زیادہ نمک والی غذا مردوں کی یادداشت متاثرکرسکتی ہے ، تحقیق

ہفتہ 26 ستمبر 2026 20:36

زیادہ نمک والی غذا مردوں کی یادداشت متاثرکرسکتی ہے ، تحقیق
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 ستمبر2026ء) ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ مقدار میں نمک استعمال کرنے والی غذا مردوں کی یادداشت اور دماغی افعال پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، تاہم خواتین میں ایسا تعلق سامنے نہیں آیا۔تحقیق کے مطابق 60 سال سے زائد عمر کے 1200 افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا، جس میں زیادہ سوڈیم استعمال کرنے والے افراد میں 6 سال کے دوران یادداشت میں کمی دیکھی گئی۔

خاص طور پر انہیں ماضی کے واقعات یاد رکھنے میں دشواری کا سامنا رہا۔تحقیق طبی جریدے ’’نیورو بایولوجی آف ایجنگ‘‘ میں شائع ہوئی ہے۔ محققین کے مطابق جن افراد میں الزائمر کی بیماری کا جینیاتی خطرہ زیادہ تھا، ان میں زیادہ نمک والی غذا کے استعمال کے ساتھ بیماری کی ممکنہ تشخیص کی عمر کم ہونے کا تعلق بھی سامنے آیا۔

(جاری ہے)

تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور آسٹریلیا کی ایڈتھ کووان یونیورسٹی کی محقق ڈاکٹر سمانتھا گارڈنر کے مطابق مطالعے میں زیادہ سوڈیم کے استعمال اور دماغی افعال کے درمیان تعلق کے ابتدائی شواہد ملے ہیں، تاہم اس تعلق کو مکمل طور پر سمجھنے کیلئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

برطانوی محکمہ صحت کے مطابق بالغ افراد کو روزانہ 6 گرام سے زیادہ نمک استعمال نہیں کرنا چاہیے، جو تقریباً ایک چائے کے چمچ کے برابر ہے۔محققین نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد ڈیمنشیا کا شکار ہیں اور بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے باعث مستقبل میں اس بیماری کے مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

متعلقہ عنوان :