azad panchi

Azad Panchi

آزاد پنچھی

سردی اپنے عروج پر تھی ۔سورج ڈوبنے کے بعد سبھی انسان ،چرند پرند اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے اور سورج طلوع ہونے تک اپنے بستروں میں دبکے رہتے تھے ۔

محمد احسن
سردی اپنے عروج پر تھی ۔سورج ڈوبنے کے بعد سبھی انسان ،چرند پرند اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے اور سورج طلوع ہونے تک اپنے بستروں میں دبکے رہتے تھے ۔
ہر طرف خاموشی اور سکون دیکھ کر بر گد کا بوڑھا درخت جلدی اونگھنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے گہری نیند سو گیا لیکن اس گہرے سناٹے میں اچانک ہی ٹپ ٹپ ،ٹپ کی آواز کے ساتھ اس کے اندر نمی اترنے لگی ۔

سرد ترین رات میں بھیگنے کے احساس نے اس کی نیند توڑ دی ۔یہ کون بد تمیز ہے جو اتنی سردی میں رات کے وقت مجھ پر پانی ڈال رہا ہے ۔وہ غصے اور سردی سے کانپتی ہوئی آواز میں بولا۔
یہ ٹوٹو طوطا تھا۔ جو اس کی ساخوں میں منہ چھپائے خاموشی سے آنسو بہار ہا تھا ۔

معاف کرنا برگد چاچا! میری وجہ سے تمہاری نیند خراب ہوئی ۔

(جاری ہے)

اس نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ۔
بھائی ٹوٹو! اگر تم برانہ مانو تو میں تمہارے رونے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں ۔بوڑھے برگدنے دوستانہ انداز میں کہا ۔
کیا کرو گے پوچھ کر ۔

یہ سمجھ لو اپنی قسمت پر رو رہا ہوں ۔ٹوٹو نے ایک سرد آہ بھری۔
کیا ہوا ہے تمہاری قسمت کو ۔اچھے بھلے تو ہو ۔کچھ بھی تو اچھا نہیں ہے ۔ساری دنیا مجھے برا سمجھتی ہے دنیا میں میری بے وفائی کے قصے مشہور ہیں ۔اس بارے میں بہت سے محاورے اور کہاوتیں کہی گئی ہیں۔
ٹوٹونے دکھی دل سے اپنا غم بیان کیا تو بوڑھے برگد کو اس سے ہمدردی محسوس ہوئی ۔اس نے اپنی ایک نرم ونازک شاخ ٹوٹو کے سر پر پھیرتے ہوئے اسے تسلی دی ،جس سے ٹوٹو کو کچھ سکون ملا اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ بوڑھے برگد کی شفیق آغوش میں سوگیا۔

اس کے بعد اکثر ایسا ہوتا کہ انتہائی سرد راتوں میں بوڑھا برگد اپنے اوپر آنسوؤں کی نمی محسوس کرتا ۔مگر پھر کبھی اس نے ٹوٹو کو نہیں ڈانٹا ۔آخر ایک روز ٹوٹو نے خود ہی اپنی کہانی شروع کردی ۔
ٹوٹو نے کہا یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں صرف چند دنوں کا تھا ۔
تب مجھے میری ماں سے جدا کر کے ایک آدمی کے حوالے کر دیا گیا ۔ماں سے جدا ہوجانے کی وجہ سے میں بہت اداس اور پریشان رہنے لگا تھا۔ اگر وہ آدمی مجھے اتنی زیادہ توجہ اور تحفظ نہ دیتا تو شاید میں مرچکا ہوتا لیکن اس نے نہ صرف میرا خیال رکھا بلکہ مجھے اس قابل کردیا کہ میں اس کی زبان میں بات چیت کرسکوں ۔

مجھے بولنا آگیا تو میں ہر وقت اپنی میٹھی باتوں سے اس کا دل بہلانے کی کوشش کرتا رہتا ،میرے اس طرح پوچھنے پروہ مجھ سے خوش ہو کر پہلے سے بھی زیادہ میرا خیال کرنے لگتا ۔میں وہاں اچھی زندگی گزاررہا تھا ۔لیکن پھر بھی کہیں کچھ کمی تھی ۔
میری زندگی اداس تھی ۔شاید میں اس قید کی زندگی سے تنگ آچکا تھا اور آزاد ہونا چاہتا تھا ۔میں چاہتا تھا کہ کاش! وہ خود ہی میرے دل کی بات سمجھ لے اور مجھ آزاد کردے ۔لیکن یہ صرف میری بھول تھی ۔آخر ایک روز ہمت کرکے میں نے اپنے دل کی بات اس سے کہہ دی ۔

