qabil e maffi

Qabil E Maffi

قابلِ معافی

میرا ایک بازو ایک بھیا نک صورت والے بھیڑیے نے پکڑر کھا تھا ،جب کہ دوسرا بازو ایک خوف ناک ریچھ کی گرفت میں تھا۔

انور فرہاد
میرا ایک بازو ایک بھیا نک صورت والے بھیڑیے نے پکڑر کھا تھا ،جب کہ دوسرا بازو ایک خوف ناک ریچھ کی گرفت میں تھا۔دونوں کھینچتے ہوئے مجھے لے جارہے تھے۔ذرا دیر بعد انھوں نے ایک جگہ لے جا کر مجھے کھڑا کر دیا۔

اب جو میری نظر سامنے پڑی تو میری جان ہی نکل گئی۔میرے سامنے تھوڑے فاصلے پر ایک شیر شان سے بیٹھا تھا اور اس کے اردگرد چیتے ،بھیڑیے ،لومڑی اور لکڑی بھگے باادب کھڑے تھے ۔
”شہنشاہِ جنگل ! یہ ہے وہ مجرم جو سنگین جرائم میں ملوث ہے ۔
جس نے اپنی دنیا میں ہم جیسے جانوروں کا جینا دو بھر کر رکھا ہے ۔گھوڑوں ،خچروں ،گدھوں ،بیلوں اور اونٹوں سے اپنے لیے مختلف طریقے کے کام لیتا ہے ۔“مجھے لانے والے بھیڑیے نے ببر شیر سے شکائتی انداز میں کہا۔

(جاری ہے)


قریب ہی کھڑا ایک گدھا بولا:”جب کہ کام کے دوران ذرا ذراسی بھول چوک پر تشدد کرتا ہے ۔

ہمیں بُری طرح مارتا پیٹتا ہے ۔“
بھیڑیے نے کہا:”انھیں پیٹ بھر کر کھانے کو بھی نہیں دیتا ،شہنشاہ مکرم !“
”انھیں کھانے کو کیا دے گا یہ دو پیروں والا درندہ ۔“بھالو نے میری طرف اشارہ کرکے نفرت سے کہا:”یہ تو بیلوں ،گایوں ،بکروں ،بھیڑوں اور دُنبوں کو ذبح کرکے ان کی کھال اُتار کر ،ان کی بوٹیاں بنا کر ،انھیں آگ میں پکا کر ہڑپ کرجاتا ہے ۔

”یہی نہیں شہنشاہ عالی جاہ !“ بھیڑیا بولا:”گایوں ،بھینسوں ،بکریوں اور اونٹوں کے بچوں کے منھ کا نوالہ بھی چھین کر کھاجاتا ہے ۔“
”یعنی ان کے بچوں کی غذا،دودھ بھی نکال کر خود استعمال کرتا ہے ۔“بھالو نے بھیڑیے کی بات کی وضاحت کر دی۔

ریچھ خاموش ہوا تو بھیڑیے نے جنگل کے بادشاہ کو مخاطب کرکے کہا:”آپ حکم دیں تو ان سنگین جرائم کی سزا کے طور پر اسے مگر مچھوں کی ندی میں لے جا کر پھینک دوں ؟“
”نہیں ․․․․․․“جنگل کے بادشاہ نے اپنے رعب دار انداز میں کہا۔
سارے جنگلی جانوروں نے حیرت سے اپنے بادشاہ سلامت کی طرف دیکھا۔بادشاہ سلامت بولے :”ہم نے جانوروں کا انتقال لینے کے لیے اسے یہاں نہیں بلوایا۔“
تمام درندوں نے ایک بار پھر حیرانگی کے ساتھ ببر شیر کو دیکھا۔
جنگل کے بادشاہ نے جانوروں کی بجائے مجھے مخاطب کرکے کہا:”اے انسان! آج میں نے تمھیں اس لیے اپنی عدالت میں بلوایا ہے کے تمھیں اپنے جیسے انسانوں کی زندگی عذاب بنانے کے جرم کی سزادوں ۔

