3 lakh ki chori

3 Lakh Ki Chori

تین لاکھ کی چوری

منصور اور منیر شامی کی بہنیں بانو اور شہلا ٹاور ہاؤس گرائمر اسکول میں پڑھتی تھیں- یہ ایک پرائیویٹ اسکول تھا اور اس کو بیگم نایاب نامی ایک خاتون چلاتی تھیں

مختار احمد (اسلام آباد)
منصور اور منیر شامی کی بہنیں بانو اور شہلا ٹاور ہاؤس گرائمر اسکول میں پڑھتی تھیں- یہ ایک پرائیویٹ اسکول تھا اور اس کو بیگم نایاب نامی ایک خاتون چلاتی تھیں- وہ اس کی مالک بھی تھیں اور پرنسپل بھی-
وہ ایک بہت اچھی اور نیک دل خاتون تھیں- ان کا یہ اسکول پلے گراؤنڈ سے میٹرک تک تھا- اس کا نظم و نسق اور پڑھائی اتنی اچھی تھی کہ لوگ دور دور سے اپنے بچوں کو اس اسکول میں پڑھنے کے لیے بھیجتے تھے-
میڈم نایاب ایک سمجھدار خاتون تھیں اور یہ جانتی تھیں کہ اگر ان کے اسکول کا اسٹاف خوشحال ہوگا تو وہ اپنی ذمہ داریوں کی طرف زیادہ دھیان دے گا- اس لیے انہوں نے اسکول میں کام کرنے والی ٹیچروں اور دوسرے اسٹاف کی بہترین تنخواہیں مقرر کی تھیں جس کی وجہ سے وہ لوگ بہت خوش تھے اور دل لگا کر اپنے فرائض انجام دیتے تھے- یہ ہی وجہ تھی کہ اس اسکول میں پڑھنے والے بچے بہت زیادہ قابل اور ذمہ دار تھے-
ایک روز بانو اسکول سے گھر آئی تو وہ گھبرائی ہوئی سی لگ رہی تھی- اس نے خاموشی سے کتابوں کا بیگ ایک طرف رکھا، یونیفارم بھی تبدیل نہیں کیا اور ڈرائنگ روم کی کھڑکی کے پاس کھڑی ہو کر کچھ سوچتے ہوئے باہر پودوں کو دیکھنے لگی-
منصور ڈرائنگ روم میں ہی بیٹھا ہوا تھا- اس نے بانو کو اداس دیکھا تو بولا- "بانو بیگم- کیا ٹیسٹ میں مارکس کم آئے ہیں جو اتنا اداس نظر آ رہی ہو- ہر وقت کھیل کود میں لگی رہو گی تو یہ ہی ہوگا- خیر اب تم فکر مت کرو- میں آج سے روز شام کو تمہیں پڑھایا کروں گا"-
"منصور بھائی یہ بات نہیں ہے"- بانو اس کے قریب آ کر بیٹھ گئی- "ہماے اسکول میں ڈاکہ پڑ گیا ہے- ڈاکو میڈم نایاب کے آفس کے سیف میں سے تین لاکھ روپے لے گئے ہیں- وہ بہت پریشان ہیں- مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے- ڈاکوؤں کے پاس پستولیں بھی تو ہوتی ہیں نا؟"-
منصور نے دلچسپی سے پوچھا- "یہ کیسے ہوا؟ میڈم نے اتنی بڑی رقم اپنے آفس کے سیف میں کیوں رکھی تھی؟"-
"یہ تو مجھے نہیں پتہ- انکل رشید کے سب انسپکٹر عارف اس کیس کی تفتیش کر رہے ہیں وہ میڈم کے ڈرائیور کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں مگر ڈرائیور انکل تو بہت شریف آدمی ہیں، وہ یہ کام نہیں کرسکتے- آپ اور منیر بھائی تو اتنے بہت سے مجرموں کو پکڑوا چکے ہیں- ان ڈاکوؤں کو بھی پکڑوادیں نا"- بانو نے امید بھری نظروں سے اسے دیکھا-
"تم فکر مت کرو- ہم ان مجرموں کو ضرور پکڑ وائیں گے- تم جا کر کپڑے تبدیل کرو- کھانا کھاؤ اور تھوڑی دیر کے لیے سو جاؤ- اور دیکھو- ہمیں ان چوروں ڈاکوؤں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- یہ لوگ بزدل ہوتے ہیں- جب انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ لوگ ان سے ڈرتے ہیں تو یہ شیر ہوجاتے ہیں- یہ اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں"-
"میں جب ان کی بڑی بڑی مونچھیں اور ہاتھ میں پستول یا کوئی دوسری گن دیکھتی ہوں تو مجھے تو منصور بھائی ان لوگوں سے بہت ڈر لگتا ہے"- بانو سہمے ہوئے لہجے میں بولی-
"تم ایک با ہمت لڑکی ہو-ویسے بھی آج کل کی لڑکیاں کیسے کیسے بہادری کے کام کرتی ہیں، تمہیں تو پتہ ہی ہوگا- پھر ہم ان جرائم پیشہ لوگوں سے کیوں ڈریں؟- ہماری مدد کے لیے ہمارے ملک میں بہت سے ادارے ہیں جن میں پولیس بھی شامل ہے- ہم لوگ بہادر بنیں گے تو اپنی پولیس کی مدد سے ان جرائم پیشہ لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں آسانی ہوگی"- منصور نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا-
بانو کچھ سوچتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی- اسے گئے ہوئے ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ منیر شامی آگیا- منصور اسے دیکھ کر بولا-
"چلو اوپر ہی بیٹھیں گے- تم بھی بانو اور شہلا کے اسکول میں ہونے والی ڈکیتی کی خبر لائے ہوگے"-
"یہ ڈکیتی کی نہیں چوری کی واردات ہے- کوئی چور خاموشی سے پرنسپل کے آفس میں داخل ہو کر سیف کا لاک کھول کر اس میں سے تین لاکھ روپے چوری کر کے چلا گیا"- منیر شامی نے کہا- "میڈم نایاب کا بیٹا یاسر میرا دوست ہے- ویسے تو اس کیس کی تفتیش انکل رشید کے پولیس اسٹیشن میں تعینات ان کا ایک سب انسپکٹر عارف کر رہا ہے مگر یاسر نے اس سلسلے میں ہمیں بلایا ہے اور درخواست کی ہے کہ ہم بھی اس معاملے کو دیکھیں- تم کہو تو ایک چکر لگا آئیں"- منیر شامی نے کہا-
"یاسر نے اس واقعہ کی کیا تفصیلات بتائی ہیں؟"- منصور نے پوچھا-
"تفصیلات تو کچھ نہیں بتائیں- اس سے مل کر ہی پتہ چلیں گی"- منیر شامی بولا-
"چلو چلتے ہیں- وہاں جانے میں کوئی حرج نہیں- مگر اس وقت تو اسکول بند ہوگیا ہوگا"- منصور نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا-
"اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا- یہ اسکول ایک بہت بڑے رقبے پر پھیلا ہوا ہے- میڈم نایاب کا بنگلہ اور ملازمین کے کوارٹر بھی اس میں ہیں- انہوں نے ایک بورڈنگ ہاؤس بھی اسی میں بنا رکھا ہے- اس بورڈنگ ہاؤس میں وہ ٹیچرز لڑکیاں رہتی ہیں جن کی اس شہر میں اپنی رہائش کا کوئی انتظام نہیں ہے"- منیر شامی نے بتایا-
کچھ دیر بعد وہ تیار ہو کر گھر سے نکلے- ان کا ڈرائیور دلاور ان کو لے کر ٹاور ہاؤس گرائمر اسکول پہنچا- منیر شامی نے یاسر کو موبائل پر اپنے آنے کی اطلاع دے دی تھی- وہ اسکول کے گیٹ پر ان کے استقبال کے لیے موجود تھا-
ڈرائیور دلاور کو باہر ہی انتظار کرنے کا کہہ کر وہ دونوں یاسر کے ساتھ اس کے گھر میں آئے- میڈم نایاب انھیں دیکھ کر بہت خوش ہوئیں- ان سے کھانے کا پوچھا- ان کے انکار پر انہوں نے گھر میں کام کرنے والی خادمہ سے ٹھنڈا مشروب لانے کا کہا اور پوری طرح لڑکوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئیں- منصور کو یہ دیکھ کر کچھ حیرت ہوئی تھی کہ میڈم نے ہاتھوں پر باریک کالے دستانے پہن رکھے تھے- اسے داستانوں کی طرف متوجہ دیکھا تو میڈم مسکرا کر بولیں- "گرمی میں دستانے بہت تکلیف دیتے ہیں مگر مجھے بہت ساری چیزوں سے الرجی ہے- انھیں چھو لوں تو ہاتھوں پر خارش شروع ہوجاتی ہے- اس لیے انہیں ڈاکٹر کے مشورے پر ہر وقت پہننا پڑتا ہے"- منصور نے مسکرا کر سر ہلا دیا-
"میڈم پہلے تو یہ بتائیے کہ اتنی بڑی رقم اپنے آفس میں رکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی تھی"-
منیر شامی کے اس سوال پر میڈم نایاب کے چہرے پر حیرت کے آثار نمودار ہوئے- وہ تحسین آمیز انداز میں بولیں- "بھئی اتنا اہم سوال تو ابھی تک مجھ سے اس سب انسپکٹر نے بھی نہیں پوچھا تھا جو اس معاملے کی تفتیش کرنے آیا تھا- یہ رقم میں نے بینک سے اپنے اسٹاف کو تنخواہیں دینے کے لیے منگوائی تھی- یہ کل کی بات ہے- ہمارا کیشئر ڈرائیور کے ساتھ بینک گیا تھا- یہ لوگ یہاں سے ایک بجے نکلے تھے- دو بجے ہمارا اسکول بند ہوجاتا ہے- انہیں آنے میں دیر ہوئی تو میں نے سب لوگوں سے کہہ دیا کہ اب وہ لوگ چھٹی کریں، ان کی تنخواہ کل ملے گی- کیشئر اور ڈرائیور چار بجے اسکول پہنچے- میں آفس میں ہی تھی اور کچھ کام دیکھ رہی تھی- ویسے بھی میں دیر تک کام کرنے کی عادی ہوں- کیشئر پیسے لے کر آیا ور بتایا کہ بینک میں بہت بھیڑ تھی اس لیے اسے دیر ہوگئی ہے- میں نے کیشئر سے پیسے لیے، انھیں گنا اور یہ سوچ کر آفس کے سیف میں رکھ دیا کہ کل نکال لوں گی- مگر آج صبح جب میں نے سیف کھولی تو وہ خالی پڑا تھا- روپے اس میں نہیں تھے"-
دونوں لڑکے خاموشی سے ان کی بتائی ہوئی تفصیل سن رہے تھے- وہ خاموش ہوئیں تو منصور نے پوچھا- "سیف کی چابیاں کہاں ہوتی ہیں؟"-
"وہ میری گاڑی کی چابیوں کے ساتھ ہوتی ہیں اور میں ان کو اپنے پاس ہی رکھتی ہوں- اس آفس کی چابی بھی ان ہی چابیوں میں موجود رہتی ہے"- میڈم نایاب نے بتایا-
"گاڑی آپ ہی چلاتی ہیں؟"- منیر شامی نے پوچھا-
"زیادہ تر میں ہی چلاتی ہوں- مگر میرا ڈرائیور بھی چھوٹے موٹے کاموں کے لیے اسے لے جاتا ہے جب کوئی دوسری گاڑی موجود نہیں ہوتی- کل وہ دونوں بینک میری ہی گاڑی میں گئے تھے- ہمارے پاس دوسری گاڑیاں بھی ہیں مگر چونکہ چھٹی کا وقت ہو رہا تھا اور ان گاڑیوں میں بچوں کو گھر چھوڑا جاتا ہے اس لیے میں نے بینک جانے کے لیے انھیں اپنی گاڑی دے دی تھی"-
"سب انسپکٹر عارف صاحب نے ڈرائیور کو کیوں گرفتار کیا ہے؟"- منیر شامی نے پوچھا-
"اسے گرفتار نہیں کیا ہے- پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا ہے- سب انسپکٹر کو جب یہ پتہ چلا کہ سیف اور آفس کی چابیاں گاڑی کی چابیوں کے ساتھ ہی ہوتی ہیں اور گاڑی وہ ڈرائیور بھی استعمال کرتا ہے تو وہ پوچھ گچھ کے لیے اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں- اس کی بیوی بے چاری بڑی پریشان ہے"-
"ڈرائیور کیسا آدمی ہے؟"- منیر شامی نے پوچھا-
"بہت ہی ایماندار اور نیک- مگر اس کی ایک حرکت نے اسے مشکوک بنا دیا ہے- کل شام کو وہ مجھ سے گاڑی مانگ کر لے گیا تھا- کہہ رہا تھا کہ بیوی کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہے- اس کی واپسی رات کو ہوئی تھی- جب میں نے یہ بات سب انسپکٹر کو بتائی تو اس نے کہا تھا کہ یہ بات ممکن ہے کہ اس دوران اس نے خاموشی سے آفس کھول کر سیف میں سے رقم نکال لی ہو کیوں کہ چابیاں تو اس کے پاس ہی تھیں- مجھے تو یقین نہیں مگر سب انسپکٹر نہیں مان رہا تھا"-
"ہم آپ کا آفس دیکھنا چاہتے ہیں"- منصور نے کہا- "اور ہاں- آپ کی چابیاں کہاں ہیں؟"-
میڈم نایاب نے اپنے پرس میں سے چابیوں کا گچھہ نکالا اور منصور کے حوالے کردیا-
"یہ بھی بتا دیجیے کہ ان میں سے سیف کی چابی کون سی ہے اور آفس کی کونسی ہے"- منیر شامی نے کہا- انہوں نے ان دونوں چابیوں کی نشاندہی کی- منیر شامی نے ان چابیوں کو کی رنگ سے نکال لیا اور باقی چابیاں میڈم کے حوالے کردیں- میڈم کسی کام سے اٹھ کر وہاں سے چلی گئیں-
منصور ان چابیوں کا جائزہ لے رہا تھا- اس نے چابیوں پر پر انگلیاں پھیریں تو اسے ان پر کچھ چکناہٹ سی محسوس ہوئی- اس نے انھیں سونگھا اور بولا- "اچھی خوشبو ہے"-
منیر شامی نے جلدی سے اس کے ہاتھ سے دونوں چابیاں لیں اور انھیں سونگھ کر بولا- "یہ تو صابن کی خوشبو لگتی ہے- اس کا مطلب ہے کہ ان چابیوں کو کسی صابن پر رکھ کر ان کی نقل اتاری گئی ہے اور پھر اس کی مدد سے نقلی چابیاں تیار کی گئیں"-
"بالکل یہ ہی بات ہوگی"- منصور نے مسکرا کر کہا-
دونوں لڑکے یاسر کو ساتھ لے کر میڈم کے آفس پہنچے-
آفس پہنچ کر منصور اور منیر شامی نے وہاں کا سرسری نظر وں سے ایک جائزہ لیا- پھر انہوں نے بڑی باریک بینی سے ہر چیز دیکھی-
منصور نے کہا- "چور نے نقلی چابیوں کی وجہ سے اپنا کام بڑی آسانی سے انجام دے دیا تھا- یہاں ایسے کوئی آثار نہیں ہیں کہ سیف کو کھولنے کے لیے زور آزمائی کی گئی ہو"-
اس کے بعد منیر شامی نے اپنی جیب سے ایک اسپرے پاؤڈر کا ٹن نکالا- اس کی شکل میٹل کے پرفیوم اسپرے کی سی تھی- اس نے سیف کے ہینڈل پر پاؤڈر چھڑک کر اس پر لگے انگلیوں کے نشانات ابھارے- منصور اپنے موبائل سے ان نشانات کی تصویریں بنانے لگا-
یاسر ان دونوں کی حرکتوں کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اور نہ صرف وہ حیران تھا بلکہ متاثر بھی نظر آتا تھا-
"یہ تمام چیزیں تم لوگوں نے کہاں سے سیکھی ہیں؟"- آخر اس نے پوچھ ہی لیا-
"ہمیں بہت سی چیزیں رشید انکل نے سکھائی ہیں- انھیں میرے اور منیر شامی کے شوق کا پتہ ہے اس لیے وہ جرائم کے کیسز کے بارے میں ہم سے بات چیت کرتے رہتے ہیں اور سراغرسانی کے متعلق مفید باتیں بھی بتاتے رہتے ہیں- اس کے علاوہ ہم کتابیں پڑھ کر اور نیٹ سے بھی بہت کچھ سیکھتے ہیں"-
"تمہیں ان کاموں کو کرتے ہوئے خوف محسوس نہیں ہوتا- جرائم کرنے والے تو بہت خوفناک قسم کے لوگ ہوتے ہیں"- یاسر نے ایک جھر جھری لیتے ہوئے کہا-
"یہ کام خطرناک سہی مگر جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ کام ہم اپنے ملک کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے کر رہے ہیں تو ہمیں کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا- اپنے ملک کے لیے اگر ہماری جان بھی چلی جائے تو برا نہیں"- منصور نے مسکرا کر کہا-
