chamaktay sitary

Chamaktay Sitary

چمکتے ستارے

رات کا وقت تھا ،آسمان ستاروں سے جھل مل کررہا تھا ،ثمن کی نظریں ستاروں کی جانب تھیں ۔خاصی دیر سے وہ ٹکٹکی باندھے اُنہیں دیکھ رہی تھی

نور فائقہ
رات کا وقت تھا ،آسمان ستاروں سے جھل مل کررہا تھا ،ثمن کی نظریں ستاروں کی جانب تھیں ۔خاصی دیر سے وہ ٹکٹکی باندھے اُنہیں دیکھ رہی تھی ۔کبھی مشرق کی جانب ستاروں کو گھورتی تو کبھی مغربی ستاروں کو دیکھتی ۔

اِن میں ایک ستارہ زیادہ چمک رہا تھا اور اپنی چمک کی وجہ سے دوسروں سے منفرد نظر آرہا تھا۔ ثمن کی نظر جب اُس پر پڑی تو اُسکی خوبصورتی نے اُسے اپنے اندر جذب کردیا ۔وہ طویل سوچوں میں پڑگئی ۔”ستارے تو سب ایک جیسے ہوتے ہیں پھر اِس ایک میں آخر ایسا کیا ہے جس نے اُسے دوسروں سے منفرد بنادیا ہے “،اُس نے دل ہی دل میں سوچا۔

”ثمن اُٹھو بیٹا صبح ہو گئی ہے ،سکول کیلئے دیر ہورہی ہے “؛امی نے کچن سے آواز دیتے ہوئے کہا۔امی کی مسلسل آواز سے ثمن کی آنکھ کھل چکی تھی ۔

(جاری ہے)

”جی امی آئی“؛ثمن آنکھیں ملتے ہوئے بولی ۔ناشتہ تیار تھا اور میزپر لگ چکا تھا ۔

ثمن نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور اسکول کیلئے روانہ ہو گئی۔مس نمرہ کا پریڈشروع ہو چکا تھا ،مس نمرہ انگلش کی ٹیچر تھیں اور آج اُنہوں نے انگلش کی نظم ”شائیننگ اسٹار “پڑھا نا تھی ۔وائٹ بورڈ پر ”چمکتے ستارے “کا عنوا ن دیکھ کر ثمن کو رات والا منظر یا د آگیا ۔
ستارے ہی ستارے اُسکی آنکھوں کے سامنے تھے ۔اُسے اپنا سوال یاد آیا کہ آخر سب ستارے ایک جیسے کیوں نہیں ہوتے ؟
”اچھا تو یہ تھا ہمارا آج کا لیکچر ،کسی کوکوئی سوال پوچھنا ہوتو پوچھ سکتا ہے “؛مس نمرہ نے کتاب بند کرتے ہوئے کہا ۔
ثمن نے ہاتھ کھڑا کردیا،”جی پوچھیے کیا جاننا ہے ؟“مس نے ثمن کو اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔”میم ! اللہ نے تو سب ستاروں کو ایک جیسے پیدا کیا ہے ،پھر کیوں کچھ زیادہ چمکتے ہیں اور کچھ کم ؟“ثمن نے کھڑے ہوتے ہوئے مود بانہ انداز میں سوال کیا ۔

”زبردست سوال “؛مس نمرہ نے مختصر کہا اور پھر جواب دینے لگیں ۔
”دیکھیے ! جیسے اللہ نے سب انسانوں کو اعضا کے لحاظ سے برابر پیدا کیا ہے سب کو دو آنکھیں ،دو کان ،دو پاؤں اور دو ہاتھ وغیرہ دئیے ہیں ۔اِن سب چیزوں میں اِن کو یکساں بنایا ہے لیکن اِن کو ایک دوسرے سے منفرد کرنے کیلئے کسی کو ذہین بنایا تو کسی کو تخلیق کار ،کسی میں کوئی ہنر رکھا تو کسی میں کوئی اور ۔
بالکل اِسی طرح اللہ نے سب ستاروں کو کچھ خصوصیات کی بنا پر یکساں بنایا اور کچھ میں اِن کو ایک دوسرے سے مختلف کیا ۔جیسے کچھ کم چمکتے ہیں اور کچھ زیادہ اور کچھ چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے “؛مس نمرہ نے جواب دیا۔
”جو ستارے زیادہ چمکتے ہیں وہ کم چمکتے ستاروں سے بہتر ہوتے ہیں “؟؛ثمن نے ایک بار پھر سوال کیا ۔
”ہر گز نہیں ،غور کریں تو چمکتے ہوئے ستاروں کی چمک کا اندازہ ہمیں تب ہوتا ہے جب اُن کے آس پاس کم چمکتے ستارے ہوں ،یہی بات اُن کو اہم بناتی ہے ۔ہمارے اِرد گِرد کے لوگ ہی ہماری پہچان ہوتے ہیں اور وہی ہمیں منفرد بناتے ہیں “؛مس نمرہ نے جواب دیا ۔

”واہ جی ! زبردست “؛ثمن نے مس نمرہ کے جواب پر کہا ۔
ثمن آج بہت خوش خوش گھر لوٹی کیونکہ اُسے اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا اور اُسے اب یقین ہو گیا تھا کہ دنیا کی کوئی چیز بھی دوسری چیز پر فضیلت نہیں رکھتی ہے ۔سب چیزوں کی اپنی انفرادی خصوصیات ہوتی ہیں جو اُسے دوسروں سے مختلف بناتی ہیں ۔

Your Thoughts and Comments