کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی امورنے متعدد قانونی ترامیم کے مسودات کی منظوری دیدی

منگل 22 ستمبر 2026 17:53

کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی امورنے متعدد قانونی ترامیم کے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 ستمبر2026ء) وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں قائم کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی امور نے پاکستان آئل ریفائننگ، بلینڈنگ، ٹرانسپورٹیشن، اسٹوریج اینڈ مارکیٹنگ رولز، 2016 میں ترمیم، اوگرا آرڈیننس، 2002 کے سیکشن 30 میں ترمیم، وفاقی پبلک سروس کمیشن آرڈیننس، 1977 میں ترمیم اور پاکستان میرین اکیڈمی کو ڈگری دینے والا ادارہ بنانے سمیت متعدد قانونی تجاویز و مسودات کی منظوری دے دی۔

کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی امور کا اجلاس منگل کو یہاں کابینہ ڈویژن میں وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف قانونی و انتظامی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں متعلقہ وزارتوں، محکموں اور ڈویڑنز کے نمائندگان نے شرکت کی۔کمیٹی نے پاکستان آئل ریفائننگ، بلینڈنگ، ٹرانسپورٹیشن، اسٹوریج اینڈ مارکیٹنگ رولز، 2016 میں ترمیم کی منظوری دے دی۔

کمیٹی نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس، 2002 کے سیکشن 30 میں ترمیم کی منظوری دی، جس کے تحت اوگرا میں ممبر قانون کی آسامی شامل کرنے کی تجویز منظور کی گئی۔ کمیٹی نے وفاقی پبلک سروس کمیشن آرڈیننس، 1977 میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی۔کمیٹی نے پاکستان میرین اکیڈمی کو ڈگری دینے والا ادارہ بنانے کی تجویز منظور کرلی، جس کے تحت پاکستان میرین اکیڈمی کو پاکستان میرین انسٹی ٹیوٹ، کراچی کے نام سے اپ گریڈ کیا جائے گا۔

کمیٹی نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس آرڈیننس، 1979 منسوخ کرنے کے مسودہ قانون کی منظوری دے دی۔ کمیٹی نے وفاقی فلڈ کمیشن کی ازسرنو تشکیل، تنظیم نو اور اصلاحات سے متعلق مسودہ قانون، 2026 کی بھی منظوری دے دی۔اجلاس میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے متعلق قواعد میں ترامیم کا مسودہ بھی پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے اس معاملے پر آئندہ اجلاس میں غور کرنے کا فیصلہ کیا۔