تھوڑی دیر میں میڈم بھی وہاں پہنچ گئیں- لڑکوں کا کام ختم ہوگیا تھا- منیر شامی نے کہا- "میڈم اگر اجازت دیں تو یہ چابیاں ہم اپنے پاس رکھ لیں- یہ ہمیں مجرموں تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوں گی"- میڈم نے اجازت دے دی-
انہوں نے میڈم اور یاسر کو خدا حافظ کہا- پھر وہ لوگ پولیس اسٹیشن آئے- انسپکٹر رشید کہیں گیا ہوا تھا- ان کی ملاقات سب انسپکٹر عارف سے ہوگئی- انھیں دیکھ کر وہ بہت تپاک سے ملا اور ہنس کر بولا- "بہت خوب- لگتا ہے آپ بھی اس کیس کی تفتیش کر رہے ہیں- مگر برا مت مانیے گا- اس دفعہ آپ کی کامیابی کی امید کم ہی نظر آتی ہے- میں اس کیس کے مجرم تک پہنچ گیا ہوں"-
"آپ کو کامیابی مبارک ہو"- منیر شامی نے ہنس کر کہا- "کیا آپ اجازت دیں گے کہ ہم میڈم کے ڈرائیور سے مل سکیں"-
سب انسپکٹر عارف کے چہرے پر عجیب سے تاثرات نظر آئے- اسے سو فیصد یقین تھا کہ ڈرائیور ہی اس چوری میں ملوث ہے- چابیاں اسی کی تحویل میں تھیں- اسی نے رات کو میڈم کے کمرے میں جا کر یہ چوری کی ہوگی- وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کیس کا کریڈٹ ان لڑکوں کے سر جائے- وہ سوچ میں پڑ گیا کہ انھیں حوالات میں بند ڈرائیور سے ملوائے یا نہیں- پھر اسے خیال آیا کہ اگر اس نے انکار کیا تو لڑکے اس کی شکایت انسپکٹر رشید سے کریں گے- اس لیے اس نے بادل نخواستہ انھیں اس سے ملوانے کے لیے ایک سپاہی کے ساتھ بھیج دیا-
ڈرائیور حوالات میں گھٹنوں میں سر دیے بیٹھا تھا- انھیں دیکھا تو سیدھا ہو کر بیٹھ گیا- منصور نے کہا- "بابا آپ بالکل پریشان نہ ہوں- ہمیں آپ سے کچھ سوالات کرنا ہیں"- ڈرائیور خاموشی سے اس کی شکل دیکھے جا رہا تھا- منصور نے پھر کہا- "ہمیں یہ بات معلوم کرنا ہے کہ کل آپ کو بینک میں دیر کیوں ہوئی تھی؟"-
"ہمیں بینک میں تو دیر نہیں ہوئی تھی- چیک دے کر اظہار الدین کو فوراً ہی پیسے مل گئے تھے"- اس کا سوال سن کر ڈرائیور نے بتایا- اظہار الدین اس کیشئر کا نام تھا-
"تو پھر تم لوگ دیر سے اسکول کیوں پہنچے تھے؟"- منیر شامی نے حیرت سے کہا-
"اظہار الدین کی وجہ سے- وہ کہہ رہا تھا کہ پھر گاڑی ملے نہ ملے- مجھے کچھ ضروری کام بھی ہیں ان کو نمٹا لوں- اس نے ایک بازار میں گاڑی رکوا کر مجھ سے کھانا بھی منگوایا تھا- مجھے بوتل بھی پلائی تھی- پھر وہاں سے وہ مجھے لے کر ٹرنک بازار آیا- اسے شاید کوئی صندوق خریدنا تھا مگر اس نے خریدا نہیں، کیوں نہیں خریدا، مجھے نہیں پتہ کیوں کہ وہ مجھے گاڑی میں ہی بیٹھے رہنے کو کہہ گیا تھا- وہاں اس نے کافی دیر لگا دی تھی- اسکول پہنچ کر اس نے مجھے پانچ سو روپے بھی دیے تھے اور کہا تھا کہ میڈم پوچھیں تو یہ کہہ دینا کہ بینک میں دیر ہوگئی تھی- لیکن میڈم نے مجھ سے کچھ پوچھا ہی نہیں تھا- اگر پوچھتیں تو میں تو انھیں صاف صاف بتا دیتا کہ ہمیں بینک میں دیر نہیں ہوئی تھی، اظہار الدین ہی مجھے اپنے ساتھ ساتھ لیے پھر رہا تھا"-
منصور اور منیر شامی خاموشی سے اس کو دیکھنے لگے- تھوڑی دیر بعد وہ لوگ پولیس اسٹیشن سے باہر آگئے-
