Rechh Ka Shikar - Article No. 1128

ریچھ کا شکار

کاغان کی خوب صورت وادی مغربی پاکستان کے شمال میں واقع ہے۔ اس کا موسم کشمیر کی طرح نہایت خوشگوار ہوتا ہے۔ یہ علاقے چاروں طرف سے بلند پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے، جن میں صاف شفاف پانی کی ندیاں بہتی ہیں۔ اس وادی میں بالاکوٹ کے مقام پر ایک خوبصورت کوٹھی میں احسن کی والد جو محکمہ جنگلات کے افسر تھے، رہا کرتے تھے

جمعرات 31 مئی 2018

Rechh ka shikar

کاغان کی خوب صورت وادی مغربی پاکستان کے شمال میں واقع ہے۔ اس کا موسم کشمیر کی طرح نہایت خوشگوار ہوتا ہے۔ یہ علاقے چاروں طرف سے بلند پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے، جن میں صاف شفاف پانی کی ندیاں بہتی ہیں۔ اس وادی میں بالاکوٹ کے مقام پر ایک خوبصورت کوٹھی میں احسن کی والد جو محکمہ جنگلات کے افسر تھے، رہا کرتے تھے۔

احسن اور اس کا چھوٹا بھائی ضیا دونوں گرمیوں کا موسم اپنے والد کے پاس ہی گزارا کرتے۔ایک روز دونوں بھائی سیر کو نکلے۔ چوں کہ اس علاقے میں جنگلی جانوروں کا ہر وقت خطرہ رہتا ہے، اس لیے باہر جاتے وقت احسن اپنی شکاری بندوق ہمیشہ ساتھ لے جاتا اور آج بھی بندوق اس کے پاس ہی تھی۔
دونوں بھائی اطمینان سے باتیں کرتے چلے جارہے تھے کہ احسن نے ضیا کا بازو پکڑ کر اسے ایک دم ٹھہرادیا۔

(جاری ہے)

کیا ہے؟ ضیا نے گھبرا کر پوچھا اور پھر احسن کے منہ کی طرف دیکھنے لگا۔ ااس نے اسے خاموش کرنے کے لیے اس کے منہ پر اپنا دایاں ہاتھ رکھ دیا اور پھر فوراً ہی بندوق تان کر سامنے فائر کردیا، فائر کے ساتھ ہی وہ سڑک کے پار جھاڑیوں کی طرف بھاگا اور ضیا کو بھی اپنے پیچھے پیچھے بھاگنے کو کہا۔

اب ضیا سمجھا۔ اس نے دیکھا کہ سامنے سے ایک ریچھ کا بچہ لنگڑاتا ہوا بڑے عجیب انداز سے ان کی طرف چلا آرہا ہے۔ وہ گولی کھا کر زخمی ہوچکا تھا۔ جونہی وہ ان کے قریب آیا، اس نے اپنا منہ اور دونوں پنجے ان پر حملہ کرنے کے لیے اوپر اٹھائے، اس نے بڑھ کر بندوق کا دستہ ان کے منہ پر زور سے دے مارا جس سے اس کے منہ سے خون فوارے کی طرح بہنے لگا۔
زخمی تو وہ ہی چکا تھا۔ دوسری ضرب کھا کر اور کچھ دیر زمین پر تڑپنے اور شور مچانے کے بعد وہیں ختم ہوگیا۔ احسن نے خوشی کا ایک نعرہ لگایا اور ضیا کو ایسی نظروں سے دیکھنے لگا، گویا اس کی زبان سے اپنی بہادری کی تعریف سننا چاہتا ہے۔
اب اسے گھر لے چلیں؟ ضیا نے کہا۔ ہاں ابا جان کو دکھائیں گے۔ اس نے جواب دیا۔لیکن مجھے تو اس پر رحم آتا ہے تم نے اس بے چارے کو مارا کیوں۔ ضیا نے کہا۔”کیوں مارا؟ یہ موذی جانور ہے۔ نہ مارتے تو یہ ہمیں ماار ڈالتا، احسن نے مردہ ریچھ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور پھر ضیا کی طرف دیکھنے لگا لیکن ضیا نے اس کی بات نہ سنی کیوں کہ اس کی توجہ کسی اور طرف چلی گئی تھی۔
وہ گھبرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اس کے کانوں میں کچھ فاصلے پر سے خوفناک قسم کی آواز آرہی تھی اور اب اس آواز کو دونوںبھائی سن رہے تھے۔ یہ آواز لمحہ بہ لمحہ نزدیک آنے لگی، اچانک احسن نے گھبرا کر ضیا کو دونوں کندھوں سے پکڑ لیا۔

ریچھ! ریچھ آگیا۔
گھبراہٹ میں یہ الفاظ اس کے منہ سے نکلے اور سامنے ایک بہت بڑا سیاہ ریچھ نمودار ہوا۔ وہ اپنے خوفناک سر کو زمین کی طرف جھکائے بڑے خطرناک انداز سے آرہا تھا۔دونوںبھائیوں پر اس قدر دہشت چھاگئی کہ انہیں کچھ سوجھتا ہی نہ تھا۔
بندوق احسن کے ہاتھ میں تھی۔ لیکن اسے اندازہ تھا کہ گولی بھرنے اور نشانہ باندھنے سے پہلے ہی ریچھ اسے آلے گا۔ وہ بندوق زمین پر پھینک قریب کے ایک درخت پرچڑھ گیا اور ضیا کو بھی فوراً دوسرے درخت پر چڑھنے کی ہدایت کی۔ریچھ نہایت تیزی سے ادھر ادھر زمین کو سونگھتا ہوا اپنے بچے کے قریب آیا اور اسے چاروں طرف سے ہلا جلا کر سونگھنے لگا۔
ریچھ سونگھ کر معلوم کرلیتا ہے کہ لاش میں جان ہے یا نہیں جب اسے تسلی ہوگئی کہ بچہ مرچکا ہے تو اس نے ایک دردناک چیخ ماری جس سے سارا جنگل ہل گیا اور دونوں بھائیوں کے دل بھی دہل گئے۔ اب وہ لاش کو چھوڑ کر ان دونوں کی طرف لپکا۔
غصے کے مارے اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔پہلے وہ اس درخت کے قریب آیا جس پر خوفزدہ احسن بیٹھا ہوا تھا۔ ریچھ نے اپنا بھاری سر اوپر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور پھر اپنے پنجے درخت پر جما کر اس پر چڑھنا شروع کردیا۔ ضیا دور ایک درخت پر بیٹھا یہ نظارہ دیکھ رہا تھا اور خوف سے لرز رہا تھا۔
ابھی ریچھ احسن تک پہنچا نہ تھا کہ احسن چھلانگ لگا کر اسی درخت کے ساتھ والی شاخ پر کود گیا۔ ریچھ دوسری شاخ تک نہ جاسکتا تھا۔ اس لیے وہ اب نیچے اتر آیا تاکہ نیچے سے دوسری شاخ کی طرف جاسکے۔اسی دوران میں ضیا نے اپنے بھائی کی جان بچانے کے لیے اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیا۔
اس نے درخت سے نیچے اتر کر زمین پر پڑی ہوئی بندوق اٹھائی اور گولی بھر کر ریچھ پر نشانہ لگایا۔ ریچھ جو ابھی درخت کے تنے پر ہی چڑھنے کی کوشش کررہا تھا زخمی ہو کر ایک دم مڑا اور احسن کو چھوڑ کر ضیا کی طرف دوڑا جو اب بندوق پھینک کر دوبارہ درخت پر چڑھ رہا تھا۔
دونوں کے درمیان بہت کم فاصلہ رہ گیا تھا۔ ریچھ نے اپنا اگلا پنجہ اسے مارا جس سے وہ زخمی ہونے سے تو بچ گیا لیکن اس کی لٹکتی ہوئی قمیض کے ٹکڑے علیحدہ ہو کر ریچھ کے پنجے میں رہ گئے اور ریچھ پھسلتا ہوا زمین پر آگیا۔ احسن نے دوسرے درخت پر سے بھائی کو آواز دی کہ اور اوپر چڑھ جائے کیوں کہ ریچھ دوبارہ درخت پر چڑھ رہا تھا۔
اب جب احسن کو ضیا کی جان خطرے میں نظر آئی تو وہ درخت پر سے اترا اور ایک گولی ریچھ پر چلادی۔ ریچھ جو ضیا سے اب چند فٹ کے فاصلے پر تھا، گولی کھاتے ہی دھڑام سے زمین پر آگرا۔ اس دوسری گولی کا زخم اتنا کاری ثابت ہوا کہ وہ گرتے ہی ٹھنڈا ہوگیا۔
ضیا نے جو درخت کی بہت اونچی شاخ پر بیٹھا تھا، جب ریچھ کو اس طرح زمین پر گرتے دیکھا تو اس نے خیال کیا کہ شاید ریچھ کو گولی نہیں لگی بلکہ اس نے درخت پر سے احسن پر چھلانگ لگا دی ہے اور اب وہ احسن کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔یہ خیال آتے ہی وہ بھائی کے غم میں اپنے حواس کھو بیٹھا اور غش کھا کر درخت سے نیچے گر پڑا لیکن خوش قسمتی سے وہ مردہ ریچھ کے اوپر گرا جس کے بدن کی کھال اور بڑے بڑے بالوں نے اس کے لے گدیلے کا کام دیا، جب اسے ہوش آیا تو ریچھ کو مردہ اور بھائی کو زندہ دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی اور پھر دونوں بھائی ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔
اب ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ دونوں ریچھ اور اس کے بچے کو گھسیٹتے ہوئے گھر لے گئے اور جب دونوں بھائیوں نے سب واقعات گھر والوں کو سنائے تو وہان کی بہادری پرحیران رہ گئے اور دونوں بھائیوں کی اس محبت کی یادگار کے طور پر ریچھ اور اس کے بچے کی کھال اتروا کر انہوںنے اپنے کمرے کی دیوار پر لٹکادی۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Jab Main Nannha Sa Tha

جب ننھا سا تھا

Jab Main Nannha Sa Tha

Fuzool Kharch Ka Hashar

فضول خرچ کا حشر

Fuzool Kharch Ka Hashar

Masoom Mujrim

معصوم مجرم

Masoom Mujrim

Azadi Mil Gai

آزادی مل گئی

Azadi Mil Gai

Ladli Shehzadi

لاڈلی شہزادی

Ladli Shehzadi

Anokha Chor

انوکھا چور۔۔ تحریر: مختار احمد

Anokha Chor

Sharfoo Ki Kahani

شرفو کی کہانی

Sharfoo Ki Kahani

Choti Naiki Ko Haqeer Na Samjho

چھوٹی نیکی کو حقیر نہ سمجھو

Choti Naiki Ko Haqeer Na Samjho

Asaal Khoobsoorti - Pehli Qist

اصل خوبصورتی۔پہلی قسط

Asaal Khoobsoorti - Pehli Qist

Maloomat

معلومات

Maloomat

Harkat Main Barkat

حرکت میں برکت

Harkat Main Barkat

Khirki K Paar

کھڑکی کے پار

Khirki K Paar

Your Thoughts and Comments