Neeli Pari

Neeli Pari

نیلی پری

تحفہ دے کر پرستان چلی گئی

محمد ابوبکر ساجد :
ایک باغ میں بہت سے جانور رہتے تھے۔ ہر طرف رنگ برنگے پھول کھلے تھے۔ مزیدار میٹھے رس بھرے پھلوں سے یہ باغ لداہوا تھا۔ ہر منگل کو پرستان کی پریاں جانوروں کے ساتھ مزا اور موج مستی کرنے آتیں۔
خوشی سے جب پرندے چہچہاتے تو انھیں بہت اچھا لگتا۔
پریوں میں ایک پری ” نیلم پری “ تھی جس کے پرسات رنگ کے تھے ، اس پری کی خاصیت یہ تھی کہ یہ فضاؤں میں جب اڑتی تو اس کے سات رنگوں کا عکس آسمان پرجاتا جودیکھنے میں بہت پیارا لگتا ۔

آج بھی منگل کا دن تھا۔ صبح سے ہی باغ میں میلہ لگاتھا۔ سب تیار ہوکر پریوں کا انتظار کررہے تھے کہ اچانک بارش برسنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے تالاب سابن گیا، میلے کیلئے کی گئی سجاوٹ سب بارش کی نذر ہوگئی۔

(جاری ہے)

سب جانور حیران وپریشان تھے کہ یہ بن موسم بارش کیسے ہوگئی۔


ننھے جانور بہت غصے میں آگئے ، کیونکہ ان کی تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں ۔ اس وقت پریوں کی ٹولی باغ میں اتری۔ جانورں نے غصے میں ان کااستقبال بھی نہ کیا۔ پریاں حیران ہوگئیں کہ آخر آج کیا ماجرا ہوگیا جو ان کے شایان شان کسی نے بھی ان کااستقبال نہ کیا۔

اُن کی ملکہ نے بی لومڑی سے پوچھا کہ یہاں سب غصے میں کیوں ہیں؟ لومڑی نے افسردہ ہوکر بارش کی وجہ سے میلہ خراب ہونے کے تمام رودادسنادی۔ یہ سن کرملکہ مسکرائی اور کہا۔
دستو ! بارش ایک نعمت ہے۔ اس بارش کی وجہ سے ہمیں کتنا فائدہ ہوتا ہے ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوجاتی ہے۔
نئے پھل اگتے ہیں۔ باغ کی خوبصورتی میں اضافہ بھی ہوگیا ہے۔ سارے جانور بڑے غور سے ملکہ کی باتیں سن رہے تھے۔
یہ سب سن کر سفید خرگوش ایک دم بولا وہ تو ٹھیک ہے مگر اب ہم نیلم پری کے سات رنگ کیسے دیکھیں گے ؟ سورج تو نکلا نہیں۔
اس کی بات سن کر پریاں ہنسنے لگیں، ملکہ نے کہا ہم بھلا اپنے دوستوں کو افسردہ کیسے دیکھ سکتے ہیں۔
ملکہ نے نیلم پری کو بلایا تو نیل پری فوراََ حاضر ہوگئی اور اس نے آتے ہی کہا ! چلو سب خوش ہوجاؤ میں اپنے ساتوں رنگوں کا مظاہرہ کرنے لگی ہوں یہ کہہ کر نیلم پری نے پرواز بھری اور فضاء میں پہلے لال رنگ سے عجیب وغریب خاکے بنائے پھر ہرا، نیلا اور پیلا۔
اسی طرح سے باغ ان رنگوں سے خوبصورت لگنے لگا۔
سب جانور خوشی سے تالیاں بجانے لگے، بادل چھٹے اور سورج نمودار ہوا۔ یہ رنگ آسمان سے اترتے ہوئے محسوس ہونے لگے۔ پھریوں ہوا کہ نیلم پری نے ساتگوں رنگ ہمیشہ کیلئے آسمان پر چھوڑ دئیے اور خود پرستان چلی گئی۔ اب ہر بارش کے بعد اکثر یہ رنگ نمودار ہوتے ہیں جنہیں ہم ” قوح قزح “ کہتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments