لانگ مارچ ملتوی کرنے کا خط لکھنے پر ٹرولنگ اور بیوفائی کا الزام، شوکت یوسفزئی آبدیدہ ہوگئے

سہیل آفریدی کے الفاظ پر بہت دکھ ہوا، مجھ پر شک کیا جارہا کہ میں بک گیا ہوں، امریکہ میں بیٹھ کر مجھے گالیاں دی جاتی ہیں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بے غیرت ہیں، ان سے پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے؛ پی ٹی آئی رہنماء کی گفتگو

Sajid Ali ساجد علی بدھ 30 ستمبر 2026 11:46

لانگ مارچ ملتوی کرنے کا خط لکھنے پر ٹرولنگ اور بیوفائی کا الزام، شوکت ..
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 ستمبر 2026ء) پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخواہ کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی 4 اکتوبر کا لانگ مارچ ملتوی کرنے کے حوالے سے مرکزی قیادت کو لکھے گئے اپنے خط پر پارٹی کی اندرونی تنقید، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے رویئے اور سوشل میڈیا ٹرولنگ پر لائیو ٹی وی پروگرام کے دوران آبدیدہ ہو گئے۔
جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی شدید جذباتی ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ پارٹی کا ایک سینئر اور دیرینہ ممبر ہونے کے ناطے میں نے ملک اور جماعت کو درپیش آئینی و سکیورٹی خطرات پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے میرے خط سے متعلق میڈیا پر جو کچھ کہا وہ مجھے بہت برا لگا، مجھے سہیل آفریدی سے اس نوعیت کے رویے کی ہرگز توقع نہیں تھی۔

(جاری ہے)

اپنے اوپر لگنے والے الزامات پر بات کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی پروگرام میں آبدیدہ ہو گئے اور ان کا کہنا تھا کہ آج مجھ پر بلاجواز شک کیا جا رہا ہے کہ شاید میں بک گیا ہوں، میں نے ہمیشہ اصول کی بات کی ہے اور مجھے کسی کا کوئی ڈر یا خوف نہیں ہے۔
اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ میں نے تو ہر جگہ سہیل آفریدی کا دفاع کیا ہے کہ وہ کسی صورت دہشت گردوں کے سہولت کار نہیں ہیں، جب سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کو مارچ کا اعلان کیا تھا تو میں نے سب سے پہلے کہا تھا کہ اس مارچ میں سب سے آگے میں ہوں گا لیکن اس کے باوجود میرے خلاف پارٹی کے سوشل میڈیا پر جس قسم کی گھٹیا زبان استعمال کی گئی اس پر مجھے شدید افسوس ہوا۔

پی ٹی آئی رہنماء نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے بعد جتنے لوگ پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، ان تمام رہنماؤں اور کارکنوں نے انتہائی سخت اور کٹھن وقت دیکھا ہے، 26 نومبر کے احتجاج کے دوران بھی میں نے انہی خدشات کا اظہار کیا تھا لیکن یہ سوشل میڈیا ٹرولز بے غیرت ہیں اور انہی کی وجہ سے پارٹی کا ناقابلِ تلافی نقصان ہو رہا ہے، تاہم میں واضح کر دوں کہ میرے پی ٹی آئی چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، میں عمران خان کا وفادار ہوں۔