شہری سے فون چھین کردریا میں پھینکنے پر ہنگری کی پارلیمنٹ نے وزیراعظم کا استثنیٰ ختم کردیا

شہری وزیراعظم کی ویڈیو بنا رہا تھا، جس پر پیٹر ماگیار نے شہری کے ہاتھ سے موبائل فون چھین لیا‘پولیس نے فون دریا سے برآمدکرکے تحقیقات شروع کردی ہیں

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ 30 ستمبر 2026 00:11

شہری سے فون چھین کردریا میں پھینکنے پر ہنگری کی پارلیمنٹ نے وزیراعظم ..
ہنگری(اردوپوا ئنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔29 ستمبر ۔2026 ) ہنگری کی پارلیمنٹ نے شہری کا موبائل فون چھین کر دریا میں پھینکنے کے الزام پر وزیرِ اعظم پیٹر ماگیار کا پارلیمانی استثنیٰ ختم کر دیا ہے بین الاقوامی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پارلیمانی استثنیٰ ہونے کے بعد پیٹر ماگیار کے خلاف فوجداری تحقیقات کی راہ ہموار ہو گئی ہے.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہنگری کے وزیر اعظم نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مقدمے کو سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا ہے پیٹر ماگیار نے اپنے خلاف الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا، میں اپنے تمام اقدامات کی ذمے داری قبول کرتا ہوں.

(جاری ہے)

انہوں نے اپنی جماعت کے ارکان سے اپنا پارلیمانی استثنیٰ ختم کرنے کے حق میں ووٹ دینے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ ان کے خلاف تحقیقات آگے بڑھ سکیں استغاثہ کے مطابق جون 2024ءمیں بڈاپسٹ کے ایک نائٹ کلب میں پیٹر ماگیار اور ایک شہری کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی.

الزام ہے کہ مذکورہ شہری وزیرِ اعظم کی ویڈیو بنا رہا تھا، جس پر پیٹر ماگیار نے شہری کے ہاتھ سے موبائل فون چھین لیا اور بعد میں اسے دریائے ڈینیوب میں پھینک دیا بعد ازاں پولیس نے موبائل فون دریا سے برآمد کر لیا تھا جس کی مالیت تقریباً 300 امریکی ڈالرز بتائی گئی ہے. رپورٹ کے مطابق پیر کو ہونے والے غیر معمولی پارلیمانی اجلاس میں پیٹر ماگیار کے علاوہ سابق وزیرِ اعظم وکٹر اوربان کی حکومت کے 2 سابق وزراءکا استثنیٰ بھی ختم کیا گیا اور تینوں کے خلاف الگ الگ مقدمات کی تحقیقات جاری ہیں.