BARKAT - Article No. 1079

برکت

لمبی سرخ گاجریں،سفید اور جامنی شلجم،درمیان میں مٹر کی پھلیاں گہرے جامنی رنگ کے صاف چمک دار بینگن جن کے سر پر تاج تھا ہلکے سبز رنگ کا گھیاکدو،دل للچانے والے سرخ ٹماٹر تازہ میتھی اور پالک غرض ٹھیلا سبزیوں کو عجیب بہار دکھا رہا تھا

بدھ فروری

BARKAT

عشرت جہاں
رمضو سبزی والے نے ٹھیلے کو جھاڑ بچھاڑ کر صاف کیا اور پھر ترتیب سے اس پر سبزیاں رکھنے لگا لمبی سرخ گاجریں،سفید اور جامنی شلجم،درمیان میں مٹر کی پھلیاں گہرے جامنی رنگ کے صاف چمک دار بینگن جن کے سر پر تاج تھا ہلکے سبز رنگ کا گھیاکدو،دل للچانے والے سرخ ٹماٹر تازہ میتھی اور پالک غرض ٹھیلا سبزیوں کو عجیب بہار دکھا رہا تھا ہرا دھنیا اور سبز مرچیں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھی تازہ صاف ستھری پھول گوبھی کھلی پڑی تھی سنہری پیاز ادرک کی گانٹھیں اور لہسن کی کلیاں مسکرارہی تھیں کڑوے کریلے ترتیب سے رکھے تھے ہری ہری بھنڈیوں نے بھی اپنی جگہ بنارکھی تھی اور پودینے کی خوشبونے بھی سماں باندھ رکھا تھارمضو نے خوش ہوکر ٹھیلے پر نگاہ دوڑائی ہرے بھرے ٹھیلے نے اسے مطمن کردیا پھر اس نے سبزیوں پر پانی کا چھڑکاﺅ کیا اور سبزیاں کھل اُٹھیں رمضو نے اللہ کا نام لیا اور ٹھیلا آگے بڑھادیا ترازو کے ساتھ ہی لکڑی کی صندوقچی رکھی تھی جس میں چند نوٹ اورکچھ ریز گاڑی پڑی تھی،آلو لے لو،پالک لے لو،ہرا پیاز ہے،پھول گوبھی ہے،لال لال ٹماٹر ہے،سفید شلجم ہے،گول والے بیگن ہے،رمضو نے گلی سے نکلتے ہوئے آواز لگائی ایک گلی سے دوسری سے تیسری گلی غرض رمضو کا سفر جاری تھا اسی طرح صدائیں بھی رمضو نے اپنا ترازو اس طرز کا بنالیا تھا کہ بظاہر ہر تول پوری ہوتی لیکن حقیقت میں وزن کم ہوتا تھا اس کے علاوہ رمضو دوسرے طریقوں سے بھی بے ایمانی کرتا تھا دوپہر تک ٹھیلے سے آدھی سے زیادہ سبزی بِک چکی تھی اور اس کے ساتھ صندوقچی بھی چھوٹے بڑے نوٹوں اور سکوں سے بھررہی تھی،رمضو دل ہی دل میں حساب کتاب کرکے خوش ہورہا تھا مگر صندوقچی میں موجود برکت بالکل مایوس تھی جب رمضو نے بے ایمانی کا پہلا سکہ صندوقچی میں ڈالا تو برکت دکھ سے چل اُٹھی مگر جب حسب معمول رمضو بے خبر رہا برکے سسکتی رہی بے ایمانی کے چند نوٹوں نے آہستہ آہستہ برکت کو کھالیا برکت ختم ہوگئی لیکن رمضو کو خبر بھی نہ ہوسکی شام ڈھلنے سے پہلے وہ گھر پہنچ گیا خالی ٹھیلا اس نے صحن کے ایک کونے میں کھڑا کیا اور صندوقچی بیوی کے حوالے کی اور خود ٹی وی چلا کر پاس پڑی چارپائی پر نیم دراز ہوگیا۔

(جاری ہے)

کل مال لانے کے لیے پیسے چھوڑ کر باقی اپنے خرچ کے لیے رکھ لو رمضو نے بیوی کو مخاطب کیا،بیوی پہلے ہی نوٹ اور ریز گاری الگ کرچکی تھی ہو نہہ خرچ پورا نہیں ہوتا اتنے پیسوں میں بڑی مشکل سے گزارا کرنا پڑا ہے بچے دونوں بیمار پڑگئے ہیںتو کیا کروں سارا دن محنت کرتا ہوں گلی گلی گھوم پھر کر جوتیاں چٹخاتا ہوں پھر بھی گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتا رمضو نے چِڑ چِڑے پن سے جواب دیا میں تو یہ کہہ رہی ہوں کہ خیرو برکت ہی نہیں رہی کسی چیز میں ہر چیز میں سے برکت ختم ہوگئی ہے میاں کو غصے میں آتا دیکھ کر وہ دھیرے سے بولی اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ رمضو کی بے ایمانی کی وجہ سے برکت نہیں رہی تھی،مہنگائی جو بڑھ گئی ہے حکومت بھی کچھ نہیں کررہی ہے عوام بے چاری کیا کرے رمضو نے ٹی وی پر نظریں جمائے ہوئے تبصرہ کیا اوربیوی سرہلاتے ہوئے کھانا نکالنے چل دی۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Pahaile

پہیلی

Pahaile

Fuzool Kharch Ka Hashar

فضول خرچ کا حشر

Fuzool Kharch Ka Hashar

Jashn E Azadi Mubarak Ho

جشن آزادی مبارک ہو۔۔۔تحریر: مختار احمد

Jashn E Azadi Mubarak Ho

Aqalmand Gadha

عقل مند گدھا

Aqalmand Gadha

Alik Slack

علیک سلیک

Alik Slack

Kamil Yaqeen

کامل یقین

Kamil Yaqeen

Kaale Hath

کالے ہاتھ

Kaale Hath

Kahil Sher

کاہل شیر

Kahil Sher

Paariyaan Aur Chamkeela Pathar

پریاں اور چمکیلا پتھر

Paariyaan Aur Chamkeela Pathar

Achhi Lomrii

اچھی لومڑی

Achhi Lomrii

Faraibiya

فریبیا

Faraibiya

Bhari Tohfa

بھاری تحفہ

Bhari Tohfa

Your Thoughts and Comments