میں اس کے جواب کا منتظر تھا ،لیکن وہ کوئی جواب دیے بغیر چلا گیا ۔
میں نے دوسرے ،تیسرے اور پھر چوتھے دن بھی اس سے یہی بات کی ،لیکن اس نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا ۔
جب میں نے پانچویں دن بھی اس سے یہی بات کی تو غصے سے بے تحاشہ چیختے ہوئے کہا کہ تم مجھے یہ جتا رہے ہو کہ یہاں میں نے تمہیں قید کرکے رکھا ہوا ہے ۔
جو عیش تمہیں یہاں ملا ،وہ سب بھول گئے ۔تم بھول گئے کہ میں نے تمہاری آرام کا کس طرح خیال رکھا ،تمہیں یہاں کوئی تکلیف نہ ہونے دی ۔ہمیشہ اچھے سے اچھا کھلا یا ۔
احسان فراموش اور بے وفا طوطے! میں جانتا تھا کہ ایک نہ ایک دن تم اپنی اصلیت دکھا کے رہو گے ۔
تم کبھی کسی کے نہیں ہو سکتے۔
آدمی کا غصہ اتنا کچھ کہہ کر بھی کم نہ ہوا تو اس نے مجھے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر میری ٹانگ مروڑ دی۔ یہاں تک کہ میری آنکھیں بھی زخمی کردیں ۔میں تکلیف میں تڑپ اٹھا ،پھر جب اس شخص نے مجھے پنجرے سے باہر پھینک دیا تو میرا غصے اور تکلیف سے برا حال ہورہا تھا ۔
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ میرے ساتھ اتنا بے رحمانہ سلوک کرے گا۔
آزادی کا حق مانگنے پر اس نے میرے اوپر بے وفا ہونے کی مہر لگادی تھی۔وہ شخص نہیں جانتا تھا کہ ایک پرندے سے اس کی اڑان کا حق چھین لینا کتنا بڑا ظلم ہے ۔

تکلیف کے مارے میرا برا حال ہورہا تھا ۔میں کچھ دیر تک رک کر سکون کا سانس لینا چاہتا تھا ۔لیکن محلے کی پلی ہوئی بلی کی للچائی ہوئی نظروں نے مجھے اتنی بھی مہلت نہ دی ۔اس سے پہلے کہ وہ بلی میرے زخمی جسم پر جھپٹ لیتی ،میں نے ہوا کے دوش پر اپنے پروں کو پھیلا لیا ۔
نیلے آسمان کی وسعتوں اور تازہ ہواؤں نے مجھے حوصہ دیا یہ شاید آزاد فضا میں میری پہلی اڑان تھی ۔ہوا کے بازوؤں پر پرواز کرتے ہوئے میں اپنا ہر دکھ اور ہر تکلیف بھول گیا تھا ،چھوٹے چھوٹے گھر ،کھیت ،درخت ،سبزہ ،پہاڑ ،چمکتے ہوئے جھرنے مجھے بہت پیارے لگ رہے تھے ۔

پرندوں کے غول کے غول اڑتے ہو ئے ادھر سے ادھر چلے جا رہے تھے ۔میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا اور پھر تھک کرتمہاری شفیق پناہ میں آگیا اور اب یہی میرا مستقل ٹھکانا بن گیا۔
ٹوٹو اب ایک آزاد زندگی گزار رہا تھا ۔اپنی فطرت کے عین مطابق ،لیکن ماضی کی تلخ یادیں اب بھی اسے بے چین کردیتی تھیں ۔
وہ سوچتا کہ کیا واقعی اس نے آدمی کے ساتھ بے وفائی کی ہے ۔ایسے میں بوڑھا برگداسے سمجھاتا کہ کسی کے برا کہہ دینے سے کوئی برا نہیں بن جاتا ۔اس طرح انسان کے بے وفا کہہ دینے سے تم بے وفا نہیں بن گئے۔تم نے جو کیا ہے ٹھیک کیا ہے ۔

لیکن پھر یہ کہاوتیں اور محاورے آخر کیوں مشہور ہیں ․․․․؟طوطاچشمی کے بارے میں ٹوٹو بحث پر اُتر آتا ․․․․․تو برگد شفقت سے جواب دیتے ہوئے کہتا ۔مجھے یقین ہے کہ یہ ساری باتیں کم از کم تمہارے لیے نہیں ہیں ۔یوں ان کی بحث ختم ہو جاتی ۔

کافی عرصہ گزر گیا ۔ٹوٹو کی خوش اخلاقی دیکھ کر کئی پرندوں نے اس سے دوستی کرلی تھی ۔ٹوٹو دن بھر اپنے دوستوں کے ساتھ گھو متا پھر تا ،لیکن رات کو پھر اپنے سب سے پرانے اور گہرے دوست بوڑھے برگد کے درخت کے پاس پہنچ جاتا تھا۔