میں نے منھ سے تو کچھ نہیں کہا،مگر اس طرح انھیں دیکھا،جیسے کہہ رہا ہوں کہ میں کچھ سمجھا نہیں عالی جاہ․․․․؟
”اللہ نے تمھیں اپنی تمام مخلوقات میں سب سے اچھا ،سب سے اعلارُتبہ اس لیے عطا نہیں کیا ہے کہ تم انسان دوسری مخلوقات کے ساتھ ساتھ اپنے جیسے انسانوں کو بھی جینے کا حق نہ دو! ذرا سوچو ․․․․․ذرا غور کرو ،تم لوگ آج اپنی دنیا میں کیا کچھ نہیں کر رہے ہو ۔
محض اپنے آپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے انسانی غذاؤں میں ملاوٹ کررہے ہو۔حدیہ ہے کہ جان بچانے والی دوائیں بھی نقلی بناتے ہو اور ․․․․․․“اتنا کہ کر جنگل کا بادشاہ ذرا رکا۔پھر بڑے دیکھ بھرے لہجے میں بولا:”ذرا ذرا سے اختلاف پر اپنے جیسے انسانوں کو گولی مار دیتے ہو۔
کہیں تھوڑی سی زمین اور جائداد کے حصول کے لیے ،کہیں دوسروں کے علاقوں اور ملکوں پر قبضہ کے لیے اپنے جیسے لاکھوں انسانوں کو خون میں نہلا دیتے ہو اور اب ․․․․اب تو تم انسانوں نے ظلم اور بربریت کی حد کر دی ہے ۔
مذہب کے نام پر بھی خون خرابے کا بازار گرم کر رکھا ے ۔
مذہب تو امن دوستی اور بھائی چارے کا سبق دیتا ہے ،مگر تم نے عبادت گاہوں میں گھس کر بے قصور لوگوں کو بھی مارنا شروع کر دیا ہے ۔ہائے ،یہ کیسی زندگی ہے ۔کہیں آتشیں اسلحے سے آگ برساتے ہو،کہیں دھما کے کرکے آن کی آن میں بہتوں کو ایک ساتھ موت کی نیند سلا دیتے ہو ۔

شیر ببر ایک لمحے کو رکا،پھر مجھ سے بولا:”بولو․․․․․بتاؤ ․․․․․جواب دو․․․․․․کیا تمھارے لیے یہ قابلِ جرم سزا ہے کہ نہیں ،کیا یہی انسانیت ہے ؟کیا اللہ نے انسان کو اس لیے اس دنیا میں بھیجا ہے ․․․․․؟“
میں نے پہلی بار منھ کھولا اور جنگل کے بادشاہ کی طرف دیکھ کر بولا:”عظیم جنگل کے عظیم شہنشاہ ! جن جرائم کے بارے میں آپ نے بتایا ہے ، وہ نہ انسانیت ہے نہ اس کے مرتکب انسان ہیں ۔

”کیا مطلب ․․․․․؟“
”مطلب یہ ہے شہنشا ہ عالی مقام ! کہ جس طرح بھیڑ کی کھال میں کچھ بھیڑیے شکار کرتے ہیں ،اسی طرح انسانوں کے روپ میں یہ انسان دشمن ،انسانوں کو اپنی گندی باتوں اور عادتوں سے بد نام کرتے ہیں ۔
عالی جاہ ! انسان تو مدر ٹریسا بھی تھیں ،انسان تو نیلسن منڈیلا بھی تھے ،انسان تو عبدالستار ایدھی بھی تھے ۔انسان تو ڈاکٹر روتھ فاؤ بھی تھیں ۔آپ نے یقینا سنا ہو گا کہ انھوں نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی بہبود کے لیے ،انسانوں کی خدمت کے لیے وقف کررکھی تھی ۔

