pari Ka Tufa

Pari Ka Tufa

پری کا تحفہ

وہ ایک سنہری شام تھی،جب شہزادی عنایہ شہزادی سونیہ اور انکی پکی سہیلی شمائلہ سب محل کے باغیچے میں خوشگوار موسم کا مزہ لے رہی تھیں

پری کا تحفہ
زینب بنت عمران:
وہ ایک سنہری شام تھی،جب شہزادی عنایہ شہزادی سونیہ اور انکی پکی سہیلی شمائلہ سب محل کے باغیچے میں خوشگوار موسم کا مزہ لے رہی تھیں۔ شہزادی عنایہ اور سونیہ دونوں جڑواں بہنیں تھیں۔
بچپن سے ہی انکی دوستی ایک اچھے گھرانے کی لڑکی شمائلہ سے تھی ۔ یہ تینوں ایک دوسرے سے بے حد پیار کرتیں اور ہمیشہ ساتھ ساتھ رہتی تھیں۔ اُس شام وہ سب باغیچے میں بیٹھی مختلف موضوعات پر باتیں کررہی تھیں کہ اچانک ایک خوبصورت پرندہ اُن سے کچھ فاصلے پر آکر گرا۔
اُن تینوں نے جب اُسکے پاس جا کر دیکھاتو معلوم ہوا کہ وہ زخمی ہے۔انہوں نے پرندے کی مرہم پٹی کی اور اُس کیلئے چھوٹا سا گھونسلا بنا دیا تاکہ وہ اُس میں آرام سے رہ سکے ۔

(جاری ہے)

پرندہ آہستہ آہستہ ٹھیک ہوگیا۔ وہ سب بہت خوش تھیں۔ اُنہوں نے پرندے کے سر پر نرمی سے باری باری ہاتھ پھیرا تو وہ اچانک ایک خوبصورت پری کی شکل میں بدل گیا۔

وہ تینوں بہت حیران ہوئیں مگر پری نے انہیں کہا کہ اُنہوں نے اُس کی دیکھ بھال کی جس کے بدلے وہ اُن کو تحفہ دینا چاہتی ہے۔ پھر اُس نے اپنی چھڑی گھمائی تو اُسکے ہاتھ میں ایک لال پوٹلی نمودار ہوگئی ۔ جب اُس نے اُسے کھولاتو اُس میں سے تین خوبصورت سی چمکتی دھمکتی ہیرے کی انگوٹھیاں نکلیں جو اُس نے اُن تینوں میں تقسیم کردیں اور کہا کہ جب کبھی مدد کی ضرورت ہو تو انگوٹھی کو اپنی مٹھی میں کس کر بند کرلیں تو وہ فوراََ وہاں مدد کے لئے حاضر ہوجائے گی۔
وہ تینوں یہ بات سن کر تھوڑی حیران ہوئیں مگر پھر انہوں نے سوچا کہ اس طرح تو اُسکی ہر مشکل آسان ہوجائے گی تو انہوں نے پری کا شکریہ ادا کیا اور محل میں چلی گئیں۔ دن یوں ہی گزرتے گئے اور تینوں پکی سہیلیاں 21 سال کی ہوگئیں تو انکے والدین کو انکو فکر ستانے لگی۔
فکر کیوں نہ ہوتی کیونکہ اُن کے ملک کا رواج کچھ یوں تھا کہ اگر کسی بھی لڑکی کی عمر 21 سال کی عمر تک شادی نہیں ہوئی تو اُسے ایک سال تک ملک کے سب سے پرانے جنگل میں جہاں ہر طرح کا جانور اور ہر طرح کے کیڑے مکوڑے پائے جاتے تھے،چھوڑ دیا جاتا۔
وہاں اپنے گھر کا کوئی سامان بھی نہیں لے جایا جاسکتاتھا۔ سب اسی فکر میں مبتلا تھے کہ اچانک چند آدمی آئے جو زبردستی شہزادی سونیہ اور عنایہ کو انکی سہیلی شمائلہ کے ساتھ جنگل تک لے گئے۔ وہ تینوں تین الگ الگ سمتوں میں جائیں گی اور کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈیں تاکہ اِس جنگل سے باہر نکل سکیں۔
آخر تینوں کے راستے جدا جدا ہوگئے۔ پھر ایک گھنٹہ چلنے کے بعد شہزادی عنایہ کو شدت سے پیاس لگی۔ اُس نے سوچا کہ اب میں پانی کہاں ڈھونڈوں گی۔ اچانک ہی اُسے یاد آیا کہ وہ تو جب چاہے پری کو بلاسکتی ہے تو اُس نے فوراََ اپنی انگوٹھی اُتار کر اپنی مٹھی میں کس کر پکڑی تو ایک زور دار جھٹکا ہوا اور پری وہاں آگئی اور اُس نے شہزادی عنایہ سو پوچھا کیا کام ہے تو عنایہ نے اُسے کچھ بتایا ۔
پھر پری نے مسکرا کر عنایہ کی طرف دیکھا اور وہاں سے غائب ہوگئی۔ شہزادی سونیا ایک پیڑ کے پاس آکر رکی ہی تھی کہ اچانک کسی نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور وہ بے ہوش ہوگئی۔ ایسا ہی کچھ شمائلہ کے ساتھ ہوا پھر اچانک شمائلہ اور سونیہ کی آنکھ کھلی تو اُنہوں نے دیکھا کہ شہزادی عنایہ کھڑی مسکرارہی تھی اور وہ لوگ جنگل کی بجائے اپنے محل کے ایک کمرے میں تھیں۔
اُن دونوں نے حیرت سے عنایہ کی طرف دیکھا تو اُس نے بتایا کہ اُس نے پری سے کہاتھا کہ وہ اِن دونوں کو اُسکے پاس لے کر آئے اور پھر اُنہیں چپکے سے محل کے کسی کونے کے کمرے میں چھوڑ دے جہاں لوگوں کا گزرنہ ہواور ان دونوں (سونیا اور شمائلہ) کو بھی اس بات کا علم نا ہو ورنہ وہ ڈرجائیں گی کیونکہ سونیہ اور شمائلہ جادو اور پریوں سے ڈرتی تھیں۔
پھر پری مزے مزے کے کھانے لے کر حاضر ہوئی۔ اُس وقت سونیا اور شمائلہ کاڈر ختم ہوچکا تھا۔ پھر عنایہ نے پری سے کہہ کر ملک کے اس رواج کو ختم کروادیا اور پھر سب لوگ خوشی خوشی رہنے لگے۔

Your Thoughts and Comments