وفاقی حکومت کا افسر شاہی کے نظام میں بنیادی اصلاحات کے لئے بڑا فیصلہ

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندگان کے ساتھ مشاورتی اجلاس تعلیم و صحت میں تعلیم کی بنیاد پر بھرتیوںِعہدوں اور ترقیوں کو محض سینیارٹی کے بجائے قابلیت سے مشروط کرنے کی سفارش

اتوار 20 ستمبر 2026 18:05

وفاقی حکومت کا افسر شاہی کے نظام میں بنیادی اصلاحات کے لئے بڑا فیصلہ
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 ستمبر2026ء) وفاقی حکومت نے افسر شاہی کے نظام میں بنیادی اصلاحات کے لئے بڑا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس مقصد کیلئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندگان کے ساتھ مشاورتی اجلاس ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے احسن اقبال کی سربراہی میں سول سروسز ریفارمز پر خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی نے 46 اہم سفارشات مرتب کر لیں۔جاری اعلامیہ کے مطابق 46 میں سے 43 سفارشات پر مکمل اتفاقِ رائے قائم کر لیا گیا، وفاقی وزیر کی زیر صدارت اجلاس میں سیاسی جماعتوں اور پالیسی ماہرین کی شرکت کی۔ اجلاس میں سول سروس ریفارمز پر ایک جامع مشاورت کی گئی اورکمیٹی مجوزہ اصلاحات پانچ بنیادی اصولوں پر مبنی ہیں۔

(جاری ہے)

کمیٹی نے روایتی جنرل کیڈر کے بجائے تعلیم، صحت، مالیات، آئی ٹی اور زراعت جیسے شعبوں میں متعلقہ تعلیمی پس منظر کے مطابق پیشہ ورانہ بھرتی کی سفارش کی ہے۔

اسی طرح کمیٹی کی طرف سے عہدوں اور ترقیوں کو محض سینیارٹی کے بجائے قابلیت سے مشروط کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ کارکردگی کو ناپنے کے لیے واضح کے پی آئی کا نظام اور جوابدہی کے نظام کی سفارش بھی کی گئی ہے ۔کمیٹی نے زبان کی غیر ضروری رکاوٹ ختم کر کے تمام باصلاحیت نوجوانوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔اسی طرح آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیٹا سسٹمز کے استعمال کے ذریعے عوام کو خدمات کی فراہمی تیز اور شفاف بنانے کی سفارش کی گئی ہے ۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ انگریز کے دور کا نوآبادیاتی انتظامی نظام جو صرف قانون کی پاسداری اور ٹیکس وصولی کے لیے بنا تھا، انگریز کا قائم کردہ نظام موجودہ دور کے جدید معاشی، تکنیکی اور سماجی تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا۔ذرائع کے مطابق کمیٹی سفارشات کو حتمی شکل دے کر وزیراعظم محمد شہباز شریف کو پیش کرے گی۔