Sahhi Chor - Article No. 1346

شاہی چور

سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں شہر میں چوریاں زیادہ ہونے لگیں تو چوروں کو پکڑنے کے لئے شاہ نے یہ تدبیر کی کہ شاہی لباس اتار کر چوروں کا سا پھٹا پرانا لباس پہن لیا اور

جمعہ مارچ

sahhi chor

سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں شہر میں چوریاں زیادہ ہونے لگیں تو چوروں کو پکڑنے کے لئے شاہ نے یہ تدبیر کی کہ شاہی لباس اتار کر چوروں کا سا پھٹا پرانا لباس پہن لیا اور شہر میں گشت کرنے لگے۔ ایک جگہ دیکھا کہ بہت سے چور اکھٹے بیٹھے ہیں۔

بادشاہ بھی وہاں جاکر بیٹھ گیا۔چوروں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ بادشاہ نے کہا کہ میں بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہوں۔ چوروں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی چور ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم لوگ ماہرینِ فن ہیں، کوئی عام چور نہیں ہیں، تم اپنا کوئی ہنر بتاؤ۔
اگر تمھارے اندر کوئی ہنر ہوگا تو تمھیں شریک کریں گے ورنہ نہیں۔بادشاہ نے کہا: آپ لوگ کیوں گھبراتے ہیں؟آپ لوگوں میں چوری کی جو صفت،ہنر اور فن ہے میرا ہنر اگر اس سے زیادہ پانا تو مجھے شریک کرنا ورنہ بھگادینا۔

(جاری ہے)

چوروں نے کہا کہ اچھا اپنا ہنر بتاؤ۔

بادشاہ نے کہا کہ میں بعد میں بتاؤں گا پہلے تم لوگ اپنا ہنر بیان کرو۔ایک چور نے کہا کہ میرے اندر یہ فن ہے کہ میں اونچی سے اونچی دیوار پھاند کر مکان میں داخل ہو جاتا ہوں، چاہے بادشاہ کا قلعہ ہی کیوں نہ ہو۔دوسرے نہ کہا کہ میری ناک میں یہ خاصیت ہے کہ جہان خزانہ مدفون ہوتا ہے، میں مٹی سونگھ کر خزانہ بتا دیتا ہوں کہ یہاں خزانہ ہے۔
تیسرے چور نے کہا کہ میرے بازو میں ایسی طاقت ہے کہ چاہے کتنی ہی موٹی دیوار ہو میں گھر میں گھسنے کے لئے اس میں سوراخ کر دیتا ہوں۔چوتھے نے کہا کہ میں ماہرِ حساب ہوں، کتنا ہی بڑا خزانہ ہو چند سیکنڈ میں حساب لگا کر تقسیم کر دیتا ہوں۔
پانچویں نے کہا کہ میرے کانوں میں ایسی خاصیت ہے کہ میں کتے کی آواز سن کر بتا دیتا ہوں کہ کتا کیا کہہ رہا ہے۔ چھٹے نے کہا کہ میری آنکھوں میں یہ خاصیت ہے کہ جس کو اندھیری رات میں دیکھ لیتا ہوں دن میں اس کو پہچان لیتا ہوں۔
اب سب چورو ں نے بادشاہ سے پوچھا کہ اے چور بھائی! تمھارے اندر کیا خاص بات ہے ؟ شاہ محمود نے کہا کہ بھئی میری داڑھی میں ایک خاصیت ہے کہ
؎مجرماں را چوں بہ جلاداں دہندچوں بجنبد ریش من ایشان رہندجب مجرمین کو پھانسی کے لئے جلادوں کے حوالہ کر دیاجاتا ہے اس وقت اگر میری داڑھی ہل جاتی ہے تو مجرمین پھانسی کے پھندے سے چھوٹ جاتے ہیں۔
یہ سن کر چور مارے خوشی کے کہنے لگے کہ ؎ قوم گفتندش کہ قطب ما توئیروز محنت ہا خلاص ما توئیآپ تو چوروں کے قطب ہیں۔ جب ہم کسی مصیبت میں پھنسیں گے تو آپ ہی کے ذریعہ ہم کو خلاصی ملے گی۔ لہذا فیصلہ ہو ا کی آج بادشاہ کے یہاں چوری کی جائے کیونکہ آج سب اراکین نہایت پاور فل ہیں اور مصیبت سے چھڑانے والا داڑھی والا بھی ساتھ ہے۔
لہذا سب بادشاہ کے محل کی طرف چل پڑے۔ راستہ میں کتا بھونکا تو کتے کی آواز پہچاننے والے نے کہا کہ کتا کہہ رہا ہے کہ بادشاہ تمھارے ساتھ ہے لیکن چور پھر بھی چوری کے ارادے سے باز نہ آئے۔ لہذا بادشاہ کے یہاں چوری ہوئی۔چوروں نے خزانہ لوٹ لیا اور جنگل میں بیٹھ کر ماہرحساب نے سب کا حصہ لگا کر چند منٹ میں تقسیم کردیا۔
بادشاہ نے کہا: سب لوگ اپنا اپنا پتہ لکھوادیں تاکہ آئندہ جب چوری کرنا ہو تو ہم لوگ آسانی سے جمع ہو جائیں۔ اس طرح بادشاہ نے سب کا پتہ نوٹ کر لیا۔اگلے دن شاہ نے عدالت لگائی اور پولیس والوں کوحکم دیا کہ سب کو پکڑ لاؤ۔جب سب چور ہتھکڑیاں ڈال کر حاضر کئے گئے تو بادشاہ نےسب کو پھانسی کا حکم دے دیا اور کہا کہ اس مقدمہ میں کسی گواہ کی ضرورت نہیں۔
کیونکہ سلطان خود وہاں موجود تھا۔
اسی طرح قیامت کے دن اللہ تعالی کو کسی گواہ کی ضرورت نہیں جب چھ کے چھ چور پھانسی کے تختہ پر کھڑے ہو گئے تو وہ چور جس نے بادشاہ کو دیکھا تھا اس نے پہچان لیا کہ یہ وہی بادشاہ جو رات کو ہمارے ساتھ تھا۔
وہ تختہ دار سے چِلاّیا کہ حضور کچھ دیر کو ہماری جانوں کو امان دی جائے ،میں آپ سے تنہائی میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔بادشاہ نے کہا: ٹھیک ہے،تھوڑی دیر کے لئے پھانسی کو موقوف کر دو اور اس کو میرے پاس بھیج دو۔
چور نے حاضر ہو کر عرض کیاکہ ہر یکے خاصیتے خود وا نموداے بادشاہ! ہم میں سے ہر ایک نے اپنا اپنا ہنر دکھا دیا لیکن ایں ہنر ہا جملہ بدبختی فزودہمارے سب کے سب ہنر جن پر ہم کو ناز تھا انہوں نے ہماری بدبختی کو اور بڑھادیا کہ آج ہم تختہ دار پر ہیں۔
اے بادشاہ!میں نے آپ کو پہچان لیا ہے، آپ نے وعدہ فرمایا تھا کہ جب مجرموں کو تختہ دار پر چڑھایا جاتا ہے اس وقت غایتِ کرم سے اگر میری داڑھی ہل جاتی ہے تو مجرمین کو پھانسی سے نجات پاجاتے ہیں۔
لہذا اپنے ہنر کا ظہور فرمایئے تاکہ ہماری جان خلاصی پا جائے۔
مولانا رومی فرماتےہیں کہ سلطان محمود نے کہا تمھارے کمالاتِ ہنر نے تو تمھاری گردنوں کو مبتلاءِ قہر کردیا تھا لیکن یہ شخص جو سلطان کا عارف تھا اس کی چشم ِسلطان شناس کے صدقہ میں میں تم سب کو رہا کرتا ہوں اس قصہ کو بیان فرما کر مولانا رومی فرماتے ہیںکہ دنیا میں ہر شخص اپنے ہُنر پر ناز کررہا ہے ،بڑے بڑے اہل ہنر اپنی بد مستیوں میں مست اور خداسے غافل ہیں
لیکن قیامت کے دن ان کےیہ ہنر کچھ کام نہ آ ئیں گے اور ان کو مبتلائے قہر و عذاب کردیں گے لیکن ؎جز مگر خاصیت آں خوش حواسکہ بشب بود چشم او سلطاں شناسجن لوگوں نے اس دنیا کے اندھیرے میں اللہ کو پہچان لیا ،نگاہِ معرفت پیدا کر لی قیامت کے دن یہ خود بھی نجات پائیں گے اور ان کی سفارش گنہگاروں کے حق میں قبول کی جائے گی۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Two Mothers

دو مائیں

Two Mothers

Bachoon Main Cartoon Ka Craze

بچوں میں کارٹون کا کریز

Bachoon Main Cartoon Ka Craze

Sfaid Pari

سفید پری

Sfaid Pari

School Ka Pehla Din

اسکول میں پہلا دن

School Ka Pehla Din

Acha Dost

اچھا دوست

Acha Dost

Bemaar Shehzadi

بیمار شہزادی

Bemaar Shehzadi

Muttahid Sarbarah Aur Qoum

متحد سربراہ اور قوم۔۔۔تحریر: شمائلہ ملک

Muttahid Sarbarah Aur Qoum

Teesra Kamra

تیسرا کمرہ ۔ تحریر: مختار احمد

Teesra Kamra

Bajre Ki Meethi Tikya

باجرے کی میٹھی ٹکیہ

Bajre Ki Meethi Tikya

Jadu Ka Kamra

جادو کا کمرہ۔۔تحریر:مختار احمد

Jadu Ka Kamra

Teeen Tohfay

تین تحفے

Teeen Tohfay

Qeemti Tohfa

قیمتی تحفہ

Qeemti Tohfa

Your Thoughts and Comments