پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان انسانی حقوق، جی ایس پی پلس اور باہمی تعلقات پر بامعنی مکالمے کی ضرورت ہے، اعظم نذیر تارڑ

ّیورپی وفد کا پاکستان کے مؤقف کو سمجھنے اور پارلیمانی سطح پر مؤثر رابطے بڑھانے پر زور

جمعرات 24 ستمبر 2026 22:00

ٴْاسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 ستمبر2026ء) وفاقی وزیر انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کے انسانی حقوق اور قانونی معاملات کو ملکی آئینی، قانونی، سماجی اور علاقائی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، جبکہ پاکستان اور یورپ کے درمیان باہمی افہام و تفہیم اور بامعنی مکالمے سے غلط فہمیوں کا خاتمہ اور دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط کیے جا سکتے ہیں۔

یورپی پارلیمنٹ کے وفد سے ملاقات میں انسانی حقوق، جی ایس پی پلس، قانونی و سائبر امور اور جیو اسٹریٹجک معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ یورپی وفد نے پاکستان کے مؤقف کو یورپی پارلیمنٹ میں مزید مؤثر انداز میں اجاگر کرنے اور دونوں جانب پارلیمانی رابطے بڑھانے پر زور دیا۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے یورپی پارلیمنٹ کی رکن میری خان کی سربراہی میں یورپی پارلیمانی وفد نے ملاقات کی۔

ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات، انسانی حقوق، قانونی امور، جی ایس پی پلس اور جیو اسٹریٹجک معاملات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں ڈینس ہوہلوخ، اسٹینی سلاو اسٹویانوف، توماش فروئلش، ڈین پیڈوک اور موزیز شامل تھے۔وفاقی وزیر انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وفد کو پاکستان کے آئینی و قانونی نظام، انسانی حقوق اور متعلقہ قانونی فریم ورک کے حوالے سے پاکستانی مؤقف سے آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے داخلی اور قانونی معاملات کو ملکی آئینی، قانونی، سماجی اور علاقائی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں، جنہیں پاکستان کے انسانی حقوق اور سلامتی سے متعلق معاملات کا جائزہ لیتے وقت مدنظر رکھنا چاہیے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان کا قانونی نظام آئینی تقاضوں، ملکی قوانین اور مقامی حقائق کے مطابق کام کرتا ہے، جبکہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے لیے آئینی و قانونی تحفظ موجود ہے۔وفاقی وزیر نے وفد کو سائبر قوانین کے حوالے سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ پاکستان کے سائبر قوانین میں اظہارِ رائے، معلومات تک رسائی، سائبر جرائم، مالیاتی فراڈ اور دیگر متعلقہ جرائم کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اپنے سائبر قوانین کا یورپ، مشرق بعید اور شمالی امریکا کے قوانین سے تقابلی جائزہ بھی لیا ہے اور اس حوالے سے تیار کردہ دستاویز یورپی وفد کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کی۔یورپی پارلیمانی وفد نے پاکستان کی جیو اسٹریٹجک اہمیت اور خطے میں درپیش چیلنجز کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان اور یورپ کے درمیان باہمی مفادات اور مشترکہ چیلنجز کے تناظر میں تعاون مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وفد کے ارکان نے پاکستان کے انسانی حقوق سے متعلق معاملات کو پاکستانی ثقافتی، تاریخی، سماجی اور جغرافیائی تناظر میں سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا۔یورپی پارلیمانی وفد نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان انسانی حقوق، جی ایس پی پلس اور دیگر امور پر مزید بامعنی مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے نقطہ نظر کو یورپی پارلیمنٹ میں مزید مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

وفد نے پاکستان اور یورپ کے درمیان موجود غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے مزید رابطوں اور مکالمے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور پاکستان کے نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے یورپی پارلیمنٹ میں کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پیش کی۔فریقین نے پاکستان اور یورپ کے درمیان باہمی افہام و تفہیم، پارلیمانی رابطوں اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا