وزیراعلیٰ سندھ نے لیاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا استعفا مسترد کردیا

جمعہ 2 اکتوبر 2026 22:45

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اکتوبر2026ء) سندھ کی سرکاری جامعات کی کنٹرولنگ اتھارٹی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی کا استعفا مسترد کرتے ہوئے انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔وزیراعلیٰ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے جمعے کی صبح اپنے دفتر میں لیاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ملاقات کی جو تقریباً 45 منٹ تک جاری رہی۔

ملاقات میں وزیراعلیٰ نے جامعہ لیاری کی صورتحال کے حوالے سے وائس چانسلر کا مؤقف تفصیل سے سنا۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جامعہ کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے گھوسٹ ملازمین اور دیگر مبینہ نامناسب سرگرمیوں میں ملوث ملازمین کے خلاف جاری کارروائی کے حوالے سے وائس چانسلر کے مؤقف کو سنا اور انہیں استعفا دینے کے بجائے مزید بہتر انداز میں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق وائس چانسلر نے بعض عناصر کی جانب سے مبینہ بیرونی دباؤ کے باعث استعفا دیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ سندھ نے استعفا مسترد کردیا۔دوسری جانب وائس چانسلر کا استعفا مسترد ہونے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے مختلف الزامات ثابت ہونے پر برطرف کیے گئے سابق ملازمین سے کسی قسم کی بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے وہ ملازمین جو کئی روز تک برطرف سابق ملازمین کے احتجاج میں شریک رہے، ان کے خلاف بھی تعلیمی ماحول برقرار رکھنے اور تعلیمی معیار یقینی بنانے کے لیے تادیبی کارروائی کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق معاملہ یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ اجلاس میں ایک رکن صوبائی اسمبلی اور ایسوسی ایٹ پروفیسر کے درمیان برطرف ملازم کو اجلاس میں مبینہ طور پر زبردستی شامل کرنے کے معاملے سے شروع ہوا۔ بعدازاں یونیورسٹی ملازمین کے ایک گروہ نے تنازع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رجسٹرار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج شروع کردیا۔ملازمین کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ لیاری یونیورسٹی کے رجسٹرار ایک سیاسی جماعت کے رکن ہیں۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹرار کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی وابستگی سے دستبرداری اختیار کرلی تھی، جس کے تحریری ثبوت سینڈیکیٹ کے اجلاس میں پیش کیے جاچکے ہیں۔