ehsas

Ehsas

احساس

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ خیر پور نامی ایک گائوں میں ثاقب نامی ایک بد دماغ امیر آدمی رہتا تھا۔ وہ بہت ہی گھمنڈی اور تکبر کرنے والا انسان تھا۔ اس کو اس بات کا گھمنڈ تھا کہ

محمد موحد شفقت اعوان
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ خیر پور نامی ایک گائوں میں ثاقب نامی ایک بد دماغ امیر آدمی رہتا تھا۔ وہ بہت ہی گھمنڈی اور تکبر کرنے والا انسان تھا۔ اس کو اس بات کا گھمنڈ تھا کہ گائو ں میں سب سے اونچی کوٹھی اسکی ہے۔

اور وہ بہت ساری زمینو ں کا مالک ہونے کی وجہ سے علاقے میں بہت بڑا زمیندار سمجھا جاتا تھا۔ لیکن وہ بہت ہی ظالم انسان تھا ۔ وہ اپنے سے کم حیثیت رکھنے والے لوگوں کو کیڑا مکوڑا سمجھتا تھا۔ ایک دفعہ ثاقب گائوں میں گھوم پھر رہا تھا کہ اسکوشمیم بی بی ملی۔

شمیم بی بی ایک بہت ہی بوڑھی اور غریب عورت تھی گائوں والوں نے مل کر اسکو رہنے کی جگہ دے رکھی تھی۔
شمیم بی بی کی نظر بہت ہی کمزور تھی اور اسی وجہ سے وہ رستے میں پڑا ہوا پتھر نہ دیکھ پائی اور گر پڑی۔

(جاری ہے)

ثاقب شمیم بی بی کی طرف متوجہ تھا لیکن اس بوڑھی اور لا چار عورت کی مدد کرنے کی بجائے اس نے فورا منہ موڑ لیا اور اپنے رستے ہو لیا۔

شمیم بی بی کافی دیر تک سڑک پر لاوارثوں کی طرح پڑی رہی اور اسکا بہت خون بہہ گیا۔ کافی دیر بعد ایک گائو ں والے نے شمیم بی بی کو دیکھا اور شور مچانے لگا اس کا شور سن کر گائوں والے اکٹھے ہو گئے اور سب نے ملکر شمیم بی بی کو اٹھا یا اور حکیم صاحب کے پاس لیجا کر مرہم پٹی کروائی۔
گائوں والے پہلے ہی ثاقب سے بہت نفرت کرتے تھے۔ اور اس واقعہ کے بعد ان کی نظر میں ثاقب کیلئے نفرت اور زیادہ بڑھ گئی۔ اور اسی وجہ سے سب گائوں والو ں نے مل کر ثاقب کے اس رویے کی شکائت گائوں کے نمبر دار کو لگائی ۔گائوں کا نمبر دار بہت ہی نیک دل انسان تھا۔
جو غریب ، لاچار اور بے بس لوگوں کے لئے درد دل رکھتا تھا۔ اس نے فورا رفیق (نمبردار کا ملازم) کو گائوں کے معززین کو اکٹھا کرنے کا حکم صادر فرمایا اور اسی وقت ثاقب کو بھی پنچائیت میں حاضری کا پیغام بھجوایا۔
پنچائیت میں ثاقب سے پوچھا گیاکہ تم نے ایسا کیوں کیا تمھارے سامنے ایک بزرگ عورت بری طرح گرگئی اور تم نے اس کی مدد کرنے کی بجائے اپنا راستہ لے لیا۔
ثاقب نے غرور سے جواب دیا کہ وہ ان غریبو ں کو اتنا اہم نہیں سمجھتا لہذا یہ کہ وہ شمیم بی بی کے گرنے کا ذمہ دار نہیں تھا تو اسے اٹھا تا کیوں۔ اتنا کہہ کر وہ پنچائت سے اکڑتا ہو ا چلتا بنا۔ گائو ں والے ثاقب کے اس رویے سے اور زیادہ پریشان ہوگئے تھے ۔