”ہاں ،سنا ہے ․․․․․ہم جنگل میں ضرور رہتے ہیں ،مگر انسانوں کی دنیا کی بھی خبر رکھتے ہیں ،مگر اے انسان ! یہ تو چند لوگ ہیں ۔کیا تمھاری دنیا میں انسان کہلا نے کے حق دار بس ایسے ہی چند لوگ رہ گئے ہیں ۔
”نہیں عالم پناہ ! ایسی بات نہیں ۔
“میں نے فوراً جواب دیا:”ایسے بے شمار لوگ تھے اور آج بھی موجود ہیں ،جنھوں نے اپنے جیسے انسانوں کے آرام کے لیے ،ان کی بھلائی اور بہبود کے لیے ،ان کے دکھ درد دور کرنے کے لیے نت نئے اچھے کام کیے۔“
”کیسے اچھے کام؟ہمیں بھی تو کچھ بتاؤ۔
“شیر ببر نے نرم لہجے میں کہا۔
”عالی جاہ ! ایک وقت تھا جب انسان گھوڑوں ،خچروں ،اونٹوں ،بیلوں اور گدھوں کو اپنی سواری اور بار برداری کے لیے استعمال کرتا تھا ،جس سے سفر دشوار ہوتا تھا اور جانوروں کے علاوہ انسانوں کو بھی تکلیف برداشت کرنی پڑتی تھی ۔
کچھ انسان دوست لوگوں نے اس مشکل کو آسان کرنے کے لیے ایسی سواریاں ایجاد کیں ،جن سے سفر اور بار برداری میں بہت نمایاں فائدہ ہوا۔انھوں نے ریل گاڑی بنائی ،موٹر ،ٹرک اور بسیں بنائیں ۔“
”ہاں ،ہمیں معلوم ہے ۔“ببر شیر بولا:”ایسی سواریوں سے جہاں انسانوں کو زیادہ سہولت ملی ،وہاں ہمارے جانوروں کو بھی بڑی حد تک سکون ملا اور بھی کچھ بتاؤ ،انسان زادے !“
میں نے کہنا شروع کیا :”ایک وقت تھا ،جب انسان غاروں میں رہتا تھا ۔
جو بڑی تکلیف دہ زندگی ہوتی تھی ۔ان ہی میں کچھ زندگی لوگوں نے اپنے علم اور سوجھ بوجھ سے گھر بنایا شروع کیے۔جو جھونپڑیوں سے ہوتے ہوئے پختہ مکانوں تک پہنچے ۔پہلے انسانوں کے لیے چاند سورج ہی روشنی کا ذریعہ ہوتے تھے ۔جب سورج ڈوب جاتا تو لوگ بھی اندھیروں میں ڈوب جاتے تھے ۔
ایسے میں کچھ انسانوں نے روشنی پیدا کرنے کے لیے مصنوعی طریقے ایجاد کیے ۔آخر بجلی ایجاد کی ،جس سے روشنی کے علاوہ مختلف قسم کی توانائی بھی حاصل کی جانے لگی اور شہنشاہِ مکرم ! کچھ انسان دوستوں نے نسلِ انسانی کو مزید فائدہ پہنچانے کے لیے زمین کا سینہ چاک کرکے پیٹرول ،گیس اور دوسری معدنیا ت نکالی ہیں ۔