وہاں سے نکل کر منصور نے ایک جنرل اسٹور سے ایک صابن لیا- اس نے اس صابن کا ریپر اتارا اور سیف کی چابی کو اس پر رکھ کر اس کو پوری قوّت سے دبایا- صابن کی ٹکیہ نرم و نازک تھی، چابی اس میں دھنستی چلی گئی- جب چابی صابن کی سطح کے برابر اس کے اندر چلی گئی تو منصور نے آہستگی سے اسے ناخن کی مدد سے باہر نکال لیا- اس کی شبہیہ صابن کی سطح پر ظاہر ہو گئی تھی- اس نے دلاور سے کہا- "اب ہمیں ٹرنک بازار چلنا ہے"-
ٹرنک بازار زیادہ دور نہیں تھا- وہ ایک بہت بڑے علاقے پر محیط تھا- یہاں پر ٹین کی چادروں سے چھوٹے بڑے صندوق بنائے جاتے تھے- اس وقت بھی کاریگر اپنے کاموں میں مصروف تھے اور ان کی ٹھونکا پیٹی سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی- بازار کے اندر جانے کے لیے ایک بہت بڑے دروازے سے گزرنا پڑتا تھا- اس دروازے کے دائیں اور بائیں جانب انھیں دو چابیاں بنانے والے نظر آئے-
منصور دائیں جانب والے چابی میکر کے پاس آیا- جیب سے صابن نکال کر اسے دیا اور بولا- "بھائی صاحب- ہمیں اس طرح کی چابی بنا دو"-
اس چابی بنانے والے نے صابن ہاتھ میں لیا اور پھر اسے گھورتے ہوۓ بے رخی سے بولا- "چلو چلو- میں یہ کام نہیں کرتا ہوں- تم شکل سے کسی اچھے گھر کے لگتے ہو، ورنہ میں تمہیں پولیس کے حوالے کر دیتا"-
"پولیس کے حوالے کیوں کردیتے- ہم نے کیا جرم کیا ہے"- منصور نے مسکرا کر پوچھا-
"کچھ بھی ہو- اس طریقے سے چابیاں یہاں نہیں بنتیں- ایسے کام کرنے والا وہ بیٹھا ہے"- اس نے دوسرے چابی والے کی طرف اشارہ کر کے کہا اور اپنی گود میں رکھے ہوئے دوپہر کے اخبار کو اٹھا کر چہرے کے سامنے کر لیا-
وہ لوگ اس دوسرے چابی بنانے والے کے پاس آئے- اس کی دوکان پر ایک بورڈ آویزاں تھا جس پر لکھا تھا "کی اینڈ لاک میکر"- منصور نے اسے صابن دکھایا تو وہ بولا- "ارے بھائی کیا یہ کسی خزانے کی چابی ہے- کل بھی مجھ سے ایک آدمی دو چابیاں بنوا کر لے گیا تھا- شکل سے تو وہ پڑھا لکھا لگ رہا تھا مگر تھا بھلکڑ- جاتے ہوئے اپنی نظر کی عینک یہیں چھوڑ گیا تھا اور بعد میں واپس بھی نہیں آیا "-
یہ سن کر منصور اور منیر شامی کے دل زور سے دھڑکے- منصور نے کہا- "تو پھر اس کی بھی ایک نقل بنا دیں"-
"ایک چابی بنانے کے پانچ ہزار روپے لگتے ہیں- دو گے؟"- چابی بنانے والے نے انھیں اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے کہا- منصور نے صابن اس کے ہاتھ سے لے لیا اور مایوسی سے بولا- "اتنے پیسے تو نہیں ہیں ہمارے پاس"-
ان کا کام ہوگیا تھا- وہ واپس گھر آگئے-
رات کے کھانے کے بعد منیر شامی بھی منصور کے پاس آگیا- ان کی ملاقات انسپکٹر رشید سے ہوئی- وہ مسکرا کر بولا- "پتہ چلا ہے کہ تم لوگ بانو کے اسکول میں ہونے والی تین لاکھ کی چوری والے کیس پر کام کر رہے ہو- یہ کیس میرے ہی پاس ہے اور اسے میں نے عارف کے سپرد کردیا ہے- وہ پر امید ہے کہ مجرم جلد ہی اقبال جرم کر لے گا"-
"میڈم نایاب کا بیٹا یاسر منیر شامی کا دوست ہے- اس نے اسے فون کر کے اس معاملے کو دیکھنے کا کہا تھا"-
