اقوام متحدہ اپنے منشور کے مطابق کردار ادا کرنے میں ناکام، اردوان

یو این بدھ 23 ستمبر 2026 18:15

اقوام متحدہ اپنے منشور کے مطابق کردار ادا کرنے میں ناکام، اردوان

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 23 ستمبر 2026ء) ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اسرائیل کی غزہ پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی اپنی اپیل دہرائی، جبکہ اقوامِ متحدہ کے نظام اور سلامتی کونسل میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔

اپنی تقریر کے آغاز میں صدر اردوان نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ فلسطینی صدر محمود عباس مسلسل دوسرے سال جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ فلسطینی عوام اور ان کی ریاست کے قیام کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا اور ان ممالک سے ایک بار پھر اپیل کی جو اب تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتے کہ وہ اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کریں۔

غزہ کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران غزہ میں 74 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔

(جاری ہے)

انہوں نے ان ہلاکتوں کو اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ غزہ کے عوام اب بھی ملبے تلے دبے اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں جبکہ بہت سے بچے جسمانی معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

’بچوں کا قبرستان‘

اردوان نے کہا کہ غزہ "بچوں کا سب سے بڑا قبرستان" بن چکا ہے اور وہاں بچوں کے اعضا ضائع ہونے کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

انہوں نے غزہ کی صورتحال کو اپنے الفاظ میں "ہمارے دور کا سب سے غیر انسانی اور شرمناک حراستی کیمپ" قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے حصول میں مختلف ممالک کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششیں بھی شامل تھیں، تاہم ان کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی غزہ میں ہلاکتیں جاری رہیں۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ امن منصوبے کے اگلے مرحلے کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے اور قبضہ ختم کرنے سے انکار کر رہی ہے۔

مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کا حوالہ دیتے ہوئے اردوان نے کہا کہ وہاں آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور مسلمانوں و مسیحیوں کو مقدس مقامات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (UNRWA) کے خلاف اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ کی مؤثریت پر سوال

ترک صدر نے اقوامِ متحدہ کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ، لبنان، سوڈان اور دیگر بحرانوں نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ عالمی ادارہ اپنے قیام کے بنیادی مقصد، یعنی بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ، کو مؤثر انداز میں پورا نہیں کر پا رہا۔

انہوں نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ 190 سے زائد ممالک کی تقدیر چند طاقتوں کے فیصلوں سے مشروط نہیں ہونی چاہیے اور "دنیا پانچ سے بڑی ہے"۔

صدر اردوان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالے اور غزہ کی تعمیرِ نو کا عمل جلد شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو ختم کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست، 1967 کی سرحدوں اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے کی بنیاد پر، بالآخر قائم ہوگی۔

علاقائی تنازعات و موسمیاتی بحران

اپنی تقریر میں انہوں نے شام، عراق، یوکرین، جنوبی قفقاز، سوڈان، صومالیہ اور لیبیا سمیت مختلف علاقائی تنازعات پر بھی ترکیہ کے مؤقف کی وضاحت کی، جبکہ موسمیاتی تبدیلی، اسلاموفوبیا، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور مصنوعی ذہانت کے لیے بین الاقوامی ضابطہ کار کی ضرورت پر زور دیا۔

خطاب کے اختتام پر صدر اردوان نے کہا کہ دنیا کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک راستہ خوف، تنازع اور تقسیم کا، جبکہ دوسرا انصاف، یکجہتی اور مشترکہ خوشحالی کا۔ ان کے بقول ترکیہ نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا ہے اور وہ عالمی سطح پر ایک زیادہ منصفانہ اور جامع نظام کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔

ترکیہ کے صدر اردوان کا مکمل خطاب سنیئے