Jin Ka Bhai

Jin Ka Bhai

جن کا بھائی

رات کے ڈھائی بج رہے تھے ۔ کمرے میں مدھم روشنی تھی ۔ عزیز آلتی آلتی مار کر آنکھیں بند کرکے اونچی اونچی آواز میں کچھ پڑھ رہا تھا۔ اچانک اس کمرے کادروازہ کھلا۔ اس کے والد غصے میں بھرے کمرے میں داخل ہوئے اورلائٹ جلاتے ہوئے غصے سے بولے:

محمد اقبال شمس :
رات کے ڈھائی بج رہے تھے ۔ کمرے میں مدھم روشنی تھی ۔ عزیز آلتی آلتی مار کر آنکھیں بند کرکے اونچی اونچی آواز میں کچھ پڑھ رہا تھا۔ اچانک اس کمرے کادروازہ کھلا۔ اس کے والد غصے میں بھرے کمرے میں داخل ہوئے اورلائٹ جلاتے ہوئے غصے سے بولے : نہ تم خود سوتے ہو، نہ دوسروں کو سونے دیتے ہو۔
محلے والے الگ شکایت کرتے ہیں کہ یہ کون ہے جورات کو اجنبی زبان میں بولتا رہتا ہے ۔ آخر عامل بننے کا بھوت تمھارے سرسے کب اُترے گا۔
اباجی ! لوگوں کی یہ مجال کہ میرے متعلق باتیں کریں۔ میں ان کے منھ بند کردوں گا۔ عزیز آنکھیں نکالتے ہوئے بولا۔

اس کے ابا بولے : بیٹا دیکھ دیکھ یہ عامل بننے کے خواب دیکھنا چھوڑو اور سیدھی سادی آسان زندگی گزارو
وہ بولا: اباجی ! ان تو منزل میرے سامنے کھڑی ہے ۔

(جاری ہے)

بس آخری چلّہ باقی ہے ۔ اس میں کامیاب ہونے کے بعد جن میرے قبضے میں آجائے گا اور میں بہت بڑا عامل بن جاؤں گا۔


آج چلّے کی آخری رات تھی ۔ آدھی رات کو قبرستان میں ایک حصار کے اندر عزیزآنکھیں بندکیے، عملیات میں مشغول تھا کہ اچانک کچھ خوف ناک آوازیں اُبھریں ۔ ان آوازوں میں رفتہ رفتہ تیزی آئی گئی ۔ جس سے ماحول مزیدخوفناک ہوگیا۔
ان آوازوں سے اس کے بدن میں کچھ جھرجھری سی ہوئی، مگر اس نے آنکھیں نہیں کھولیں۔ آوازیں کچھ مدہم سی ہونے لگیں تو اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں اچانک درجنوں کی تعداد میں خوفناک شکلیں نمودار ہوئیں۔ اس نے فورََ اپنے خوف پر قابو پایا۔
ان شیطانی طاقتوں کی بھرپور کوششیں تھیں کہ وہ یہ عمل مکمل نہ کرپائے اور ڈر کے بھاگ جائے ، مگرعزیز اپنے ادارے کاپکا ثابت ہوا۔ اسے اپنے خوف پر مکمل کنٹرول ہوچکا تھا۔ اس کے عملیات میں تیزی آنے لگی ۔ تھوڑی دیر تک یہ جنگ جاری رہی اور پھر جیتاآخر عزیر کی ہوئی ۔
خوفناک آوازیں اور شکلیں غائب ہوچکی تھیں ۔
اچانک اس نے دیکھا کہ ایک مخلوق ہاتھ باندھے، اس کے سامنے کھڑی تھی ۔ اب دو مخلوق اس کی غلام تھی ۔ یہ دیکھ کر اس کی باچھیں کھل اٹھیں ۔ اس نے اپنے عمل کی وجہ سے دراصل ایک جن کو اپنے بس میں کر لیاتھا۔
ان وہ اس کی مدد سے لوگوں کے الٹے سیدھے کام آسانی سے کرسکتا تھا۔
وہ خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ جن اس کے پیچھے پیچھے ہاتھ باندھے ہوا میں معلق تیرتارہا۔ اچانک اسی جن کاایک ہم شکل وہاں نمودار ہوا۔ وہ اس کا ہم شکل بھائی تھا۔
وہ اپنی تھوڑی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا: او ، انسان کے بچے اتونے اپنے عمل سے میرے بھائی کی توقابو میں کرلیا۔ اب دیکھنا میں اپنے بھائی کوتیرے چنگل سے کیسے آزاد کراتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔
عزیرنے اپنے گھر کے ایک حصے میں اپنا آستانہ بنالیا تھا۔
مختلف اخباروں میں اپنا اشتہاردے دیا تھا۔ اب اسے اُمید تھی کہ اس کے آستانے پر لوگوں کا ہجوم امڈآئے گا۔
ایک دن دو بھائی اس کے آستانے میں داخل ہوئے اور اپنامسئلہ بیان کیا۔ ان میں سے ایک بولا: بابا امیر قد دیکھیں اتنا لمبا ہے کہ اس پر بانس کاگمان ہوتا ہے اور یہ میرا بھائی اتنادبلا ہے کہ جیسے کئی دنوں سے فاقوں سے ہو۔

