Bebas Badshah

بے بس بادشاہ

انگلینڈ میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔اس کا نام”میڈاس“تھا۔اس کے پاس دولت کی کمی نہیں تھی۔وہ سونے کی بنی ہوئی چیزوں کو بہت پسند کرتا،اور ہر وقت اس فکر میں رہتا کہ اس کے پاس سونے کی بنی ہوئی بہت سی چیزیں ہوں۔

جمعرات جنوری

Bebas Badshah
انگلینڈ میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔اس کا نام”میڈاس“تھا۔اس کے پاس دولت کی کمی نہیں تھی۔وہ سونے کی بنی ہوئی چیزوں کو بہت پسند کرتا،اور ہر وقت اس فکر میں رہتا کہ اس کے پاس سونے کی بنی ہوئی بہت سی چیزیں ہوں۔اپنے اس شوق میں اپنی رعایا کو بھول گیا تھا۔
اپنے ملک کے لوگوں کی بھلائی کے لیے وہ کوئی کام نہیں کرتا تھا۔اس لیے اس کے ملک کے لوگ بہت غریب تھے۔
بادشاہ کا وزیر اعظم بادشاہ کو کہتا”عالی جاہ!ہمیں اپنے ملک کے غریبوں کی مدد کرنی چاہئے،وہ بہت بری حالت میں ہیں۔“
بادشاہ جواب دیتا”وزیراعظم!تمہیں ان غریبوں کا اتنا خیال کیوں ہے،کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم اپنی دولت ان بھوکے ننگوں میں لٹادیں اور خود فقیر ہو جائیں۔
نہیں یہ نہیں ہو سکتا،ہم ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتے“یہ کہہ کر وہ اپنے محل کے کمرے میں چلا جاتا اور اپنے پاس جمع کئے ہوئے سونے کے سکے گننے لگتا۔

(جاری ہے)

وہ جتنا زیادہ سونے کے سکے گنتا اسے اتنا ہی مزہ آتا۔
بادشاہ میڈاس کی ایک بڑی ہی پیاری لڑکی تھی جس کا نام ”میری گولڈ“تھا۔

میری گولڈ بہت خوبصورت تھی۔اسے پھول بہت پسند تھے اورجب بھی موقع ملتا وہ باغ میں جاکر پھول جمع کرتی تھی،جب بھی میری گولڈ کی سالگرہ ہوتی تو بادشاہ اسے سونے کے بنے ہوئے تحفے دیتا۔ایک دن جب اس کا وزیر اسے غریبوں کی مدد کرنے کو کہہ رہا تھا۔

بادشاہ غصے ہو کر بولا”تم کو نہیں معلوم کہ میں دنیا کا امیر ترین بادشاہ بننا چاہتا ہوں اور تم ہو کہ میری دولت کم کرنے کا سوچتے رہے ہو۔“
بادشاہ نے وزیر سے کہا”میں چاہتا ہوں کہ میں جس چیز کو چھوؤں تو وہ سونے کی ہو جائے۔
“وزیر نے کہا”یہ تو بہت خطر ناک سوچ ہے۔اس سے بہت نقصان ہو سکتاہے۔“
بادشاہ نے کہا”گستاخی خاموش ہو جاؤ اور مجھے تمہارے مشورہ کی ضرورت نہیں ہے۔“
اسی وقت وہاں سے ایک پری گزررہی تھی اس نے جب بادشاہ کی خواہش سنی تو اس نے لالچی بادشاہ کو سبق سکھانا چاہا۔

پری بادشاہ کے سامنے آئی اور کہا”میں نے تمہاری خواہش سنی ہے اور اسے پورا کرنا چاہتی ہوں۔“بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا۔
پری نے کہا”کل صبح تم کسی چیز کو بھی چھوؤ گے وہ سونے کی ہو جائے گی۔“
بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا،اب اسے رات کو نیند ہی نہیں آرہی تھی کہ جلد ی سے صبح ہو اور اس کی خواہش پوری ہو۔

اس نے اپنے آپ سے کہا”میں سب سے امیر بادشاہ بن جاؤں گا۔لوگ میری دولت کی مثالیں دیں گے۔کتنا اچھا لگے گا،جب میرے پاس ہر چیز سونے کی ہو گی۔“
صبح بادشاہ بہت جلد نیند سے جاگ گیا۔اس نے جیسے ہی اپنے کمبل کو چھوا،تو کمبل سونے کا ہو گیا۔
بادشاہ بہت خوش ہوا،اب اس نے کرسی کو چھوا تو کرسی بھی سونے کی ہو گئی جگ کو چھوا وہ بھی سونے کا ہو گیا۔موم بتی کے اسٹینڈ کو چھوا تو وہ بھی سونے کا ہو گیا۔اپنے پلنگ کو چھوا تو وہ سونے کا ہو گیا۔اپنے کمرے کی سب چیزوں کو سونے کا کرنے کے بعد بادشاہ اپنے محل کے باغ میں گیا۔
وہاں اس نے پھولوں کو چھوا تو وہ بھی سونے کے ہوگئے۔میری گولڈ کے پلے ہوئے ہرن اور خرگوش کو چھوا تو وہ بھی سونے کے ہو گئے،ہر چیز کو سونے کا بنا کر بادشاہ خوشی خوشی محل میں واپس آیا۔جب وہ ناشتہ کرنے میز پر بیٹھاتاکہ ناشتہ کرسکے۔
میز پر ناشتہ لگ چکا تھا،ناشتے میں دنیا کی ہر نعمت موجود تھی۔بادشاہ نے کھانے کو ہاتھ بڑھایا۔اس نے سیب کو اٹھانا چاہا تو وہ سونے کا بن گیا۔وہ جس چیز مثلاً ڈبل روٹی ،دودھ کا گلاس،مکھن ،جام ،ٹرے،ٹوکری وغیرہ کو ہاتھ لگاتا وہ چیز سونے کی بن جاتی ۔
وہ ناشتہ نہ کرسکا۔
بچو!کیا کبھی سونے کی چیزیں بھی کھائی جا سکتی ہیں۔یہ چیزیں تو صرف رکھنے کے لیے ہوتی ہیں۔انہیں کھاتا کون ہے ،جو بادشاہ کھا سکتا۔
صبح جب شہزادی میری گولڈ اپنے محل کے باغ میں پھول توڑنے گئی تو وہاں کا عجیب نظارہ دیکھ کر حیران ہو گئی کہ سارے باغ اور اس کے پالتو جانور مختلف نظر آرہے تھے۔
وہ بہت اداس ہو گئی۔
اس نے کہا”سب پھولوں کی خوشبو کھو گئی ہے۔میرے پالتو جانور بھی حرکت نہیں کر رہے ہیں۔یہ ان سب کو کیا ہو گیا۔“میری گولڈ یہ دیکھ کر بہت روئی،اور روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس پہنچ گئی اور اس کی ساری بات بتادی۔

