لاہور: باپ اور بھائیوں کے ہاتھوں 18 سالہ لڑکی کے قتل کیس کی ابتدائی تفتیش میں لرزہ خیز انکشافات

ماہم کو قتل سے پہلے باپ اور دو بھائی گھر کے اندر ہی جنسی استحصال کا نشانہ بناتے رہے، جسم کو دہکتے لوہے کے راڈ سے جلایا جاتا رہا، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں جنسی استحصال کی تصدیق

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 29 ستمبر 2026 23:46

لاہور: باپ اور بھائیوں کے ہاتھوں 18 سالہ لڑکی کے قتل کیس کی ابتدائی تفتیش ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 29 ستمبر 2026ء ) لاہور میں 18 سالہ لڑکی کے قتل کیس کی ابتدائی تفتیش میں لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، ابتدائی تفتیش کی رپورٹ کے مطابق ماہم کو قتل سے پہلے باپ اور دو بھائی گھر کے اندر ہی مبینہ طور پر جنسی استحصال کا نشانہ بناتے رہے، یہاں تک کے جسم کو دہکتے لوہے کے راڈ سے جلایا جاتا رہا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق مقتولہ لڑکی کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جنسی استحصال کی تصدیق ہوئی ہے کہ ماہم کو قتل سے پہلے باپ اور دو بھائی گھر کے اندر ہی جنسی استحصال کا نشانہ بناتے رہے۔
پولیس حکام کے مطابق مقتولہ ماہم کی پیدائش ہوئی تو اس کے چند ماہ بعد ہی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ والدہ کی موت کے بعد ماہم کو پھوپھی پالتی رہی، مقتولہ کے ساتھ جنسی استحصال کا سلسلہ اس کی پھوپھی کے گھر سے شروع ہوا، لڑکی والد کے پاس وآپس آئی تو والد نے بھی جنسی استحصال کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔

(جاری ہے)

والد کو دیکھی دو بھائیوں نے بھی مقتولہ کے ساتھ جنسی استحصال کا رویہ شروع کردیا۔ ماہم کے جسم کو دہکتے لوہے کے راڈ سے جلایا جاتا رہا۔ جس دن لڑکی کا مبینہ قتل ہوا اس روز بھی ملزمان ماہم پر تشدد کر رہے تھے، تشدد کت نتیجے میں لڑکی کی موت واقع ہوگئی۔ پولیس کے مطابق تفصیلی پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ کے بعد ملزمان کیخلاف درج مقدمے میں مزید دفعات شامل کی جاسکتی ہیں۔

متعلقہ عنوان :