جس نے انسانی زندگی کو اور آسان بنایا۔گاڑیوں اور گھروں کے ایندھن کے طور پر کام میں لا کر مزید آسانیاں پیدا کیں ۔مِلوں اور کا ر خانوں کے کام کو اور آسان کیا۔“
”اور ․․․․․“شیرکے قریب کھڑی لومڑی نے میرے مزید کچھ کہنے سے پہلے کہا:”یہ بھی تو بتاؤ انسان زادے ! کہ بے شمار آتشیں اسلحوں ،بموں ،میزائلوں ،ٹینکوں ،توپوں اور خطر ناک ترین جنگی آلات سے تم لوگ جو انسانیت کی خدمت کررہے ہو․․․․انسانی زندگیوں کی تباہی وبربادی کا خطر ناک کھیل کھیلنے والوں کے بارے میں بھی بتاؤ ․․․․․یہ کون ہیں اور کیسی خدمت کررہے ہیں ؟“
جنگل کے شہنشاہ نے تعریقی نظروں سے لومڑی کی طرف دیکھ کر کہا:”دیکھو ،ہماری وزیرِ خارجہ کتنی باخبر ہے ۔
تمھاری دنیا کے خطر ناک انسانوں اور ان کے عزائم سے کتنی واقف ہے ۔بولو․․․․جواب دو ․․․․․․یہ کیا ہے ،کیسی انسانی خدمت ہے ؟“
”شہنشاہِ عالی مقام ! آپ کا اقبال بلند ہو ۔آپ کی وزیرِ خارجہ کی سوجھ بوجھ اور علم ودانش سے تو ایک عالم باخبر ہے ۔
انھوں نے جن باتوں کی نشاندہی کی ہے ،وہ غلط نہیں ہے ۔میں پھرایک بار یہی عرض کروں گا کہ یہ بھیڑ کی کھال میں بھیڑیوں کا کام ہے ۔جو لوگ ہماری دنیا میں یہ کھیل کھیل رہے ہیں اور انسان نہیں ،انسان کے روپ میں شیطان ہیں ،انسان دشمن ہیں ۔
ہماری دنیا میں جتنے بھی انسان ہیں ،شیطان کے ان نمایندوں سے نفرت کرتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ لڑنا جھگڑنا ،ایک دوسرے کو مارنا ،منقصان پہنچا نا انسانیت نہیں ۔انسان دشمنی ہے ۔جو لوگ انسانوں کے دوست ہیں ،وہ انسانوں کو مارتے نہیں ان کی زندگی بچاتے ہیں ۔
شہنشاہِ مکرم ! آپ کی دور اندیش وزیرِ خارجہ اس بات سے ضرور باخبر ہوں گی کہ ہماری دنیا میں جولاکھوں اسپتال ہیں ،ان میں کروڑوں ڈاکٹر زدن رات بیمار اور دکھی انسانوں کی جان بچانے میں مصروف رہتے ہیں۔ آپ کی وزیرِ خارجہ کو یقینا یہ بھی علم ہو گا کہ ہماری دنیا میں ایسے انسان بھی ہیں ،جو انسان کی زندگی بچانے والی دوائیں بناتے رہتے ہیں ۔
پہلے بہت سی مہلک بیماریوں کی دوانہ ہونے کی بنا پر بہت سی جانیں ضائع ہوجاتی تھیں ،مگر ان کی دوائیں بن جانے کی وجہ سے اب انھیں بچایا جا سکتا ہے “
جنگل کے بادشاہ نے سوالیہ نگاہوں سے اپنی وزیرِ خارجہ کی طرف دیکھا۔
”جی ہاں یہ درست ہے ۔
“لومڑی بولی :”جیسے پہلے سانپ نے جسے کاٹا ،اس کی موت یقینی تھی ،مگر جب سانپ کا زہر زائل کرنے کی دواا نھوں نے بنالی تو اب سانپ کے ڈسنے پر کوئی نہیں مرتا ۔اسی طرح دوسری جان لیوا بیماریوں کی دوائیں بھی بنالی گئی ہیں ۔“
”اگر انسان زندہ ہے ۔
“جنگل کے بادشاہ نے کہا :”اور انسان دشمنوں کے خلاف لڑرہا ہے تو یہ انسان بھی قابلِ معافی ہے ۔جاؤ ․․․․اسے باعزت طریقے سے جہاں سے لائے ہو ،وہیں پہنچا دو“
شیر ببر کے حکم پر بھیڑ یے اور بھالو نے مجھے پھر بازوؤں سے پکڑ ا اور کچھ دور تک شرافت کے ساتھ لے گئے ،مگر جیسے ہی شیر اور اس کے ساتھیوں کی نظروں سے اوجھل ہوئے دونوں نے انتہائی خباثت سے مجھے اُچھالتے ہوئے :”جاؤ ،دفع ہو جاؤ ۔

اور میں تھوڑی دور جا کر کسی درخت کے تنے سے ٹکرایا تھا اور ․․․اور میری آنکھ کھل گئی تھی ۔میں نے دیکھا ،میں اپنے کمرے میں کرسی پر بیٹھا ہوں اور میرا سررائٹنگ ٹیبل پر ہے ۔میز پر کاغذ ،قلم دیکھ کر مجھے یاد آیا۔میں ہمدردنونہال کے لیے کہانی لکھنے بیٹھا تھا ور سوچ رہا تھا کہ کیا لکھوں ․․․․شاید سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی تھی ۔

Your Thoughts and Comments