Gaon Ka Khawab

گاؤں کا خواب

دادا جان کی باتیں سن کر اس کے دل میں گاؤں جانے کی خواہش بڑھ رہی تھی․․․․․․

پیر دسمبر

gaon ka khawab
پرویز شہریار۔نئی دہلی16-(انڈیا)
”پیارے بچو!
”آج میں تمہیں اپنے بچپن کی کہانی سناتا ہوں ۔“دادا نے کھنکارتے ہوئے اپنا گلا صاف کیا ور کہا۔
”تم میں سے کس کس نے دھان کا پودا دیکھا ہے“۔

یہ سوال میرے سماجی سائنس کے استاد نے کیا تھا ۔اُس وقت ہماری جغرافیہ کی کلاس تھی۔تب میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔کلاس کے زیادہ تر بچوں نے اپنے اپنے ہاتھ اُٹھا کر بیک آواز کہا تھا۔”سر!ہم نے دیکھا ہے ۔سر میں نے دیکھا ہے ۔
سر میں نے بھی دیکھا ہے۔“
لیکن میں اپنے ہاتھ اُوپر نہ کرپایا۔مجھے بڑا افسوس ہوا۔میں اپنی کلاس کا مانیٹر تھا ۔ہر سال امتیازی نمبروں سے پاس ہوتاتھا۔مجھے بہت خجالت محسوس ہوئی۔میں کبھی گاؤں نہیں گیا تھا ۔

(جاری ہے)

بچپن سے ہی ہم نے کل کار خانوں سے بھرے صنعتی شہر جمشیدپور میں پرورش پائی تھی۔


کبھی کھیت کھلیان دیکھنے کا موقع نہیں ملا تھا ۔اُس وقت تک میں خود کو کافی بڑا سمجھنے لگا تھا جب کہ میری عمر صرف بارہ سال تھی۔
میرے استاد ہمیں بتارہے تھے کہ دھان کی کھیتی کب اور کیسے کی جاتی ہے۔
آشاڑھ کے مہینے میں جب بارش کی ہلکی ہلکی پھوار مسلسل پڑرہی ہوتی ہے تب دھان کے بیج بوئے جاتے ہیں ۔
ساون کے مہینے میں جب ننھے ننھے پودے نکل آتے ہیں ۔تب انھیں اُکھاڑ کر اصل کھیت میں بویا جاتا ہے ۔دھان کے ایسے چھوٹے چھوٹے پودوں کو چارا کہا جاتاہے۔
دھان بونے سے پہلے کھیت کو خوب اچھی طرح سے تیار کیا جاتا ہے ۔اس پر ہل چلایا جاتا ہے ۔
کھیت کی مٹی ہموار کی جاتی ہے ۔اس کے بعد کھیت میں پانی کھڑا کیا جاتا ہے ۔جب مٹی پانی سے مرطوب ہوکر کیچڑ جیسی ہوجاتی ہے ،تب اس میں بالشت بھر کے دھان کے ننھے ننھے پودے بودےئے جاتے ہیں ۔یہ کام جتنی جلدی مکمل ہو سکے اتنا اچھا ہوتا ہے ۔
لہٰذا ،گاؤں کے سبھی عورت مرد کاشتکاری مزدور اس کام کو مل جل کر انجام دیتے ہیں ۔دھان کے پودے لگاتے وقت ان کے پاؤں کیچڑ جیسی مٹی میں ٹخنوں تک ڈوبے رہتے ہیں ۔اس لیے وہ اپنی دھوتی یا ساڑی گھٹنے تک موڑ کے اُوپر کمر میں کھونس لیتے ہیں ۔
ایک ایک پودے کو اپنے ہاتھ سے گیلی مٹی کے اندر پیوست کرکے اس کی جڑ کو مٹ میں دبا دیا جاتا ہے ۔یہ عمل ایک یاڈیڑھ فٹ کی یکساں دوری پروہ اتنے جیو میٹر یائی انداز سے انجام دیتے ہیں کہ دور سے دیکھو تو یہ نظارہ بڑا دلفریب معلوم ہوتا ہے ۔
ان میں ایک خاص ترتیب نظرآتی ہے ۔حالاں کہ یہ لوگ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے بلکہ کچھ تو اِن میں اَن پڑھ ہی ہوتے ہیں ۔لیکن ان کے اندر چیزوں کو سمجھنے کی خداداد صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔
”ہاں ! ایک بات تو بتانا ہی بھول گیا۔
“دادا جان نے اپنی ٹوپی اُتاری اور سرکھجاتے ہوئے کہا۔
”دھان کے پودے لگاتے وقت ان میں خدمتِ خلق کا جذبہ ہوتا ہے ۔وہ کوئی نہ کوئی مقامی گیت گاتے رہتے ہیں ،جس سے ان کے اندر کام کرنے کا نیا جوش اور توانائی پیدا ہو جاتی ہے ۔
وہ دھان کی بوائی کے دوران چائے نہیں پیتے ،پان اور تمبا کو بھی نہیں کھا سکتے ۔چنانچہ ،اپنے ساتھیوں میں جوش پیدا کرنے کے لیے وہ کوئی لوک گیت گاتے رہتے ہیں ۔گیت بھی اکثر وبیشتر اپنے کسی بزرگ ،صوفی سنت یا انّا داتا کو منسوب کرکے گاتے رہتے ہیں “۔

دادا کے گردوپیش بیٹھے ان کے پوتے پوتیاں سبھی بڑے دھیان سے ان کے بچپن کی کہانی سن رہے تھے ۔
ان میں سے کوئی بھی چوں وچرا تک نہیں کررہا تھا ۔دادا بچوں کی ایسی دلچسپی دیکھ کر اپنی کہانی سنانے میں مگن تھے ۔انھوں نے ہلکی سی کھنکار کے ساتھ اپنا گلا صاف کیا اور رقصے سنانے کے عمل کو جاری رکھا۔

”بچو! ساون بھادو کے مہینوں میں دھان کی فصل لہلہا نے لگتی ہے ۔دھان موسم باراں کی فصل ہے ۔اسے خریف کی فصل بھی کہتے ہیں ۔
یہ آشوین کے مہینے میں دیوالی کے فوراً بعد کاٹنے کے لیے تیار ہوجاتی ہے ۔اسے چھٹ پوجا کے بعد کاٹ کرکھلیان پہنچا دیا جاتا ہے ۔دھان کی کھیتی ایک اجتماعی عمل ہے ۔اس کا م میں گاؤں کے سبھی لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔

Your Thoughts and Comments