اب تم کیاچاہتے ہو ؟ عزیر بولا ۔
وہ بولا: آپ تو عامل ہیں کچھ اس طرح کریں کہ میرا قدمناسب ہوجائے اور میرا بھائی موٹا ہوجائے ۔
عزیر نے کہا : ٹھیک ہے تمہارے مسئلے کا حل ابھی بتاتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ آنکھیں بند کرکے بیٹھ گیا اور جن کو حاضر کیا۔
جن کی صرف وہی دیکھ اور سن سکتا تھا۔ حاضر ہونے والا جن اس جن کاہم شکل بھائی تھا، جسے عزیر نے قابو میں کیاتھا۔ ہم شکل ہونے کی وجہ سے عزیر اسے پہچان نہ سکا اور اسے ان دونوں کا مسئلہ بتا کر اس کوحل کرنے کا عمل پوچھا۔ پھر جو عمل جن نے بتایا، وہ ہی عزیر نے ان دونوں کو بتاکر ایک ہفتے کے بعد آنے کاوقت دے دیا۔
وہ دونوں خوشی خوشی چلے گئے ۔
جن نے اپنے بھائی سے پوچھا: بھائی تم نے میری جگہ کیوں لی ؟
وہ بولا۔ دیکھو تم اس شخص کے غلام ہو، وہ جوکہے گاتمہیں ماننا پڑے گا، مگر میں اس کاغلام نہیں ہوں۔ میں نے اسے اُلٹا عمل بتادیا ہے ۔
اب دیکھو اس کاکیا حشر ہوتا ہے ۔ یہ کہہ کر وہ مسکرانے لگا۔
عزیر کے پڑوس میں ایک غریب مزدور رہتا تھا۔ وہ اس کے پاس آیا اور کہا ۔ بیٹا عزیر بولا: جی بولیے ، آخر پڑوسیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں ۔
مزدور نے کہا: مہنگائی نے کمرتوڑدی ہے ۔
میں امیر بننا چاہتا ہوں ۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس بہت سے پیسے آجائیں اور میں دولت مند ہوجاؤں۔
عزیر بولا: ارے بس اتنی سی بات، میں آپ کو ابھی عمل بتاتا ہوں۔ جن بلانے پر پھر اسی کاہم شکل بھائی حاضر ہوااور اسے اُلٹا عمل بتادیا،جواس نے پڑوسی مزدور کو بتادیا۔

ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ وہ دونوں بھائی اس کے آستانے پر آکر شور مچانے لگے ۔ شور کی آواز شن کر اس کے والد جمال صاحب بھی آگئے ۔ شور کی وجہ پوچھی تو وہ بولے: دیکھیں جناب ! میں نے بابا سے کہا تھا کہ میرا قد بہت لمبا ہے ، اسے مناسب اور میرا بھائی بہت دبلا ہے ، اسے موٹا کردیں، مگر نہ جانے انھوں نے کیسا عمل بتایا کہ میرا قد چھوٹا ہو کر تین فیٹ کا ہوگیا اور میرا بھائی موٹاہونے کے بجائے بے تحاشا لمبا ہوگیااور اب تو کمرے میں میں کھڑا بھی نہیں ہوپاتا۔
ہم توپہلے والی حالت میں ٹھیک تھے ۔
جمال صاحب بولے، جو اللہ کی رضا پرراضی نہیں رہتے ان کاایسا ہی حشر ہوتا ہے ۔ اسی دوران ایک نقاب پوش بھاگتا ہواآتا ہے اوراپنے منھ سے کپڑا ہٹا کر بولا ” ارے بابا! میں نے کہا تھا کہ مجھے امیر بنا دو، تم نے مجھے ڈاکو بنادیا۔

جمال صاحب غصے بولے ، ارے تم اس غریب کو ڈاکو بنادیا ۔
عزیر بولا: انھوں نے کہا تھا کہ مجھے امیر بنادو۔ اب یہ ڈاکو بن کرڈاکا ڈالیں گے ،خوب دولت کمائیں گے ، جبھی تویہ ! امیر بنیں گے ۔
جمال صاحب بولے۔ ہاں بات توٹھیک کہی ہے ۔

ڈاکو نے کہا: کیا خاک ٹھیک کہہ رہا ہے ۔ ہر وقت جان خطرے میں رہتی ہے ۔ پولیس سے منھ چھپاتا پھرتا ہوں ، میری زندگی اجیرن ہوگئی ہے ۔ اب بھی پولیس میرے پیچھے لگی ہوئی ہے ۔
وہ دونوں جنات ایک طرف کھڑے یہ تماشا دیکھ کر خوب ہنسے جارہے تھے ۔

عزیر کاسرندامت سے جھکا ہوا تھا۔ اسی دوران جمال صاحب نے آنے والے لوگوں سے کہا: جو صحیح راستہ چھوڑ کر غلط راستوں پر چلتے ہیں، ان کا حشر ایسا ہی ہوتا ہے ۔ میں تو پہلے ہی ان سب باتوں کا مخالف تھا۔ میں نے عزیر کو بھی سمجھایا تھا کہ ان چکروں میں مت پڑو، مگر اس نے میری ایک نہ سنی ۔

اسی دوران پولیس ڈاکو کو ڈھونڈتی ہوئی ان کے گھر داخل ہوگئی، ڈاکو وہاں سے بھاگنے لگا تو اسی مخلوق نے ٹانگ اڑا کراسے گرادیا۔ پولیس نے اسے پکڑ لیا۔ جب پولیس کو ساری صورت حال کا علم ہوا تو پولیس نے عزیر کو بھی گرفتار کرلیا ۔

جن کے بھائی نے عزیرکے پاس آکرکہا: اب تمھیں پتاچلے گا کہ قید کی حالت میں زندگی کیسی گزرتی ہے ہمیں توتم نے قید کرلیا تھا، اب اس کی سزابھگتو۔ تمھارے لیے یہ بہتریہ ہے کہ تم میرے بھائی کو آزاد کردو ورنہ میں تمھیں برباد کردوں گا۔
عزیر نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جن کو آزاد کردیا۔ جن اپنے بھائی کو آزاد کرالیا، پھر دونوں اپنی دنیا میں واپس جانے کے لیے خوشی خوشی روانہ ہوگئے ۔ عزیر انھیں جاتا ہوا حسرت بھری نگاہوں دسے دیکھنے لگا۔

Your Thoughts and Comments