Sher Aur Chooha - Article No. 1391

شیر اور چوہا۔۔تحریر:ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ - تحریر نمبر 1391
پھر تاریخ اپنے آپ کودہراتی ہے۔ وہ شیر بھی کسی شکاری کے جال میں پھنس جاتاہے۔شیر فوراً واٹس ایپ کال کرکے چوہے کوبلاتا ہے کہ دوست آج دوستی کا حق ادا کرو۔تمہیں خبر نہیں کہ میں مصیبت میں گرفتا ہوں
جمعہ 26 اپریل 2019
(جاری ہے)
ماضی میں آئینہ دیکھنے والوں کی جناب نظامرامپوری صاحب نے کیا خوب عکاسی کی ہے۔
بہرکیف اس چوہے نے سوچا کہ کیاتصاویرآئیں گے۔کیسا اچھوتامنظرہوگاچوہا شیر پرسوارہے۔یہ تصویریں تو ہِٹ ہوجائیں گی کہ ایک چوہا شیرپرسوار ہے۔ کیا ہی بہادر اورجرات مند چوہاہے۔وہ جھٹ پٹ اس پر سوارہو گیا اور ادھر ادھر مختلف زاویوں سے سیلفیاں لینے لگا۔ اس کی دھماچوکڑی سے شیر بادشاہ کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے جھٹ چوہے کو اپنے مضبوط پنچہ میں دبوچ لیا۔ چوہا فورا بولا بادشاہ سلامت آپ نے کہیں کہانی ضرور پڑھی ہوگی کہ ایک دفعہ ماضی میں بھی ایسے ہی ایک چوہا شیر کے اوپر اچھل کود کررہا تھا۔ شیر نے جب اسے دبوچ لیا تو اس نے فورا شیر سے عرض کیا۔عالی جان اگرچہ جسم میں چھوٹا اور ناتواں ہوں لیکن ایک مخلص دوست کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ جب آپ کو میری ضرورت پڑی میں آپ کے کام آوٴں گا۔اس کے بعد کی کہانی تو آپ کو معلوم ہوگی کہ وہاں ایک شکاری آتا ہے جو شیر کو اپنے جال میں جکڑلیتا ہے اس جال سے وہی چوہا شیر کو نجات دلاتا ہے۔بہرکیف آگے آپ کی مرضی ہے۔شیر اس کی چکنی چپڑی باتوں میں آجاتاہے۔ اورہنس کرکہتا ہے کہ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ۔ لیکن پھر بھی میں تمھیں چھوڑ رہاہوں۔ پھر تاریخ اپنے آپ کودہراتی ہے۔ وہ شیر بھی کسی شکاری کے جال میں پھنس جاتاہے۔شیر فوراً واٹس ایپ کال کرکے چوہے کوبلاتا ہے کہ دوست آج دوستی کا حق ادا کرو۔تمہیں خبر نہیں کہ میں مصیبت میں گرفتا ہوں۔ چوہا فوراً وہاں پہنچتا ہے اورا یک جانب سے جال کترنے لگتا ہے۔ لیکن یہ کیا اس سے جال کاٹا ہی نہیں جارہا تھا۔جال کے تار باریک لیکن بہت مضبوط اور الجھانے والے تھے۔ ادھر ناقص غذائیں کھا کھا کر اس کے دانت قدریخراب ہوچکے تھے جو پہلے سے بھی انتہائی مضبوط اوردیدہ زیب جال کو نہ کاٹ سکے۔اب وہ جال اس کے اپنے دانتوں میں ایسے الجھ گیا کہ وہ خود کو بھی نہ چھڑا پارہاتھا۔اتنے میں شکاری آتاہے۔ اور فوراً اسے پکڑ کر ماردیتا ہے۔ کہ تو ہی وہ چوہا تھا جس نے پہلے بھی ایک شیر کوشکاری کے جال سے چھڑایاتھا۔ چوہا مرتے مرتے یہ سوچ رہا تھا کہ یہ میرے دشمنوں کی سازش ہے انہوں نے واٹس ایپ بنادیا۔اگر وہ یہ نہ بناتے تو آج میں یوں مارا نہ جاتا۔ حاصل کلام:#بادشاہوں (امراء)کا قرب کئی اعتبار سے خطرناک ہے۔وہ اگرچہ کچھ نہ کہیں ان کے دشمن بھی (جانے،انجانے میں) آپ کی جان لے سکتے ہیں۔ #بعض اوقات سیلفی کے شوقین خود کو انتہائی مصیبت بلکہ ہلاکت میں ڈال لیتے ہیں اس سے احتیاط بہتر ہے۔جیسا کہ چوہا اپنی کمزوریوں سے آگاہ ہی نہیں تھا لہذا شیر کو کیا بچاتا اپنی جان سے بھی ہاتھ دھوبیٹھا۔ #اپنی طاقت و توانائی کے مطابق کام ہاتھ میں لینا چاہئے اس کے برعکس تباہی و بربادی ہے۔ #اچھل کود اورگھمنڈ سے مسائل حل نہیں ہوتے اس کے لئے بہتر تدبیر وحکمت عملی ضروری ہے۔ #ہلاکت وتباہی کے بعد دوسروں پر الزام تراشی سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔Browse More Moral Stories

بڑا مجرم
Bara Mujrim

بد گمانی
Bad Gumani

رحمدل لڑکی
Rehamdil Larki

میرا دل بدل دے
Mera Dil Badal Day

زوباریہ کی سالگرہ
Zobariya Ki Salgirah

عظیم معلّم
Azeem Mualam
Urdu Jokes
استانی بچوں سے
ustani bachon se
استاد شاگرد سے
Ustad shagid sai
جعفرعمران سے
Jaffer Imran se
پروفیسر کا خیال
Professor Ka Khayal
دھمکی آمیز خط
Dhamki amez Khat
بوڑھا
boorha
Urdu Paheliyan
ٹانگیں چار مگر بے کار
taangen chaar magar bekar
بکھر بال کمر میں پیٹی
bikhre baal kamar me peti
اک رہ پہ دو بہنیں جائیں
ek raah pe do behne jaye
کوئی نہ دیکھے اور دکھلائے
koi na dekh or dikhaye
ایسا بنگلہ کوئی دکھائے
esa bangla koi dikhaye
اک بڈھے کے سر پر آگ
ek budhe ke sar par aag