحدہ شام کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اور کسی ایسی بیرونی مداخلت کے بغیر ہونا چاہیے جو اس عمل میں رکاوٹ کا باعث ہو۔
جنوبی شام میں اسرائیلی موجودگی
اقوام متحدہ
کے عہدیدار نے جنوبی شام میں اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی اور سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ 1974 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی پامالیاں بند ہونی چاہییں اور معاہدے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ سلامتی سے متعلق خدشات کا پائیدار حل یکطرفہ عسکری کارروائی یا غیر معین مدت تک عسکری موجودگی کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ سفارت کاری کو غالب آنا چاہیے۔انہوں نے شام اور ہمسایہ ممالک کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے، کشیدگی میں کمی لانے اور پائیدار سلامتی کو فروغ دینے کے لیے امریکہ کی قیادت میں جاری ثالثانہ کوششوں کا خیرمقدم کیا۔
چار بڑے مسائل
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ تقریباً 300 شراکتی اداروں کے ساتھ مل کر رواں سال ہر ماہ 25 لاکھ سے زیادہ لوگوں تک امداد پہنچانے میں کامیاب رہا ہے۔
تاہم انہوں نے چار بڑے مسائل کی نشاندہی کی جو اس پیش رفت کے لیے خطرہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا، پہلا مسئلہ یہ ہے کہ شام کے اندر 55 لاکھ پناہ گزین ابھی تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے۔ ان میں 8 لاکھ افراد کیمپوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد 75 فیصد سے زیادہ ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ کہ مقامی سطح پر عدم تحفظ کے باعث بحالی کے عمل میں رکاوٹ آ رہی ہے۔ حقیقی استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تمام برادریوں، خصوصاً شامی خواتین کو ملک کے سیاسی اور معاشی دھارے میں مکمل طور پر شامل نہ کیا جائے۔
انہوں نے تیسرے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باعث رسد کے سلسلے متاثر ہو رہے ہیں، انسانی امداد تک رسائی کم ہو رہی ہے اور شامی خاندانوں پر معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
چوتھے مسئلے کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بارودی سرنگوں کی موجودگی میں معیشت بحال نہیں کی جا سکتی۔ اس مقصد کے لیے جا بجا بکھرے ہر طرح کے بارودی مواد کا خاتمہ ضروری ہے۔
سلامتی کونسل سے تین مطالبات
انڈر سیکرٹری جنرل نے سلامتی کونسل کے ارکان کو تین مطالبات پیش کیے جن کا مقصد شامی عوام کو واپسی، تعمیر نو اور بحران سے نکلنے میں مدد دینا ہے:
- انسانی امداد کی فراہمی سے آگے بڑھ کر تعمیر نو اور معاشی ترقی کی جانب منتقلی میں سرمایہ کاری کی جائے۔
- بحالی اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائی جن میں بارودی سرنگوں کی صفائی، ملبہ ہٹانا، انتظامی مشکلات پر قابو پانا اور روزگار کے ذرائع کی بحالی شامل ہے۔
- شام کو علاقائی تنازعات کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے درکار سیاسی اثر و رسوخ سے موثر کام لیا جائے۔
متعلقہ عنوان :
مزید اہم خبریں
-
یو این چیف کا اظہار نفرت کے نئے پلیٹ فارموں کو قابو میں لانے پر زور
-
ایران میں امریکی جنگی جرائم کے ارتکاب کا معقول ثبوت موجود، تحقیقاتی مشن
-
یورپ پہنچنے والے تارکین وطن میں 39 فیصد کمی، آئی ایم او
-
شام میں استحکام عوامی مسائل کے حل کا ذریعہ ہونا چاہیے، یو این نمائندہ
-
وزیراعلیٰ اپنے جہاز پر لندن کیوں گئیں؟ مریم نواز کو چاہیئے کہ اپنے بیانات میں تضاد پر خود ہی غور کریں، حامد میر
-
کراچی: سرجانی ٹاؤن میں ماں اور 3 بچوں کا قاتل مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
-
باپ نے گھریلو جھگڑے سے تنگ آکر اپنے 3 بچوں کو منگلا نہر میں پھینک دیا
-
جاپان میں 100 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی
-
17 تاریخ ہوگئی لیکن راولپنڈی کے تینوں بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ڈیل ویجز ملازمین کو تنخواہ نہیں ملی
-
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ کی اسلام آباد میں سفارتی کور کے ارکان سے الوداعی ملاقات
-
سلامتی کونسل میں روس اور چین نے ایران پر پابندیوں کی امریکی قرارداد کا مسودہ ویٹو کردیا
-
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش ہوگئیں،وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے الوداعی ملاقات
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.