بادشاہ نے کہا”شہزادی مت رو،تمہیں تو خوش ہونا چاہئے کہ اب میں سب سے امیر بادشاہ ہوں۔“
یہ سن کر میری گولڈ خوش ہونے کے بجائے اور زیادہ رونے لگی۔بادشاہ نے اپنی شہزادی کو چپ کرانے کے لیے اسے تھپکی دی تو بادشاہ کا ہاتھ لگتے ہی میری گولڈ سونے کی ہو گئی۔
ایک جیتی جاگتی شہزادی اب ایک سونے کا مجسمہ بن گئی۔یہ دیکھ کر بادشاہ بہت پریشان ہو گیا۔اس نے تمام حکیموں کو اپنے دربار میں بلایا تاکہ وہ شہزادی کا علاج کر سکیں،مگر اسے تو کوئی بیماری ہی نہیں تھی۔تمام حکیموں نے بڑی کوشش کی کہ شہزادی کو واپسی اصلی حالت میں لاسکیں،مگر وہ ناکام رہے،اب تو بادشاہ غمگین ہو گیا۔
اس کی جیتی جاگتی شہزادی اب ایک سونے کا مجسمہ تھی،اور وہ اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔بادشاہ نے اپنی اداسی کو دور کرنے کے لیے شہر کا دورہ کیا۔دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا تھا اور غریب سے غریب انسان بھی کھانا کھارہا تھا،مگر بادشاہ بھوکا تھا۔
اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا اور اب لوگوں کو کھاتا دیکھ کراس کو بھی بھوک لگی۔لیکن وہ کھانے کو چھوتے ہوئے ڈرتا تھا۔اسے ڈر تھا کہ جیسے ہی اس نے کھانے کی کسی چیز کو چھوا تو وہ سونے کی ہو جائے گی۔بادشاہ نے یہ بھی دیکھا کہ محل سے باہر بہت سے بچے کھیل کود رہے تھے۔
یہ دیکھ کر وہ اداس ہو گیا کہ اب اس کی بیٹی کبھی نہیں کھیل سکتی۔
بادشاہ اس لمحے کو کوس رہا تھا،جب اس نے یہ خواہش کی تھی کہ اس کے چھونے سے ہر چیز سونے کی ہو جائے۔
اس نے کہا”کاش میں خواہش نہ کرتا تو آج مجھے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا،شہزادی بھی ٹھیک ہوتی اور میں بھی پہلے کی طرح سکون اور آرام سے ہوتا۔

اس طرح پچھتا تا ہوا وہ محل واپس آگیا۔اچانک اس کے سامنے وہی پری آگئی۔
پری نے بادشاہ سے پوچھا”تم اداس کیوں ہو بادشاہ ،کیا اب تم سب سے بڑے امیر بادشاہ نہیں ہو؟“
بادشاہ نے کہا”اچھی پری!اب میں سب سے امیر بادشاہ ہوں،لیکن اتنا سونا بھی مجھے خوش نہیں کر سکا۔
اچھی پری مہربانی کرکے میری مدد کریں۔“
یہ سن کر پری جان گئی کہ اب بادشاہ کبھی لالچ نہیں کرے گا۔پری نے بادشاہ کو پانی سے بھرا ہوا پانی کا جگ دیا اور کہا”اس جگ کا پانی ہر اس چیز پر چھڑک دو،جس کو تم نے چھواہے۔“بادشاہ جگ لے کر پہلے باغ کی طرف بھاگا،جب اس نے پھولوں پر جگ کا پانی چھڑکا تو وہ پہلے کی طرح تازہ اور خوشبودار ہو گئے۔
یہ دیکھ کر بادشاہ بہت خوش ہوا۔اس نے شہزادی کے پالتو جانوروں پر پانی چھڑک دیا ،تووہ بھی دوڑنے بھاگنے لگے۔پھر وہ شہزادی کی طرف بھاگا اور شہزادی پر پانی چھڑکا تو میری گولڈ دوبارہ جیتی جاگتی انسان بن گئی۔اب تو بادشاہ خوشی سے دیوانہ ہو گیا۔

اس دن کے بعد بادشاہ نے لالچ سے توبہ کی اور اپنے ملک کی رعایا کے لیے فلاحی کام شروع کئے۔اس نے غریبوں کی مدد کرنے اور ان کے لیے اچھے اچھے منصوبے تیار کئے۔اسے احساس ہو گیا تھا کہ سونا اور دولت ہی انسان کو خوشی نہیں دے سکتے۔صرف نیکی انسان کو سچی خوشی دے سکتی ہے۔اب وہ غریبوں کا ہمدرد اور نیک بادشاہ بن گیا تھا۔اس لیے اس کے ملک کے لوگ اس کو اب بہت پسند کرنے لگے تھے اور وہ خوشی خوشی اپنے ملک پر حکومت کرنے لگا۔

Your Thoughts and Comments