Mochi

Mochi

موچی

وہ موچی تھا اور میں بڑا سرکاری افسر لیکن․․․․․․․․

ڈاکٹر شیما ربانی:
یہ میرا معمول ہے کہ میں شام سیر کرنے کے لئے اپنے گھر کے نزدیک باغ میں جایا کرتا ہوں۔ میرے گھر سے کچھ فاصلے پر سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر وہ روزانہ موجود ہوتا ہے، میں اُسے حد تک جانتا ہوں کہ روز اس کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کو سلام کرلیتا ہوں، اور یہ سلسلہ بھی اس کا ہی شروع کردہ ہے۔
ایک دن جب میں جاگنگ کرتا ہوا اس کے قریب سے گزرا تو اس نے اپنے مصروف ہاتھوں کو روک کر سر اُٹھایا اور اچانک مجھے سلام کیا ۔ جس کا جو اب میں نے چونکتے ہوئے دیا۔ اس کے بعد سے یہ سلام میرا اور اُس کا معمول بن گیا تھا۔ میں اس شہر کے اہم لوگوں میں شمار کیا جاتا ہوں اور سرکاری نظام میں نہایت اہم پُرزے کی حیثیت رکھتا ہوں یعنی میں وزارتِ داخلہ میں ایک اہم عہدے پر مقرر ہوں۔

(جاری ہے)

آج بھی میں معمول کے مطابق جاگنگ کے لئے نکلا اور گلی عبور کرکے اُس کے نزدیک پہنچا، وہ آج اپنے کام میں بہت مصروف تھا یہاں تک کہ اُس نے آج تو سلام کے لئے بھی اپنا سر نہ اٹھایا تھا لہٰذا آج میں نے پہلے اُس کو سلام کیا۔ اسلام علیکم! کیا حال ہے بھائی“۔
وعلیکم السلام صاحب ٹھیک ہوں اللہ کا کرم ہے۔ آپ کیسے ہیں جی؟“ ٹھیک ہوں“ ۔ آج نہ جانے کیوں میں اس کے پاس رک گیا تھا اور باتیں کرنے لگا تھا۔ تم کب سے یہاں ہو؟“۔ صاحب جی تقریباََ تیس بتیس سال ہوگئے ہیں۔“ اس علاقے میں تو تمھارا کام زیادہ نہیں چلتا ہوگا ،نہیں جی ٹھیک ہی چل جاتاہے بس روز کا خرچا نکل آتا ہے بس اتنا ہی کافی ہے جی۔
تمھارا گھر بار بچے وغیرہ کہاں رہتے ہیں؟“۔ یہاں سے آدھا گھنٹہ چلنے کے بعد ایک کچی آبادی ہے جمن آباد وہاں رہتا ہوں میں۔ بچے کیا کرتے ہیں تمھارے ، اُن کو کیوں نہیں ساتھ کام پر لگاتے؟“ صاحب میرے دو بچے ہیں دونوں لڑکے ہیں بڑی مشکل سے پانچویں تک پڑھ سکے ہیں اور اب وہ یہ کام نہیں کرنا چاہتے ہیں ، ۔
وہ اپنے یار دوستوں کے ساتھ دوکان کرنا چاہتے ہیں۔مگر کیا کریں صاحب اتنا تو نہیں ہے ہمارے پاس۔ بس جی کو شش کررہے ہیں۔ تم یہاں کب تک بیٹھتے ہو؟“ بس جی اندھیرا ہونے لگے تو چلا جاتا ہوں۔میرا کام روشنی کا ہی ہے جی، ویسے بھی اب نظر بھی کم آنے لگا ہے“ اس نے یہ تمام باتیں سرجھکائے ہوئے ہی کیں اور اپنے کام میں لگا رہا ، میں نے اُس سے ہاتھ ملایااور دعا سلام کے بعدوہاں سے چل پڑا۔
آہستہ آہستہ چلتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ میں اس کا اور اپنا مقابلہ کررہا ہوں۔ مجھے خیال آیا کہ میں اس اعلیٰ سرکاری عہدے پر ہوتے ہوئے ایک دن میں اس معاشرے کو کیا دے پاتا ہوں اور وہ اپنے ایک دن میں اس معاشرے کو کیا دے رہا ہے۔
میں اپنے پورے دن میں صبح سے شام تک دو تین بے مقصد میٹنگ نمٹانا ہوں پھر کئی گھنٹے دوپہر کے کھانے کے نام پر صرف کرتا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ آفس میں کئی فائلیں اپنے دستخط سے یا تو آگے بھیج دیتا ہوں یا پھر واپس بھیجوا دیتا ہوں، اس طرح ایک دن ختم ہو جاتا ہے۔
جبکہ یہ شخص جو کہ ایک موچی ہے اور معاشرے میں ایک معمولی سا مقام رکھتا ہے ایک پورے دن میں کم ازکم بھی دس جوتے گانٹھ کر کچھ رقم حاصل کرلیتا ہے جو اس کے بچوں کے لئے بے حد اہم ہے او ر ساتھ ساتھ معاشرے اور عوام کی بھلائی اور خدمت میں براہ راست حصہ لیتا ہے۔
اچانک مجھے محسوس ہواکہ جیسے میں بہت تھک گیا ہوں اور پھر میں نے باغ میں پہنچنے سے پہلے ہی واپسی کے لئے رُخ موڑلیا ، واپس آتے ہوئے جب میں اُس کے پاس سے گزرا تو میں نے اپنے دل میں اعتراف کیا کہ: یہ موچی معاشرے کی بھلائی کرنے میں مجھ سے کہیں آگے ہے اور زیادہ ضروری ہے۔“

Your Thoughts and Comments