ثاقب کا ایک بیٹا جس کا نام اویس تھا شہر میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ ایک دن اویس شہر کے پارک میں چہل قدمی کر رہا تھا کہ اسکے دل میں اپنے موبائل کا خیال آیا۔ اور وہ ا پنی جیبں ٹٹولنے لگا۔ لیکن اسے اپنا موبائل نہ ملا تو وہ سوچنے لگا کہ شائد اسکا موبائل کہیں ہاسٹل میں نہ رہ گیا ہو تو وہ اپنا موبائل لینے کے لئے پارک سے باہر نکلا ۔
پارک کے سامنے سڑک کی دوسری جانب اسکا ہاسٹل تھا اسی لیے وہ جلدی میں دوڑتے ہوئے سڑک پار کرنے لگا ابھی وہ سڑک کے درمیان میں ہی تھا کہ ایک تیز رفتار کار نے اسے زور دار ٹکر ماری اور آگے نکل گئی اویس کافی دیر تک تنہا سڑک پر خون میں لت پت پڑا رہا اور پھر آہستہ آہستہ بہت سارے لوگ اس کے اردگرد جمع ہونے شروع ہوگئے لیکن کسی نے بھی ایمبولینس کو فو ن تک نہ کیا۔
کچھ ہی دیر بعد ایک بھلا آدمی آیا اور اس نے ایمبولینس کو فون کیا اور کچھ ہی لمحوں بعد ایمبولینس اپنی مخصوص آوازیں نکالتی جاہ وقوعہ پر پہنچ گئی اور اس میں سے چاک و چوبند نوجوان نکلے اور اویس کو ایمبولینس میں موجود ایمرجنسی بیڈ پر لیٹا کر ایمبولینس میں سوار کیا اور وہ بھلے آدمی کے ہمراہ اویس کو ہاسپٹل لے گئے اور اس کا علاج ممکن شروع ہوا۔
کچھ دیر ڈاکٹرز کے معائنے کے بعد ایک سینئر ڈاکٹر آئی ۔سی ۔یو سے باہر آیا اور ہال میں موجود افراد سے دریافت کیا کہ اس مریض کے ساتھ کو ن آیا ہے تو اسی لمحے وہ بھلا آدمی آگے بڑھا اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب اسکے ساتھ میں آیا ہوں تو ڈاکٹر نے اسکی طرف نرم لہجے سے متوجہ ہو کہ کہا جب تک آپ جیسے نیک بندے اس دنیا میں موجو د ہیں تب تک انسانیت کافائدہ ہو تا رہے گا۔
خوشخبری یہ ہے کہ اب مریض خطرے سے باہر ہے لیکن اگر تھوڑی سی دیر ہو جاتی تو اس کی دونوں ٹانگیں ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

اللہ آ پکو جزائے خیر دے۔ اویس کی جیب میں موجود فون نمبر پر فون کر کے اس کے گھر اطلاع دے دی گئی اور کچھ دیر کے بعد ثاقب اپنی بیوی کو لیکر پریشانی کے عالم میں ہاسپٹل پہنچ گیا۔

جب اسکو یہ معلوم ہوا کہ اس کے بیٹے کی جان ایک انجا ن اور نیک انسا ن نے بچائی جو کو اس کے بیٹے کو جانتا تک نہیں تھا تو یہ سب دیکھ کراسے اپنا واقع یاد آیا کہ شمیم تو میرے اپنے گائوں کی تھی تو میں نے اسکو گرنے سے کیوں نہیں بچایا۔
اسکو وقت پر حکیم صاحب کے پاس کیوں نہیں لے گیا۔ اسکو احساس ہو چکا تھا اور وہ سبق سیکھ چکا تھا۔ کچھ د ن اویس اسپتال میں داخل رہنے کے بعد بلکل ٹھیک ہوگیا۔ اور پھر ثاقب اویس اور باقی گھر والے جو ساتھ میں ہاسپٹل ٹھہرے ہوئے تھے ان سب کو لیکر گائوں واپس پہنچا۔
اور ثاقب نے اسی وقت نمبر دار کی موجودگی میں سب گائوں والوں سے اور شمیم سے معافی مانگی اور آئندہ کبھی بھی ایسا رویہ نہ رکھنے کا وعدہ کیا ۔ ثاقب کے اس بدلتے رویے کو دیکھ کرسب گائوں والوں نے اسے معاف کردیا اور اب خیر پور میں سب ہسی خوشی زندگی بسر کررہے ہیں۔

Your Thoughts and Comments