Ilm Ki Lagan - Article No. 955

علم کی لگن

اسکول بس کے تیز ہارن کی آواز سنی بلال نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ وہ ننگے پاؤں میلے کپڑے پہنے، آس پاس بکھری ہوئی گندگی میں کھڑا، کچرے کا تھیلا اپنے کندھے پر ڈالے ہوئے صرف یہ سوچ رہا تھا کہ میں بھی ان بچوں کی طرح صاف ستھرایونی فارم پہن کر اسکول جاتا۔

جمعہ 2 ستمبر 2016

Ilm Ki Lagan
سمیا اختر :
اسکول بس کے تیز ہارن کی آواز سنی بلال نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ وہ ننگے پاؤں میلے کپڑے پہنے، آس پاس بکھری ہوئی گندگی میں کھڑا، کچرے کا تھیلا اپنے کندھے پر ڈالے ہوئے صرف یہ سوچ رہا تھا کہ میں بھی ان بچوں کی طرح صاف ستھرایونی فارم پہن کر اسکول جاتا۔
اس کے باپ نے کچراچن کر ہی سہی، مگر اپنے اور اپنی اولاد کو حرام کی کمائی کبھی نہ کھلائی۔ باپ کے لیے دو وقت کی روٹی کھلانا ہی مشکل تھا۔ تعلیم کے اخراجات پورے کرنا اس کے بس میں نہیں تھا۔
سب بچے اپنااپنا بیگ سنبھالتے ہوئے اسکول کے اندر داخل ہوئے۔
کام سے فارغ ہوکر بلال نے باپ سے پوچھا: بابا! کیا میں کبھی نہیں پڑھ سکوں گا؟
روزانہ ایک ہی سوال ، تیرادل نہیں بھرتا؟ جب توجانتا ہے کہ میں تیری یہ خواہش نہیں پوری کرسکتا توکیوں مجھے تنگ کرتا ہے۔

(جاری ہے)

بیٹا ! اب روٹی کھالے اورسوجا جتنی جلدی صبح اٹھے گا اتنا اچھا کچرا ملے گا۔


کچرا توکچرا ہوتا ہے بابا! اچھابرا کچرا کیاہوتا ہے!آخر وہ سوچتے سوگیا ۔ اگلے روز کچرے کے ڈھیر کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کے باپ کو عربی زبان میں لکھاہوا ایک کاغذ ملاتو اس نے اسے چوم کر آنکھوں سے لگالیا۔ اب اسے رکھتا کہاں! ہاتھ میں جوتھیلا تھا، وہ گندی چیزوں سے بھرا ہوا تھا۔
اس نے قریبی ایک بڑی جامع مسجد کارخ کیا۔ یہاں دینی تعلیم کے ساتھ دوسرے تمام علوم کی تعلیم مفت دی جاتی تھی۔ دروازے کے اندقدم رکھتے ہوئے اس کادل ہچکچایا۔ سامنے لکھا تھا: صفائی نصف ایمان ہے۔ اسے مسجد کے احاطے کے اندر صاف ستھرے لباس پہنے، سلیقے سے ٹوپی لگائے ہوئے ایک بچہ نظر آیا۔
اس نے بچے کو اشارے سے بلایا: بیٹا! یہ اس ڈبے میں ڈال دو۔ قریب آنے پر اسے اپنا بیٹا یاد آگیا۔
تم یہاں کیا کررہے ہو؟ اس نے یونہی پوچھ لیا۔
بچے نے بڑی خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ میں یہاں پڑھتاہوں۔
یہاں کیا پڑھتے ہو؟
قرآن وحدیث اور دوسری علمی کتابیں۔

اتنے میں مسجد کے امام صاحب آگئے تو اس نے پوچھا: امام صاحب یہاں پر بچوں کی تعلیم پر کتنا خرچا آتا ہے۔
کچھ بھی نہیں، ہم یہ کام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضاکے لیے کرتے ہیں، مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو؟
میرے بیٹے کوپڑھنے لکھنے کا بہت شوق ہے․․․․․ مگر کہا کروں کچرے کے ڈھیر سے پیٹ کی آگ تو بجھ جاتی ہے، مگر علم حاصل کرنے کے لیے تو پیسے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ کہاں سے لاؤں․․․․․ “
تم اس کوکل ہمارے پاس لے آنا۔

مگر․․․․․․“
مگر کیا؟
جناب ! اس کے پاس صاف ستھرے کپڑے اور جوتے نہیں ہیں۔
مولوی صاحب نے اس کے بیٹے کی عمر معلوم کی اور پھر ایک شاگرد کواشارے سے بلایا۔ اس کے کان میں کچھ کہا۔ شیرخان نے مایوس ہوکرواپسی کاارادہ کیااور کچرے کا تھیلا کندھے ڈال کر ابھی چندقدم آگے بڑھا ہی تھا کہ مولوی صاحب کی آواز آئی: یہ لوکپڑے اور جوتے ، کل اسے نہلا دھلا کر ہمارے پاس لے آنا۔
کل سے تمھارا بیٹا ہمارا شاگرد ہے۔
شیرخان نے گھر پہنچ کر دیکھا کہ آج بلال چپ چاپ کمرے کے ایک کونے میں لیٹا ہوا ہے۔ نہ کوئی فرمائش اور نہ کچرے کے تھیلے میں سے کچھ ڈھونڈنے کی لگن۔ شیرخان نے وہیں زمین پر بیٹھتے ہوئے اس کے سر کواپنی گود میں رکھ لیا اور بے ساختہ اور اس کے ماتھے کوچومنے لگا۔

وہ باپ کی گود میں چھپ گیا: بابا ! مجھے پڑھنا ہے، اچھا انسان بننا ہے۔
ضروربیٹا ضرور۔
غیر متوقع جواب سن کر بلال اٹھ کر بیٹھ گیا۔
ہاں بیٹا! یہ کہہ کر شیرخام نے اسے نئے کپڑے اور جوتے دیے اورکہا: کل سویرے ہی ہم چلیں گے۔اب تجھے رونے اورکچرااُٹھانے کی ضرورت نہیں۔
بلال کی آنکھوں میں چمکتی خوشی دیکھ کر شیر خان کا چہرے بھی خوشی سے کھل اٹھا۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Amli Iqdaam

عملی اقدام

Amli Iqdaam

Afwah Sazi

افواہ سازی

Afwah Sazi

Baron Ka Adab

بڑوں کا ادب

Baron Ka Adab

Ont Rey Ont

اُونٹ رے اُونٹ

Ont Rey Ont

Bahadur Larki

بہادر لڑکی

Bahadur Larki

Maghroor Darakht

مغرور درخت

Maghroor Darakht

Eid Ke Moqa Par

عید کے موقع پر

Eid Ke Moqa Par

Yaaddasht Ya Hafza

یادداشت یا حافظہ

Yaaddasht Ya Hafza

Darzi Aur Sipahi

درزی اور سپاہی

Darzi Aur Sipahi

Jaddu Ka Button

جادُو کا بٹن

Jaddu Ka Button

Wo Kanjoos Nahi Tha

وہ کنجوس نہیں تھا

Wo Kanjoos Nahi Tha

Choti Si Qeemat

چھوٹی سی قیمت

Choti Si Qeemat

Your Thoughts and Comments