اب خزاں کا موسم آپہنچا تھا ۔ہریالی اور سبزے کی جگہ زردی چھا گئی تھی ۔درختوں کے پتے ٹوٹ کر گرنے لگے ۔بوڑھا برگداب اور بھی کمزور ہو گیا تھا ۔اس کے زیادہ ترپتے ٹوٹ کر جھڑ چکے تھے اور شاخیں سوکھ گئی تھیں ۔یہاں بسیر ا کرنے والے پرندے کہیں اور چلے گئے تھے ۔
صرف ایک ٹوٹا تھا جو ابھی تک اس کے ساتھ تھا۔
بوڑھا برگداکثر اس سے کہتا ۔دوسرے پرندوں کی طرح اب تمہیں بھی کوئی اور جگہ تلاش کرلینی چاہیے ،کیونکہ اب نہ میں تمہیں دن میں تپتی دھوپ سے بچا سکتا ہوں اور نہ پہلے کی طرح رات کو میری نرم شاخیں تمہیں آرام دے سکتی ہیں ۔

ٹوٹو ہر مرتبہ سختی سے انکار کردیتا ،وہ کہتا سچا دوست وہی ہے جو مصیبت میں بھی ساتھ نہ چھوڑے اور میں تمہارا سچادوست ہوں ۔
برگد کادرخت اس کی بات سن کر خاموشی سے سر جھکا لیتا ۔یہ مشکل وقت بھی جلد ہی گزر گیا ۔نئی کو نپلیں پھوٹنے لگیں اور جب درختوں پر نئے پتے آگئے تو یہاں سے جانے والے پرندے بھی دوبارہ لوٹ آئے ۔

اب بوڑھا برگد دوسرے پرندوں کے سامنے ٹوٹو کی وفا داری کی تعریف کرتا اور کہتا کہ ٹوٹو نے برے وقت میں بھی اس کا ساتھ نہ چھوڑا اور ایک سچے دوست ہونے کا ثبوت دیا ۔دوسرے پرندے یہ سب سن کر شرمندہ ہوجاتے ،لیکن ٹوٹو خوش ہو کر اس کی شاخوں پر ٹیں ٹیں کرکے زور زور سے جھولنے لگتا ۔

ایک روز ٹوٹو حسب معمول دانے دنکے کی تلاش میں تھا کہ اڑتے اڑتے اسے یوں محسوس ہوا کہ کوئی نیچے سے اسے پکار رہا ہے ۔ٹوٹو نے نیچے جھک کر دیکھا ․․․․یہ وہی آدمی تھا جس نے اسے بچپن سے پالا تھا۔ اس نے دور سے اسے پہچان کر آوازیں دینی شروع کردی تھیں ۔
ٹوٹو بجلی کی سی تیزی سے نیچے لپکا اور اس کے ہاتھ پر بیٹھ گیا ۔انسان کی محبت دیکھ ،ٹوٹو حیران سا تھا کہ یہ وہی ہے جس نے اسے انتہائی حقارت سے بے عزت کرکے گھر سے باہر پھینک دیا تھا ۔آج وہی شخص اس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے کہہ رہا تھا ․․․․․
میرے پیارے ٹوٹو! میں تم سے بے حد شرمندہ ہوں ۔
مجھے معاف کردو ․․․․شاید یہ تمہاری ہی بد دعا تھی کہ میں تمہارے جانے کے بعد اپنی زندگی میں خوشی محسوس نہ کر سکا اور کمرے میں بند ہو کر صرف تمہیں ہی یاد کرتا رہتا تھا۔ شاید یہ تم پر بے وجہ ظلم کرنے کی سزا ملی تھی ۔بس روروکردل ہی دل میں اپنی زیادتی کی معافی مانگتا رہتا تھا ۔
شاید تب ہی میں وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہوں ۔
اس آدمی نے کہا ٹوٹو ! تم آزادی کا حق مانگنے میں درست تھے ،بے وفا تم نہیں بلکہ میں ہی تھا ۔جاؤ ٹوٹو ! یہ آزاد فضائیں تمہارے لیے ہیں تم ایک آزاد پنچھی ہو۔تمھیں آزاد ہی رہنا چاہیے ۔انسان ،طوطے کو اپنے ہاتھوں سے آزاد کرتے ہوئے ندامت سے کہہ رہا تھا اور طوطا ہوا کے دوش پر بلند ہوتے ہوئے ایسا محسوس کررہا تھا جیسے آج ہی اسے صحیح معنوں میں آزادی حاصل ہوئی ہو ۔

Your Thoughts and Comments