"میں تو کسی دوسرے کیس میں مصروف ہوں"- انسپکٹر رشید نے بتایا- " تم لوگوں نے اس سلسلے میں کیا کیا ہے؟"-
"زیادہ تو کچھ نہیں مگر اندازہ ہے کہ ہم لوگوں نے اس چوری کے مجرم کا پتہ چلا لیا ہے"- منصور مسکرا کر بولا- "ہمیں آپ سے بھی مدد درکار ہے- ٹرنک بازار میں ایک چابی بنانے والا بیٹھتا ہے- اس کی دکان کا نام "کی اینڈ لاک میکر" ہے- صبح اس کو میڈم کے آفس میں بلانا ہے- دوسرا کام یہ ہے کہ ہمارے پاس چند انگلیوں کے نشانات ہیں- شناختی کارڈ کے محکمے سے پتہ کروانا ہے کہ وہ کس شخص کے ہیں"-
انسپکٹر رشید نے دونوں کام کروانے کی حامی بھر لی- منیر شامی نے کمپیوٹر سے پرنٹ کیا ہوا ایک کاغذ اس کے حوالے کر دیا جس پر ان انگلیوں کے نشانات تھے جو انہوں نے میڈم نایاب کے سیف کے ہنڈل پر سے حاصل کیے تھے-
اگلے روز کا ذکر ہے- منصور اور منیر شامی کے اسکول کے لڑکے کسی جگہ پکنک منانے جا رہے تھے- انہوں نے سر سے کہہ کر معذرت کرلی تھی کہ وہ لوگ نہیں جاسکتے انھیں ایک ضروری کام ہے- وہ وہاں سے سیدھے ٹاور ہاؤس گرائمر اسکول پہنچے- اسکول میں انسپکٹر رشید اپنے اسسٹنٹ سب انسپکٹر عارف کے ساتھ پہلے ہی سے موجود تھا- باہر چند پولیس والے بھی موجود تھے- پولیس کی موجودگی نے اسکول کے ملازمین اور بچوں پر اچھا اثر ڈالا تھا- ملازمین ادب اور خوش اخلاقی کی تصویر بنے پھر رہے تھے اور بچے دوسرے دنوں کی طرح کلاسوں میں شور نہیں مچا رہے تھے- ان کا دھیان پڑھائی سے زیادہ پولیس کے سپاہیوں کی طرف لگا ہوا تھا-
یہ دونوں بھی سیدھے میڈم نایاب کے آفس میں پہنچے- منیر شامی نے اندر پہنچتے ہی کہا- "میڈم اپنے کیشئر کو بھی یہیں بلوا لیجیے"-
میڈم نایاب نے اسکول کی بوا کو کہا کہ وہ اظہار الدین کو بلا لائے- تھوڑی دیر میں اظہار الدین وہاں پہنچ گیا اور کمرے میں ایک طرف کھڑا ہوگیا- وہ چالیس بیالیس سال کا ایک تنومند شخص تھا- اس کی شکل سے بالکل اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ کسی قسم کی گبھراہٹ محسوس کر رہا ہے-
"کیشئر کو کیوں بلایا ہے؟"- سب انسپکٹر عارف نے منصور سے سوال کیا-
" گرفتاری کے لیے"- منصور نے بڑے مزے سے کہا-
یہ سننا تھا کہ اظہار الدین چراغ پا ہو گیا- نہایت غصے سے چلایا- "میری گرفتاری کیوں؟ کیا کیا ہے میں نے؟"-
منصور نے فوراً جیب سے چابی کے نشان والا صابن نکال کر اس کو دکھایا- اس کے چہرے پر شدید حیرت کے آثار نظر آئے- اسی لمحے دروازہ کھلا اور دو سپاہی اس جعلساز چابی بنانے والے کو لے کر اندر داخل ہوئے- اظہار الدین کو دیکھ کر وہ چلایا- "میں بے قصور ہوں- یہ ہی وہ شخص ہے جس نے مجھے زیادہ پیسوں کا لالچ دے کر دو چابیوں کی نقل بنوائی تھیں"-
"اس کے علاوہ اظہار الدین صاحب- آپ کے انگلیوں کے نشانات سیف کے ہنڈل پر سے بھی مل گئے ہیں- اس پر صرف آپ کی ہی انگلیوں کے نشانات ملے تھے- میڈم تو ہر وقت دستانے پہنے رکھتی ہیں اس لیے ہنڈل پر ان کی انگلیوں کے نشانات نہیں تھے- پھر آپ کی عینک جو آپ اس چابی میکر کی دکان پر چھوڑ آئے تھے وہ بھی پولیس کے قبضے میں ہے"-
یہ سننا تھا کہ اظہار الدین کے اوسان خطا ہوگئے- اس کی ٹانگوں میں جیسے جان ہی نہیں رہی- وہ زمین پر بیٹھتا گیا اور پھر بے ہوش ہو کر گر پڑا- سب انسپکٹر عارف نے اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنا دی-
انسپکٹر رشید نے اٹھ کر دونوں لڑکوں کا شانہ تھپتھپایا اور بولا- "ویری گڈ- تم نے کمال کر دکھایا ہے- مگر اتنی جلدی تم مجرم تک پہنچے کیسے؟"-
سب انسپکٹر عارف اس صورتحال سے بوکھلا گیا تھا- وہ تو یہ ہی سمجھ رہا تھا کہ مجرم میڈم کا ڈرائیور ہے- منصور نے کہا- "ہم نے آفس اور تجوریوں کی چابیوں کا جائزہ لیا تو ان پر کچھ چکناہٹ سی محسوس ہوئی، انھیں سونگھ کر دیکھا تو ان میں سے صابن کی خوشبو آرہی تھی لہٰذا ہم سمجھ گئے ان چابیوں کو کسی صابن پر رکھ کر ان کا فرمہ بنایا گیا اور پھر اس کی مدد سے نقلی چابیاں- جب ہم نے میڈم نایاب کے ڈرائیور سے سوال جواب کیے تو بڑی آسانی سے پتہ چل گیا کہ اس سارے معاملے کے پیچھے اظہار الدین کیشئر کا ہاتھ ہے- شائد وہ بہت دنوں سے اس چوری کی منصوبہ بندی کر رہا تھا- کل جب میڈم نے اس سے اسٹاف کی تنخواہ نکلوائی تو وہ جان بوجھ کر رقم لے کر دیر سے آیا- تاکہ سارا اسٹاف چھٹی کر جائے اور میڈم اس رقم کو آفس میں موجود سیف میں رکھنے پر مجبور ہوجائیں- بینک سے واپسی پر اس نے بہانہ بنا کر ڈرائیور کو کھانا لینے بھیجا- اس کے جانے کے بعد اس نے گاڑی کے ڈیش بورڈ سے لٹکی چابیاں نکال کر ان کی شبہہ صابن پر اتاریں- پھر وہ ٹرنک بازار جا کر ان کی نقل بنوا کر لایا- سارے کام اس کی توقع کے مطابق ہو رہے تھے- وہ رات کو چھپتا چھپاتا آیا، نقلی چابی سے آفس کھولا اور پھر دوسری چابی سے تجوری اور یوں ساری رقم لے کر چلتا بنا"-
وہاں پر موجود سب لوگ منصور اور منیر شامی کو تحسین آمیز نظروں سے دیکھ رہے تھے- میڈم نایاب تو بہت ہی خوش تھیں- تھوڑی سی کوششوں کے بعد سپاہی کیشئر اظہار الدین کو ہوش میں لے آئے- وہ کسی سے نظریں نہیں ملا رہا تھا- اس نے وہ جگہ بھی بتا دی جہاں پر اس نے چرائی ہوئی رقم چھپا کر رکھی تھی-
تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر پورے اسکول میں پھیل گئی- ساری ٹیچرز منصور اور منیر شامی کو دیکھنے کے لیے آگئی تھیں- اپنی مس کے ساتھ بانو اور شہلا بھی وہاں موجود تھیں- - دونوں اپنے اپنے بھائیوں کے پاس آ کر کھڑی ہوگئیں- اپنے بھائیوں کے پاس کھڑے ہو کر انھیں ایک فخر کا احساس ہو رہا تھا-
یاسر دور کھڑا سوچ رہا تھا کہ اگر سب بہنوں کے بھائی بھی اسی طرح کے اور اس طرح کے دوسرے اچھے اچھے کام کریں تو نہ صرف ان کی بہنیں بلکہ ان کے ماں باپ بھی ان پر فخر کریں اور خوشی سے پھولے نہ سمائیں-
یاسر نے فون کر کے میڈیا اور اخبار والوں کو بھی بلا لیا تھا اور انھیں تین لاکھ روپوں کی چوری کے متعلق بتایا- یہ تفصیل سن کر انہوں نے نے منصور اور منیر شامی کو گھیر لیا اور ان سے مختلف سوالات کرنے لگے- دونوں نے ان سب کو کیس کی تفصیلات بتائیں- سب لوگ ان کے اس کارنامے پر حیران بھی تھے اور خوش بھی- اگلے روز کے اخبارات ایک مرتبہ پھر ان کی ذہانت کے اس کارنامے سے بھرے ہوئے تھے۔

Your Thoughts and Comments